حق کا بوجھ

مہروز احمد
اکرم شہر کے مصروف ترین علاقے میں جانا پہچانا نام تھا۔ وہ نہایت چالاک، ہوشیار اور موقع شناس آدمی تھا۔ لوگوں کو دیکھ کر مسکراتا، باتوں میں نرمی رکھتا، مگر دل کے اندر بے پناہ سختی تھی، کسی کا حق مارنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کمزور کو دبانا آسان ہے اور طاقتور کے سامنے جھک جانا عقل مندی۔
اکرم پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ تھا۔ جعلی کاغذات، بوگس دستخط اور قانونی موشگافیاں اس کا ہتھیار تھیں۔ بیواؤں کی زمینیں، یتیموں کی وراثت اور لاعلم دیہاتیوں کی جمع پونجی، سب اس کے لیے محض نمبرز تھے۔ وہ اکثر کہا کرتا: “دنیا سیدھی انگلی سے نہیں چلتی۔”
انہی دنوں اس کے ہاتھ ایک ایسا کیس آیا، جس نے بعد میں اس کی زندگی بدل ڈالی۔ یہ زمین حاجی کریم بخش کی تھی، ایک سیدھا سادہ، بزرگ جو زندگی بھر مزدوری کرتا رہا۔ اس کی وفات کے بعد اس کی بیٹی زینب، جو بیوہ تھی اور دو چھوٹے بچوں کی ماں، اس زمین کی واحد وارث تھی۔ زینب کو نہ قانون کا علم تھا، نہ کچہری کے چکر لگانے کی ہمت۔
اکرم نے نرمی سے بات شروع کی، ہمدردی جتائی اور چند کاغذات پر دستخط کروا لیے۔ زینب نے یہ سمجھا کہ وہ محض زمین کا انتظام اکرم کے حوالے کررہی ہے، مگر حقیقت میں اس نے اپنی پوری وراثت گنوادی۔ کچھ ہی مہینوں میں زمین فروخت ہوچکی تھی اور زینب کرائے کے ایک تنگ کمرے میں بچوں کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔
وقت گزرتا رہا۔ اکرم کی دولت بڑھتی گئی، بنگلہ، گاڑیاں، اثرورسوخ، سب کچھ تھا، مگر دل کے کسی کونے میں ایک انجانی بے چینی نے ڈیرہ ڈال لیا تھا۔ وہ راتوں کو جاگتا، پسینے میں شرابور ہوتا اور خواب میں ایک عورت کو دیکھتا جو کہتی: “میرا حق واپس کردو۔” وہ اس خواب کو نظرانداز کرتا رہا مگر ایک دن سب کچھ بدل گیا۔
زینب نے ہمت کی۔ اس نے ایک ایمان دار وکیل سے رجوع کیا۔ برسوں بعد کیس دوبارہ کھلا۔ جعلی دستاویزات سامنے آئیں، گواہ بولے اور اکرم کے خلاف ثبوت پہاڑ بن گئے۔
عدالت میں وہ پہلی بار خود کو بے بس محسوس کررہا تھا۔ فیصلے کے دن جج نے کہا: “اکرم، آپ نے نہ صرف قانون توڑا ہے بلکہ ایک بے سہارا عورت اور اس کے بچوں کا مستقبل چھینا ہے۔ عدالت آپ کو دس سال قیدِ بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سناتی ہے۔” اس فیصلے کے ساتھ ہی اکرم کی دنیا اُجڑ گئی۔
جیل کی زندگی اس کے لیے کسی عذاب سے کم نہ تھی۔ نرم بستر اور قیمتی کھانوں کے عادی کا سخت فرش، بے ذائقہ دال اور قیدیوں کی تلخ زبان مقدر تھی۔ شروع کے دنوں میں وہ غصے سے بھرپور تھا، سب کو کوستا، قسمت کو الزام دیتا۔ مگر وقت، انسان کو بدل دیتا ہے۔
جیل میں ایک بزرگ قیدی تھے۔ مولوی عبدالرشید۔ وہ کم گو مگر گہری بات کرنے والے تھے۔ ایک دن انہوں نے اکرم سے کہا: بیٹا، جیل کی سلاخیں اصل سزا نہیں ہوتیں۔ اصل سزا وہ بوجھ ہے جو حق مارنے سے دل پر پڑتا ہے۔ یہ جملہ اکرم کے دل میں اتر گیا۔
آہستہ آہستہ اس نے اپنے کیے پر غور شروع کیا۔ اسے زینب کے بچے یاد آنے لگے۔ ان کے پھٹے جوتے، سہمے ہوئے چہرے اور وہ خواب جو اس نے کچل دیے تھے۔ ایک رات وہ رو پڑا۔ پہلی بار دل سے۔ جیل میں اس نے قرآن پڑھنا شروع کیا، مولوی صاحب سے باتیں کیں اور خود سے سوال کیا: “اگر کل میں مر گیا تو کیا جواب دوں گا؟”
سال گزرتے گئے۔ اکرم اب وہ شخص نہیں رہا تھا جو کبھی تھا۔ اس کی آنکھوں میں نرمی آگئی تھی، آواز میں غرور نہیں رہا تھا۔ رہائی کے دن اس کے پاس دولت نہیں تھی، دوست نہیں تھے مگر ایک فیصلہ تھا۔
وہ سیدھا زینب کے پاس گیا۔ زینب نے اسے دیکھا تو خوف زدہ ہوگئی، مگر اکرم نے سر جھکا کر کہا: “بہن میں آپ کا مجرم ہوں۔ میں وہ سب واپس کرنا چاہتا ہوں جو میرا نہیں تھا۔” اس نے اپنی باقی ماندہ جائیداد بیچ کر زینب کو زمین کی قیمت لوٹا دی، تحریری معافی بھی مانگی۔ یوں زینب کے دن بدل گئے، زندگی آسان ہوگئی اور بچوں کی اچھی تعلیم کا سلسلہ چل پڑا۔
زینب کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس نے کہا: “اگر آپ واقعی بدل گئے ہیں، تو اللہ بھی معاف کر دے گا۔” اکرم نے ایک نئی زندگی شروع کی۔ چھوٹا سا کاروبار، صاف نیت اور سیدھی کمائی۔ وہ اب لوگوں کو یہی نصیحت کرتا: “کسی کا حق مار کر وقتی فائدہ مل سکتا ہے مگر اس کا بوجھ انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔”
یہ کہانی صرف اکرم کی نہیں، بلکہ ہر اس شخص کی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ظلم وقتی ہے اور حساب نہیں ہوگا۔ لیکن حق، ہمیشہ اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔