توبہ

اسد احمد
شہر کی معروف بستی میں یاسر کا نام خوف کی علامت تھا۔ لوگ اس کے شر سے بچنے کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ یاسر چور، مجرم، ایک ایسا شخص جسے حالات نے درندگی سکھا دی تھی۔ لیکن کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ یاسر کے سینے میں بھی ایک دل دھڑکتا ہے۔ ایک ایسا دل جو ہر رات سوتے وقت کسی ان دیکھے بوجھ سے دب جاتا تھا۔
وہ بھی کبھی معصوم تھا۔ باپ کی موت، ماں کی فاقہ کش آنکھیں اور چھوٹے بہن بھائیوں کی بھوک، یہ سب ایک ایک کر کے اسے اندھیرے کی طرف لے گئے۔ آج بھی وہ چوری کے ارادے سے نکلا تھا۔ ہاتھ میں چھرا، آنکھوں میں سفاکی کا مصنوعی پردہ اور دل میں ایک عجیب سی بے چینی۔ اچانک چلتے چلتے وہ جس گھر کے سامنے رُکا، وہ بڑا نہیں تھا، مگر دروازے کے پیچھے سے قرآن کی تلاوت کی آواز آ رہی تھی۔
یاسر کے قدم رک گئے۔ یہ آواز اس کے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگی۔ کبھی اس کی ماں بھی قرآن پڑھا کرتی تھی۔ کبھی وہ بھی ماں کے پہلو میں بیٹھ کر سنتا تھا۔ وہ آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ اندر سے رونے کی آواز آئی۔ “یااللہ! میرے گناہوں کو معاف فرما۔ میرے بیٹے کو ہدایت دے دے۔ اگر وہ غلط راستے پر ہے تو اسے واپس لوٹا دے۔”
یاسر دروازے کے پیچھے چھپ گیا، اس کا سانس یہ دعا سُن کر رک گیا۔ یہ دعا، یہ لہجہ، یہ آنسو، ایسا لگا جیسے یہ دعا اسی کے لیے ہو۔ اچانک اندر سے آواز آئی: “بیٹا… دروازے کے پیچھے کھڑے ہو؟ اندر آ جاؤ…” یاسر چونک سا گیا۔ اسے لگا جیسے زمین اس کے قدموں کے نیچے سے نکل گئی ہو۔ وہ بھاگ سکتا تھا، مگر نہ جانے کیوں اُس میں ہمت نہ رہی۔ آہستہ آہستہ اس نے دروازہ کھولا۔
سامنے ایک ضعیف عورت بیٹھی تھی۔ چہرے پر نور، آنکھوں میں نمی اور ہاتھ میں قرآن پاک۔ اس نے یاسر کو دیکھا اور مسکرا دی۔ “بیٹا… تم چور ہو نا؟”
یاسر کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ “جی ماں… میں گناہ گار ہوں… لیکن دل سے بُرا نہیں ہوں… غربت نے مجھے ایسا بنادیا۔”
عورت نے پیار سے اس کا سر سہلایا۔ “بیٹا… گناہ وہ نہیں جو ہو جائے، گناہ تو وہ ہے جس پر شرمندگی ختم ہوجائے۔” یاسر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ “میں بہت بُرا ہوں ماں جی… اللہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔”
عورت نے قرآن پاک کھولا اور آیت کا ترجمہ پڑھا: ‘اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو…’ یاسر کا دل ٹوٹ گیا۔ “کیا واقعی اللہ مجھے معاف کردے گا؟” عورت نے کہا: “اگر اللہ معاف نہ کرتا تو تجھے یہاں نہ لاتا۔”
اُس رات، یاسر بغیر کچھ چرائے چپ چاپ ماں جی کے گھر سے واپس چلا گیا مگر اس کی روح وہیں رہ گئی۔ دو تین روز وہ دوبارہ اس گھر گیا۔ دروازہ بند تھا۔
پڑوسی نے بتایا: “گزشتہ رات اماں جی اللہ کو پیاری ہوگئیں…”
یاسر زمین پر بیٹھ گیا۔ اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ “یااللہ… تُو نے میری توبہ ایک ماں کے ذریعے لکھ دی… اور پھر اسے اپنے پاس بلالیا۔” اس دن کے بعد یاسر بدل گیا۔ چوری سمیت تمام جرائم چھوڑ دیے۔ محنت مزدوری کرنے لگا، بھوکا بھی رہا، مگر سجدہ نہ چھوڑا۔ ہر رات نماز کے بعد رو کر دعا کرتا: “یااللہ! مجھے پھر اُس اندھیرے میں نہ لے جانا، جس سے تُو نے نکالا۔”
برسوں بعد، وہی یاسر مسجد کے باہر کھڑا تھا۔ کسی ضرورت مند کے ہاتھ میں کھانا تھماتے ہوئے۔ کسی نے پوچھا: “بھائی! تم اتنے نرم دل کیوں ہو؟” یاسر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ “کیونکہ میں جانتا ہوں… اللہ ایک لمحے میں چور کو بھی نیک انسان بنا دیتا ہے۔”