خاموش نیکی کا سفر

بلال ظفر سولنگی گاؤں کے کنارے ایک پرانا کنواں تھا جسے برسوں سے کوئی استعمال نہیں کرتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کا پانی خشک ہوچکا ہے، مگر گاؤں کا بوڑھا مؤذن حامد ہر فجر کے بعد کچھ دیر اس کنویں کے پاس ضرور بیٹھتا تھا۔ ایک صبح ایک

دعا کبھی ضائع نہیں ہوتی

بلال ظفر سولنگی رات کے پچھلے پہر شہر کی سڑکیں خاموش تھیں۔ بارش مسلسل برس رہی تھی اور ایک پرانی ڈاک خانے کی عمارت کے باہر زنگ آلود صندوق پر پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ اسی عمارت کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بتی جل رہی تھی۔ وہاں ایک بوڑھا

پاکستانی کھیت، سعودی منڈی

بلال ظفر سولنگی پاکستان کی معیشت کی جڑیں آج بھی کھیت، کھلیان، کسان اور دیہی معیشت سے جڑی ہوئی ہیں۔ اسی لیے اسے زرعی ملک گردانا جاتا ہے۔ لاکھوں خاندانوں کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے، مگر افسوس کہ ہماری زرعی صلاحیت ہمیشہ اس معاشی قوت

محنت، توکل اور کامیابی

بلال ظفر سولنگی شہر کے ایک خاموش سے محلے میں زریاب نام کا نوجوان رہتا تھا۔ عمر زیادہ نہیں تھی، مگر زندگی نے اسے وقت سے پہلے بڑا کردیا تھا۔ والد کا انتقال ہوچکا تھا، گھر میں بیمار ماں اور دو چھوٹی بہنیں تھیں۔ زریاب صبح ایک چھوٹی سی

خالی جیب کا امیر آدمی

بلال ظفر سولنگی شہر کے ایک پرانے محلے میں فراز نام کا نوجوان رہتا تھا۔ اس کی جیب اکثر خالی رہتی، مگر دل میں بڑے خواب تھے۔ وہ دن رات محنت کرتا، کبھی دکان پر سامان اٹھاتا، کبھی موٹر سائیکل پر لوگوں کے پارسل پہنچاتا اور کبھی رات گئے تک

ایک درست فیصلہ

بلال ظفر سولنگی زندگی میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے، خوش حال رہنا چاہتا ہے اور اپنے بچوں کو ایک بہتر مستقبل دینا چاہتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف خواہشیں انسان کی تقدیر نہیں بدل سکتیں۔ تقدیر بدلنے کے لیے سوچ، عادت اور عمل بدلنا

یوم استحصال کشمیر۔۔۔ عالمی ضمیر کی ذمے داری

بلال ظفر سولنگی دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے بل پر سرحدیں تو تبدیل کی جاسکتی ہیں، لیکن قوموں کے جذبات، ان کی شناخت اور آزادی کی خواہش کو دبانا ہمیشہ ممکن نہیں رہا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے مسئلہ کشمیر بھی ایسے ہی تنازعات میں شمار

غذائی تحفظ کے لیے خطرے کی گھنٹی

بلال ظفر سولنگی پنجاب سے مبینہ طور پر 45 لاکھ ٹن اور سندھ سے 6 لاکھ ٹن گندم کے سرکاری ریکارڈ سے غائب ہونے کی اطلاعات نے ملک بھر میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اگر یہ دعوے حقائق پر مبنی ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ محض انتظامی غفلت

والدین رحمت ہیں

بلال ظفر سولنگی "ابو… آپ دونوں کے لیے یہی بہتر ہے کہ کسی اولڈ ہوم میں چلے جائیں۔"یہ الفاظ سنتے ہی حاجی عبدالرحمٰن کے ہاتھ سے چائے کا کپ گر کر ٹوٹ گیا۔ ان کی بیوی زینب بیگم نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا، مگر ان کی آنکھوں میں آنسو تھے،

روشنی

بلال ظفر سولنگی سردیوں کی یخ بستہ رات تھی۔ شہر کی سڑکیں دھند میں لپٹی ہوئی تھیں۔ لوگ اپنے گرم گھروں میں سکون سے سورہے تھے، مگر فٹ پاتھ پر درجنوں بے گھر افراد کھلے آسمان تلے سردی سے کانپ رہے تھے۔ انہی سڑکوں سے گزر رہا تھا ایک عام سا