دودھ، ماں اور خودمختاری

نازیہ علی
(پاکستان کی بیٹی)
Naziaali9999@gmail.com
ایک ماں کی جدوجہد کو اگر کسی ایک چیز میں سمیٹا جائے تو وہ “دودھ” ہے، وہ شیر مادر جو زندگی کے آغاز سے لے کر شعور تک اولاد کے ساتھ رہتا ہے۔ یہ صرف غذا نہیں، بلکہ ایک مسلسل قربانی، ایک خاموش محنت اور ایک ایسی ذمے داری ہے جسے ماں بغیر کسی شکوے کے نبھاتی ہے۔
بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی ماں کی زندگی کا محور بدل جاتا ہے۔ وہ اپنے آرام، اپنی نیند اور اپنی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر اس ننھی جان کی ضرورتوں میں جُت جاتی ہے۔ شیرِ مادر سے آغاز ہونے والا یہ سفر صرف جسمانی پرورش نہیں، بلکہ جذباتی وابستگی کا بھی پہلا زینہ ہوتا ہے۔ ہر بار جب ماں اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے، تو دراصل وہ اس کے اندر اعتماد، تحفظ اور محبت کا احساس بھی منتقل کر رہی ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہی دودھ اپنی شکل بدلتا ہے، کبھی فیڈر میں، کبھی گلاس میں مگر اس کے پیچھے موجود جدوجہد اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ ماں گھر کے حالات کو دیکھتی ہے، اخراجات کو تولتی ہے، اپنی ضروریات کو کم کرتی ہے، مگر اولاد کے حصے میں آنے والے دودھ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتی۔ وہ خود کو محدود کر لیتی ہے تاکہ بچے کی نشوونما میں کوئی کمی نہ آئے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو ابھرتا ہے، عورت کی خودمختاری، ایک ماں کی محبت اپنی جگہ، مگر وقت نے یہ بھی سکھایا ہے کہ ہر عورت کو اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ کٹھن حالات میں اپنی اولاد کے بنیادی حق، یعنی دودھ، کے لیے اسے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ خودمختاری صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک ضرورت ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو ایک ماں کو مشکل وقت میں بھی باوقار رکھتی ہے اور اسے اپنی اولاد کی ضروریات پوری کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ رشتوں کی اہمیت کم ہوجاتی ہے، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ عورت اپنے اندر وہ صلاحیت پیدا کرے۔ تعلیم، ہنر یا معاشی شعور کے ذریعے جو اسے حالات کے رحم و کرم پر نہ چھوڑے۔ تاکہ اگر زندگی کبھی آزمائش لے، تو ایک ماں اپنے بچے کے گلاس میں دودھ ڈالنے کے لیے کسی کی محتاج نہ ہو۔
بدقسمتی سے، جیسے جیسے اولاد بڑی ہوتی ہے، یہ پس منظر نظروں سے اوجھل ہونے لگتا ہے۔ ایک گلاس دودھ محض ایک عادت بن کر رہ جاتا ہے، اس کے پیچھے چھپی ماں کی فکر، اس کی قربانی اور اس کی خاموش جدوجہد محسوس نہیں کی جاتی۔ میرا یہ کالم اسی احساس کو زندہ کرنے کی کوشش ہے کہ اولاد یہ سمجھے کہ اس کی پرورش میں صرف وقت نہیں لگا، بلکہ ایک ماں کی پوری زندگی شامل رہی ہے۔ اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی کہ ایک مضبوط، خودمختار عورت نہ صرف اپنی بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کی بنیاد کو بھی مضبوط بناتی ہے۔
دودھ کی ہر بوند صرف غذا نہیں، بلکہ ذمے داری، قربانی اور خودداری کی علامت ہے۔ اور ایک ماں کی اصل طاقت یہی ہے کہ وہ محبت کے ساتھ اپنی خودمختاری کو بھی برقرار رکھے۔