نیکی۔۔۔

فہیم سلیم
ایک چھوٹے سے گاؤں میں احمد نام کا نوجوان رہتا تھا۔ احمد عام لوگوں کی طرح زندگی گزار رہا تھا، لیکن اس کے دل میں ہمیشہ کچھ کرنے کا جذبہ اور دوسروں کی مدد کرنے کا خیال رہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دنیا میں لوگ اپنی ضروریات اور خواہشات میں اتنے مصروف ہیں کہ اکثر بھلائی کرنے والے کم ہی ہوتے ہیں، مگر احمد یہ بھی سمجھتا تھا کہ ایک چھوٹا سا عمل بھی کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔
احمد کے والدین محنتی لوگ تھے۔ ان کی زندگی سادہ اور اصولوں پر قائم تھی۔ احمد بچپن سے ہی اپنے والدین کے اصولوں اور نیکی کی تعلیمات کو دل سے مانتا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ نیکی کے کام کرنے کے لیے کسی بڑے عہدے یا زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک چھوٹے سے عمل سے بھی انسان دنیا میں روشنی پھیلا سکتا ہے۔
ایک دن گاؤں کے قریب ایک پرانا جنگل تھا، جس کے بارے میں لوگ کہتے تھے کہ وہاں اکثر غریب لوگ کھانے اور پناہ کے لیے آتے ہیں۔ احمد کو معلوم ہوا کہ وہاں کچھ یتیم اور بے سہارا بچے رہتے ہیں، جن کے پاس کھانے کے لیے مناسب چیزیں نہیں ہوتیں اور نہ ہی تعلیم کا کوئی ذریعہ۔ احمد نے دل میں فیصلہ کیا کہ وہ ان بچوں کی مدد کرے گا، چاہے کتنی بھی مشکلات آئیں۔
احمد نے سب سے پہلے اپنے والدین سے بات کی۔ والدین نے اسے حوصلہ دیا اور کہا، بیٹا، اگر تم دل سے کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اللہ تمہارے ساتھ ہوگا۔ بس نیت صاف اور عمل سچّا ہو۔ احمد نے والدین کے مشورے کو دل سے قبول کیا اور اگلے دن ہی جنگل کا رخ کیا۔
وہاں پہنچ کر احمد نے بچوں سے بات کی۔ بچوں کی حالت دیکھ کر اس کا دل غم سے بھر گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اکثر بھوک سے راتیں گزار دیتے ہیں اور تعلیم کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ احمد نے فوراً اپنے گاؤں کے لوگوں سے مدد مانگی۔ ابتدا میں کچھ لوگ ہچکچا رہے تھے مگر احمد کی لگن اور ایمان داری دیکھ کر سب نے تعاون کرنا شروع کیا۔ کچھ لوگوں نے کھانے کے لیے راشن دیا، بعض نے کپڑے بھیجے اور کچھ نے بچوں کے لیے چھوٹا سا اسکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
احمد نے اپنی زندگی کے تمام وسائل اور وقت بچوں کی بھلائی میں لگادیا۔ وہ صبح اسکول کے لیے جاتا، شام کو بچوں کے کھانے اور ضروریات کا انتظام کرتا اور رات کو خود پڑھائی کرتا۔ احمد کی محنت اور لگن نے گاؤں کے لوگوں کو بھی متاثر کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کے بچے نہ صرف تعلیم حاصل کرنے لگے، بلکہ ان کی زندگی میں خوشی اور امید بھی واپس آگئی۔
وقت گزرتا گیا اور احمد کی محنت رنگ لائی۔ بچوں نے اچھی تعلیم حاصل کی اور کئی سال بعد وہ خود کامیاب ہوئے۔ احمد نے نہ صرف بچوں کی زندگی بدل دی، بلکہ گاؤں کے لوگوں کے دلوں میں بھی نیکی اور بھلائی کی محبت جگائی۔ لوگ احمد کی مثال دیکھ کر سمجھ گئے کہ چھوٹا سا عمل بھی بڑی تبدیلی لاسکتا ہے۔
ایک دن گاؤں میں احمد کے نام ایک تقریب منعقد کی گئی۔ گاؤں کے لوگ جمع ہوئے اور احمد کی محنت اور نیکی کی تعریف کی۔ احمد نے کہا، ہم سب کے اندر یہ طاقت ہے کہ ہم کسی کی زندگی بدل سکتے ہیں، بس نیت صاف اور دل بڑا ہونا چاہیے۔ بھلائی کا عمل چھوٹا ہو یا بڑا، ہر قدم اہم ہوتا ہے۔
احمد کی کہانی گاؤں تک محدود نہیں رہی۔ اس کی نیکی کی مثال دوسرے گاؤں اور شہروں تک پہنچی۔ لوگ سمجھ گئے کہ اگر ہر انسان دل سے دوسروں کی مدد کرے تو دنیا بہتر جگہ بن سکتی ہے۔
احمد کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نیکی کے راستے میں مشکلات آئیں گی، لوگ شک و شبہ کا شکار ہوں گے، مگر سچائی اور ایمان داری کے ساتھ کام کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے۔ نیکی کے عمل کا اثر نہ صرف وہ شخص دیکھتا ہے جس کی مدد کی گئی بلکہ وہ شخص بھی جو مدد کررہا ہے، اسے روحانی سکون اور خوشی ملتی ہے۔
ایک دن احمد بچوں کو جمع کرکے بولا، یاد رکھو، تمہیں بھی بڑا انسان بننا ہے تو ہمیشہ دل سے دوسروں کی مدد کرو۔ دنیا میں سب سے بڑی طاقت محبت اور نیکی کی ہے۔ بچے احمد کی باتیں سنتے اور اپنی زندگی میں نیکی کرنے کا عہد کرتے۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی کامیابی صرف دولت یا شہرت میں نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے کچھ کرنے میں ہے۔ احمد نے اپنی محنت، لگن اور نیکی سے یہ ثابت کردیا کہ ایک انسان بھی دنیا میں روشنی پھیلا سکتا ہے۔
آخر میں احمد نے اپنے گاؤں میں ایک نیکی کا مرکز قائم کیا، جہاں نہ صرف یتیم بچوں کی مدد کی جاتی بلکہ بزرگ، بیمار اور ضرورت مند ہر شخص کو سہولت فراہم کی جاتی۔ احمد کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نیکی کا عمل کبھی رائیگاں نہیں جاتا اور ایک چھوٹا سا قدم بھی بڑی تبدیلی لاسکتا ہے۔