منافع سے پہلے اعتماد کمائیں

وقاص بیگ
شہر کے قدیم بازار میں حارث کی ایک بڑی دکان تھی۔ دُور دُور سے لوگ اس کے پاس خریداری کے لیے آتے تھے۔ ظاہری طور پر وہ نہایت خوش اخلاق، ملنسار اور خوش لباس انسان تھا، مگر اس کی تجارت کی بنیاد ایک ایسی عادت پر قائم تھی جو آہستہ آہستہ اس کے کردار کو کھوکھلا کررہی تھی۔ وہ ہر چیز بیچنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتا تھا۔ خراب چیز کو بہترین بتانا، معمولی چیز کو نایاب قرار دینا، مصنوعی تعریفیں کرنا اور گاہک کو غلط معلومات دے کر راضی کرلینا اس کے لیے معمول کی بات تھی۔ اس کا خیال تھا کہ کاروبار میں سچ بولنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
ہر شام جب وہ دکان بند کرتا تو نوٹ گنتے ہوئے خود سے کہتا، "دولت سچ سے نہیں، عقل سے کمائی جاتی ہے اور کاروبار میں جھوٹ بھی عقل ہی کا حصہ ہے۔” مگر اسے معلوم نہ تھا کہ جھوٹ سے حاصل ہونے والا ہر نفع، برکت کے خزانے سے ایک حصہ کم کردیتا ہے۔
ایک دن ایک دیہاتی اپنی جوان بیٹی کے ساتھ اس کی دکان پر آیا۔ اس نے برسوں کی جمع پونجی سے ایک سلائی مشین خریدنی تھی تاکہ اس کی بیٹی گھر بیٹھے محنت کرکے عزت کی روزی کماسکے۔ حارث جانتا تھا کہ ایک مشین بار بار خراب ہوجاتی ہے، لیکن زیادہ منافع کی خاطر اس نے وہی مشین انہیں دے دی۔ وہ مسکرا کر بولا، "چچا! اگر یہ مشین خراب ہوجائے تو میرا نام بدل دینا۔” بوڑھا شخص اس کی بات پر یقین کرکے خوشی خوشی گھر چلاگیا۔ چند دن بعد وہی شخص دوبارہ آیا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا، "بیٹا… مشین پہلے ہی دن خراب ہوگئی۔ میری بیٹی کئی گھروں سے سلائی کا کام لے آئی تھی۔ اب سب لوگ اپنا کپڑا واپس لے گئے۔ اس کی امید بھی ٹوٹ گئی اور ہماری عزت بھی۔”
حارث نے ایک لمحے کو نظریں جھکا لیں، مگر اگلے ہی لمحے غرور نے ضمیر کو دبادیا۔ وہ بولا، "سامان ایک بار بک جائے تو واپس نہیں ہوتا۔” بوڑھے نے گہری سانس لی اور صرف اتنا کہا: "بیٹا… جھوٹ سے کمائے ہوئے پیسے جیب میں رہ سکتے ہیں، دل میں نہیں۔”
یہ الفاظ حارث کے دل پر دستک دے کر واپس چلے گئے، مگر اس نے حسبِ معمول انہیں نظر انداز کردیا۔ چند ماہ بعد حارث کی اپنی زندگی نے ایسا رخ لیا جس نے اس کی سوچ بدل کر رکھ دی۔ اس کا اکلوتا بیٹا شدید بیمار ہوگیا۔ ڈاکٹر نے ایک خاص آلہ خریدنے کا مشورہ دیا۔ حارث جلدی میں ایک دکان پر پہنچا۔ دکان دار نے قسمیں کھا کر کہا، "یہ بالکل اصلی ہے، فکر نہ کریں۔” حارث نے بغیر تحقیق کیے خرید لیا۔
گھر پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ آلہ نقلی تھا۔ بیٹے کی حالت مزید خراب ہوگئی۔ اسی لمحے حارث کے ذہن میں بجلی سی کوند گئی۔ اسے وہ دیہاتی، وہ سلائی مشین اور وہ جملہ یاد آیا: "جھوٹ سے کمائے ہوئے پیسے جیب میں رہ سکتے ہیں، دل میں نہیں۔”
اس رات پہلی مرتبہ دولت اس کی آنکھوں سے نیند خریدنے میں ناکام رہی۔ وہ کروٹیں بدلتا رہا۔ اسے محسوس ہونے لگا جیسے ہر وہ شخص، جسے اس نے دھوکا دیا تھا، خاموشی سے اس کے سامنے کھڑا ہے۔ کسی کی بددعا… کسی کی مایوسی… کسی کی ٹوٹی ہوئی امید… سب اس کے ضمیر کا دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے۔ صبح اذان کی آواز سن کر اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔
اس نے دل ہی دل میں کہا: "یااللہ! میں نے لوگوں کو دھوکا دیا، مگر اب مزید ایسا نہیں کروں گا۔” اس دن اس نے اپنی پوری دکان کا جائزہ لیا۔ خراب سامان الگ رکھا۔ ہر چیز پر اس کی اصل حالت اور اصل قیمت لکھ دی۔ اس نے اپنے ملازمین کو جمع کرکے کہا: "آج کے بعد ہماری دکان پر چیزیں نہیں، سچ بکا کرے گا۔”
ایک ملازم نے حیرت سے پوچھا: "اگر سچ بولیں گے تو گاہک دوسری دکانوں پر چلے جائیں گے۔” حارث مسکرایا اور بولا: "جو گاہک جھوٹ سے ملے، وہ جھوٹ کے ساتھ چلا بھی جاتا ہے۔ مگر جو اعتماد سے ملے، وہ نسلوں تک واپس آتا ہے۔”
اس نے پرانے رجسٹروں سے گاہکوں کے پتے نکالے۔ جہاں ممکن ہوا، خود ان کے گھروں تک گیا۔ کسی کو رقم واپس کی۔ کسی کا سامان تبدیل کیا۔ کسی سے صرف ایک لفظ کہا: "معاف کردیجیے۔” کئی لوگوں نے حیرت سے پوچھا: "آخر تم بدل کیسے گئے؟”
وہ جواب دیتا: "جب انسان دوسروں کے درد کو اپنی زندگی میں محسوس کرلیتا ہے، تب اسے اپنے گناہوں کا وزن سمجھ آتا ہے۔”
شروع کے چند مہینے مشکل گزرے۔ آمدن کم ہوگئی۔ بازار کے دوسرے دکان دار اس کا مذاق اڑاتے۔ کوئی کہتا، "ایمان داری سے کاروبار نہیں چلتا۔” کوئی ہنستا، "زیادہ دن نہیں چل پائے گا۔” مگر وقت ہمیشہ سچ کا ساتھ دیتا ہے۔
چند ہی مہینوں میں لوگ ایک دوسرے کو بتانے لگے: "اگر دھوکے سے بچنا ہو تو حارث کی دکان پر جانا۔”
دوردراز کے لوگ بھی صرف اس کی سچائی کی وجہ سے اس کے پاس آنے لگے۔ اس کی کمائی پہلے سے بھی زیادہ ہوگئی، مگر اس بار فرق یہ تھا کہ اس کمائی میں سکون، عزت اور برکت شامل تھی۔ ایک دن وہی بوڑھا دیہاتی دوبارہ آیا۔ اس کی بیٹی اب اپنے ہاتھ کی محنت سے اچھی روزی کمارہی تھی۔ حارث نے آگے بڑھ کر اس سے معافی مانگی اور اس کا نقصان پورا کیا۔
بوڑھے نے مسکراتے ہوئے کہا: "بیٹا! انسان کی سب سے بڑی کامیابی غلطی نہ کرنا نہیں، بلکہ غلطی کے بعد خود کو بدل لینا ہے۔”
یہ سن کر حارث کی آنکھیں بھر آئیں۔ اسی دن اس نے اپنی دکان کے باہر ایک تختی لگوائی، جس پر سنہری حروف میں لکھا تھا: "یہاں منافع سے پہلے اعتماد کمایا جاتا ہے۔” وہ تختی صرف دیوار پر نہیں لگی تھی، بلکہ حارث کے دل پر بھی نقش ہو چکی تھی۔
پھر اُس نے آگے کبھی کسی گاہک سے جھوٹ نہیں بولا۔ وہ جان چکا تھا کہ سچ بولنے والا کبھی وقتی نقصان اٹھا سکتا ہے، مگر ہمیشہ کی عزت، لوگوں کی دعائیں اور اللہ کی رضا اسی کے حصے میں آتی ہے۔
سبق: دھوکے سے کمائی ہوئی دولت وقتی خوشی دے سکتی ہے، لیکن سچائی سے کمائی ہوئی روزی دل کا سکون، لوگوں کا اعتماد اور اللہ کی برکت عطا کرتی ہے۔ تجارت کا اصل سرمایہ مال نہیں، کردار ہوتا ہے۔ جب کردار مضبوط ہو تو رزق میں برکت خود راستہ بنا لیتی ہے۔