کیا ایران جنگ ختم ہونے والی ہے؟

مہروز احمد

ایک دو دن سے ایسی خبریں سامنے آرہی ہیں، جس نے ایران جنگ سے متعلق دُنیا کو بڑے مخمصے کا شکار کردیا ہے۔ ایک طرف مذاکرات کے دعوے ہیں تو دوسری جانب اُن کا بھرپور رد کیا جارہا ہے۔ پچھلے 25/26 روز سے جاری مشرق وسطیٰ جنگ نے نہ صرف خطے کو غیر مستحکم کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید تشویش پیدا کردی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سامنے آنے والے حالیہ بیانات نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ گزشتہ دو دنوں میں “نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت” ہوئی ہے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل اور جامع حل تلاش کرنا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خود رابطہ کیا کیونکہ وہ اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے نہیں چاہتا تھا اور دونوں ممالک معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کیا گیا ہے تاکہ مذاکرات کو موقع دیا جاسکے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے ان مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مزید یہ کہ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے کم ہوسکتی ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قریباً تمام اہم نکات پر اتفاق ہوچکا ہے، جن میں ایران کا جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا بنیادی نکتہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور اس پر اصولی اتفاق ہوگیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔ اسی دوران امریکی نائب صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بھی رابطہ کیا، جس میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور جنگ کے خاتمے کے راستوں پر بات چیت کی گئی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکا صرف ایران ہی نہیں بلکہ اسرائیل کے ساتھ بھی اس معاملے پر مسلسل رابطے میں ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیانات میں ایک اور حیران کن دعویٰ کیا کہ ایران کے اندر ایک “بااثر اور قابل احترام اعلیٰ شخصیت” مذاکرات میں شامل رہی، تاہم انہوں نے اس شخصیت کا نام ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے کوئی براہ راست بات نہیں ہوئی اور یہاں تک کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ خامنہ ای اس وقت حیات ہیں یا نہیں۔ ٹرمپ کے مطابق پانچ دن کا ایک ابتدائی فریم ورک رکھا گیا ہے جس کے دوران اگر پیش رفت ہوئی تو معاملہ حل کی طرف بڑھ سکتا ہے، بصورت دیگر سخت کارروائی کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا اپنی پوری طاقت کے ساتھ بمباری جاری رکھ سکتا ہے۔ ایک اور اہم پہلو آبنائے ہرمز سے متعلق بیان تھا، جہاں ٹرمپ نے کہا کہ اس اہم تجارتی راستے کو مشترکہ طور پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ یہ کنٹرول “میرے اور آیت اللہ کے ذریعے” یا کسی آئندہ قیادت کے ذریعے ہوسکتا ہے۔ اس بیان نے عالمی سیاسی حلقوں میں حیرت اور بحث کو جنم دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح طور پر کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوئی اور یہ تمام خبریں “فیک نیوز” ہیں جن کا مقصد صرف تیل کی مارکیٹ کو متاثر کرنا ہے۔ ایران کی پاسداران انقلاب سے منسلک میڈیا اور دیگر ذرائع نے بھی اس بات کی تردید کی ہے کہ امریکا کے ساتھ کوئی براہ راست یا بالواسطہ رابطہ ہوا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بعض عہدیداروں نے اگرچہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ یہ دعوے حقیقت پر مبنی نہیں کہ مذاکرات کسی حتمی مرحلے میں پہنچ چکے ہیں۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکا نے ملاقات کی درخواست ضرور کی تھی، لیکن ایران نے ابھی تک اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اندرونی طور پر بھی اس معاملے پر محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اسی دوران ایران کی سرکاری اور نیم سرکاری نیوز ایجنسیوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ کے بیانات ممکنہ طور پر عالمی تیل مارکیٹ کو متاثر کرنے اور سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے دیے گئے ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے دفاعی اور توانائی کے نظام پر کسی قسم کی پابندی یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ادھر روس نے اس پورے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلے کا حل صرف سیاسی اور سفارتی راستے سے ہی ممکن ہے۔ کریملن کے ترجمان نے واضح کیا کہ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات کو معمول پر لانے کے لیے تمام فریقین کو بات چیت کی طرف آنا ہوگا۔ روس نے خاص طور پر ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب ہونے والے حملوں پر تشویش ظاہر کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطرناک نتائج پیدا کرسکتے ہیں۔ روس پہلے ہی اس پلانٹ کی تعمیر میں تکنیکی مدد فراہم کرچکا ہے، اس لیے اس کی سلامتی اس کے لیے بھی اہم ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے بھی فریقین سے اپیل کی ہے کہ جوہری تنصیبات کو کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے دور رکھا جائے کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ اس پورے تناظر میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ واقعی کسی امن معاہدے کی طرف پیش رفت ہے یا پھر محض ایک سفارتی دباؤ اور میڈیا اسٹرٹیجی؟ ایک طرف امریکا کی جانب سے مذاکرات اور جنگ بندی کے اشارے ہیں، تو دوسری جانب ایران کی مکمل تردید اور سخت مؤقف ہے۔ یہ تضاد اس بات کو واضح کرتا ہے کہ صورتحال ابھی تک غیر مستحکم اور بے یقینی ہے۔ اگر حقیقت میں کوئی معاہدہ سامنے آتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری عالمی معیشت پر پڑیں گے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں، توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت پر۔ لیکن اگر یہ کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو خطہ ایک اور بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر بیان، ہر اقدام اور ہر ردعمل عالمی سطح پر اثر ڈال رہا ہے۔ امن اور جنگ کے درمیان یہ باریک لکیر آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوگی، لیکن فی الحال دنیا ایک بار پھر امید اور خوف کے درمیان معلق ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔