اندھیرے سے روشنی تک

وقاص بیگ عارف ایک تعلیم یافتہ، سمجھ دار اور باصلاحیت نوجوان تھا۔ اچھے گھرانے سے تعلق، مناسب نوکری، ماں باپ زندہ، مگر ایک کمی تھی، دل کا سکون۔ ابتدا میں دوستوں کی محفلیں، پھر سگریٹ، پھر شراب اور آہستہ آہستہ وہ نشے کی اُس اندھی گلی میں

حرام کا انجام

وقاص بیگ شہر کے ایک مصروف بازار میں یاسر کی دکان تھی۔ بظاہر وہ نہایت شریف، ملنسار اور دین دار دکھائی دیتا تھا۔ پیشانی پر سجدے کا نشان، زبان پر میٹھی باتیں اور ہاتھ میں تسبیح، لوگ اسے قابلِ اعتماد سمجھتے تھے۔ مگر اس ظاہری دین داری کے

صبر

وقاص بیگ یہ واقعہ برصغیر کے ایک چھوٹے سے قصبے کا ہے، جہاں وقت آہستہ آہستہ گزرتا تھا اور لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ سے واقف ہوا کرتے تھے۔ اسی قصبے میں ایک بزرگ رہتے تھے جنہیں سب حاجی صاحب پکارا کرتے تھے۔ حاجی صاحب نہ عالمِ دین تھے، نہ

جب وہ زندہ تھا تو ہم کہاں تھے؟

وقاص بیگ فجر کی اذان ہوچکی تھی مگر مسجد کے صحن میں ابھی اندھیرا ٹھہرا ہوا تھا۔صفوں کے آخر میں ایک آدمی بیٹھا تھا، نہ جوان، نہ بوڑھا۔ کپڑے صاف تھے مگر پرانے، آنکھوں میں نیند نہیں بلکہ برسوں کی تھکن تھی۔نماز شروع ہوئی۔ وہ شخص سجدے میں

ایک چھوٹا سا کیک، بڑی خوشی

وقاص بیگ ایک چھوٹی سی رہائشی گلی میں، ایک ماں اپنی پانچ سالہ بیٹی کے ساتھ چل رہی تھی۔ اس ماں کا نام عائشہ تھا۔ وہ نہایت غریب تھی، لیکن اس کے دل میں اپنی بیٹی کے لیے بے پناہ محبت اور خواہش تھی کہ کم سے کم آج کے خصوصی دن کے لیے وہ