پہلی نظر، نئی زندگی

اسد احمد وہ مکہ مکرمہ پہلی بار آیا تھا، مگر اس کے دل میں وہ کیفیت نہیں تھی جو عام طور پر آنے والوں کے چہروں پر دکھائی دیتی ہے۔ نام اس کا حارث تھا۔ عمر کوئی 28 برس۔ اچھی نوکری، جدید سوچ، دوستوں کی محفلیں، سوشل میڈیا کی چکاچوند۔ زندگی

بدلتا سال، بدلتا دل

اسد احمد رات کے بارہ بجنے میں چند منٹ باقی تھے۔ شہر جگمگا رہا تھا۔ آسمان پر آتش بازی کے رنگ بکھر رہے تھے، سڑکوں پر شور، ہنسی اور گاڑیوں کے ہارن گونج رہے تھے۔ ہر طرف “ہیپی نیو ایئر” کے نعرے تھے مگر احمد کے کمرے میں عجیب سی خاموشی