ایمان داری کا انعام

فہیم سلیم
رات گہری ہوچکی تھی۔ محلے کی مسجد سے عشاء کی اذان کو گھنٹہ گزر چکا تھا، مگر احمد ابھی تک دکان بند نہیں کرسکا تھا۔ چھوٹی سی کریانے کی دکان، پرانی لکڑی کی شیلفیں اور ایک بوسیدہ کاؤنٹر، یہی اس کی کل کائنات تھی۔ دکان کے کونے میں لٹکتا بلب مدھم روشنی دے رہا تھا، جیسے خود بھی تھکا ہوا ہو۔ احمد کے ہاتھ میں ایک رجسٹر تھا۔ وہ بار بار صفحہ پلٹتا، حساب لگاتا، پھر سر جھکا لیتا۔ آج ایک غلطی ہوگئی تھی۔ یا شاید، آزمائش تھی۔
شام کو ایک گاہک آیا تھا، اس نے جلدی میں پیسے دیے اور چلا گیا۔ بعد میں گنتی کی تو پانچ ہزار روپے زائد نکلے۔ احمد نے کئی بار گنا، کئی زاویوں سے سوچا مگر حقیقت وہی تھی۔ پانچ ہزار روپے۔ احمد کے لیے یہ معمولی رقم نہ تھی۔ اس کے گھر میں چند سنگین مسائل کافی عرصے سے درپیش تھے، جو اس رقم سے فوری حل ہوسکتے تھے۔ شیطان نے سرگوشی کی: “اللہ خود دے رہا ہے، کون سا گاہک واپس آئے گا؟”
احمد کی آنکھوں کے سامنے بجلی سی کوندی۔ اسے اپنے والد یاد آگئے۔ ایک غریب مگر بااصول انسان۔ مرتے وقت احمد کا ہاتھ پکڑ کر بس ایک جملہ کہا تھا: “بیٹا، رزق کم ہو تو صبر کرنا مگر حرام کا ایک دانہ بھی پیٹ میں نہ جانے دینا۔”
احمد کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ وہ رجسٹر بند کرکے کرسی پر بیٹھ گیا۔ دل عجیب بوجھ سے دبنے لگا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سینے پر کوئی پتھر رکھ دیا ہو۔ وہ آہستہ سے بولا: “یااللہ! اگر یہ پیسے رکھ لیے تو شاید گھر کے مسائل حل ہوجائیں، لیکن اگر تُو ناراض ہوگیا تو؟” اسی لمحے اس کے ذہن میں ایک حدیث گونجی:
“جس نے ہمیں دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔” (صحیح مسلم)
احمد کا جسم کانپ گیا۔ اس نے فوراً وہ پانچ ہزار روپے الگ رکھ دیے اور دکان بند کردی۔
اگلے دن دوپہر کے قریب، جب دھوپ تیز تھی اور گاہک کم، ایک نوجوان دکان میں داخل ہوا۔ چہرے پر پریشانی صاف نظر آرہی تھی۔ “بھائی… کل میں نے یہاں سے سامان خریدا تھا۔ شاید میں آپ کو زیادہ پیسے دے گیا ہوں۔”
احمد کا دل زور سے دھڑکا۔ اس نے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے کاؤنٹر کھولا، رقم نکالی اور کہا: “ہاں بھائی، آپ کی دی گئی رقم میں پانچ ہزار زیادہ تھے۔ میں نے آپ کے لیے رکھ چھوڑے تھے۔”
نوجوان کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ چند لمحے بول نہ سکا۔ “آپ… آپ واقعی واپس کر رہے ہیں؟” اس کی آواز بھرا گئی۔
احمد مسکرایا، مگر آنکھیں نم تھیں: “بھائی، یہ میرے نہیں ہیں۔ اگر رکھ لیتا تو شاید میرا دُنیاوی طور پر مالی فائدہ ہوجاتا مگر میرا ضمیر مر جاتا۔”
نوجوان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ آگے بڑھا، احمد کے ہاتھ تھام لیے اور رندھی ہوئی آواز میں بولا: “آپ نہیں جانتے آپ نے آج کیا کیا ہے۔ میں کل رات سو نہیں سکا۔ میں نے اللہ سے دعا کی تھی، یااللہ، اگر وہ بندہ ایمان دار ہوا تو مجھے کوئی نشانی دکھا دینا۔”
وہ تھوڑی دیر رکا، پھر بولا: “میں ایک کمپنی میں HR ڈپارٹمنٹ میں ہوں۔ ہمیں ایک دیانت دار شخص کی تلاش تھی… اور مجھے لگتا ہے، اللہ نے مجھے یہاں بھیجا تھا۔”
احمد حیران رہ گیا۔
چند دن بعد احمد کی دکان بند تھی۔ وہ ایک دفتر میں بیٹھا تھا۔ تنخواہ اچھی تھی، وقت مقرر تھا۔ گھر کے تمام مسائل حل ہوچکے تھے۔ کئی مہینوں بعد احمد کی ماں نے مسکرا کر کہا: “بیٹا، آج دل مطمئن ہے۔”
احمد سجدے میں گر گیا۔ آنکھوں سے آنسو بہتے رہے، ہونٹ کپکپاتے رہے: “یا اللہ… میں نے صرف تیری خاطر چھوڑا تھا اور تُو نے مجھ اُس سے کہیں گنا زیادہ بہتر دے دیا۔”
اسے ایک آیت یاد آ گئی:
“اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنادیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرتا۔” (سورۃ الطلاق)
ایمان داری کوئی کاروباری حکمتِ عملی نہیں، یہ ایمان کا امتحان ہے۔ حرام وقتی سہولت دے سکتا ہے مگر حلال دل کا سکون دیتا ہے۔