خلیفۂ چہارم حضرت علیؓ کا یوم شہادت

محمد راحیل وارثی
آج 21 رمضان المبارک امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالبؓ کا یوم شہادت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ حضرت علیؓ کی زندگی نہ صرف خلافت اور عدل و انصاف کی علامت ہے بلکہ ان کی شجاعت، علم، تقوی، جود و سخا اور روحانیت آج بھی ہر مسلمان کے لیے مشعل راہ ہے۔ ان کا یوم شہادت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچائی، بہادری اور عدل کے راستے پر چلنا ہر مسلمان کی ذمے داری ہے۔
حضرت علیؓ وہ ہستی ہیں جنہیں خداوند تعالیٰ نے بچپن سے نبی اکرم ﷺ کی تربیت میں رکھا۔ یہ تربیت ان کی شخصیت میں اتنی گہرائی تک جاپہنچی کہ آپ نبی ﷺ کے حقیقی وارث بن گئے۔ علم و حکمت میں آپ کی عظمت صحابہ کرام اور امت مسلمہ کے لیے روشن چراغ کی مانند ہے۔ حضرت عبدالله ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ سے جب بھی کوئی مسئلہ پوچھا گیا، ہمیشہ درست اور جامع جواب ملا۔ اسی طرح سعید بن مسیبؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے صحابہ میں حضرت علیؓ ہی واحد تھے جن سے ہر کسی نے مسائلِ شرعیہ دریافت کیے۔
شجاعت اور بہادری کے حوالے سے حضرت علیؓ کی مثالیں تاریخ میں سنہرے حروف میں درج ہیں۔ غزوۂ خیبر میں آپ کی بہادری نے دشمن کے دلوں میں خوف ڈال دیا اور ہر معرکہ آپ کے لیے فتح اور کامیابی کا سبب بنا۔ آپ کی تلوار ذوالفقار کی ضربیں دشمنان اسلام کے لیے عبرت کا سبب بنیں اور آپ کی جرأت و ہمت کی مثال آج تک ہر دل میں زندہ ہے۔
حضرت علیؓ کی عدالتی بصیرت اور فہم و فراست بھی لازوال ہے۔ حضرت فاروق اعظمؓ کے دور میں آپؓ نے عدلیہ کی ذمے داری بخوبی نبھائی اور ہر مقدمے میں انصاف و عدل کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ آپ کے فیصلے، نصیحتیں اور ملفوظات آج بھی اہل علم و فقہ کے لیے قیمتی رہنمائی ہیں۔ آپ کی تعلیمات نہ صرف فرد کی تربیت کا ذریعہ ہیں، بلکہ پوری امت کے لیے معاشرتی اصول اور عدل کی بنیاد بھی ہیں۔
حضرت علیؓ کا یوم شہادت ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دین کی حفاظت اور عدل و انصاف کے لیے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ آپؓ نے ظلم و ستم کے خلاف ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اسلامی تعلیمات کو عملی طور پر پیش کیا۔ آپؓ کی شہادت 21 رمضان المبارک کی شب ہوئی۔ آپ کی تعلیمات، کرامات اور اخلاقی فضائل آج بھی زندہ ہیں اور ہر مسلمان کے لیے مشعل ہدایت ہیں۔
آپؓ کی زندگی کے مختلف پہلو، جیسے عبادات و ریاضت، زہد و تقویٰ، یتیموں اور بیواؤں کی مدد، دشمنان دین سے مقابلہ اور سرحدوں کی حفاظت، آج بھی مسلمانوں کے لیے عملی نمونہ ہیں۔
حضرت علیؓ کی علمی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔ آپؓ کے اقوال، نصیحتیں اور فکری رہنمائی آج بھی تعلیم و تربیت، فقہ و شریعت اور روحانی ترقی کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ یوم شہادت حضرت علیؓ ہمیں عملی زندگی میں مولا علی کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ان کی زندگی، شجاعت، عدل و انصاف اور علم و حکمت کا مجموعہ آج بھی امت مسلمہ کے لیے رہنمائی اور حوصلے کا سبب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں حضرت علیؓ کے اصولوں کو اپنائیں، ظلم کے خلاف ڈٹیں اور سچائی و عدل کے راستے پر ثابت قدم رہیں۔
آج کا دن، 21 رمضان المبارک، محض یاد کا دن نہیں بلکہ ایک موقع ہے کہ ہم حضرت علیؓ کے کردار کو سمجھیں اور اپنی زندگی میں ان کے افکار اور تعلیمات کو نافذ کریں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم، شجاعت، عدل اور تقویٰ کی زندگی کس طرح ہم سب کے لیے مشعل راہ بن سکتی ہے۔