سچ کبھی نہیں ہارتا

مہروز احمد
ہادی ایک باعزت اور محنتی انسان تھا، جس نے اپنی زندگی میں ہر قدم ایمان داری اور اصولوں کے ساتھ اٹھایا۔ وہ ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوا تھا، جہاں مالی وسائل محدود تھے مگر والدین نے اسے سچ بولنے، دیانت داری اور محنت کی تعلیم دی تھی۔ والد اکثر کہتے، “بیٹا، سچ کا راستہ مشکل ضرور ہے مگر یہ سب سے مضبوط راستہ ہے۔ جھوٹ کبھی دیر پا نہیں رہتا۔”
ہادی نے یہ باتیں ہمیشہ دل سے لگائیں مگر جب وہ جوان ہوا اور پیشہ ورانہ دنیا میں قدم رکھا، اسے احساس ہوا کہ سچ بولنے والا اکثر اکیلا رہ جاتا ہے اور جھوٹ بولنے والے وقتاً فوقتاً کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔
شروع میں ہادی نے اپنی محنت اور ایمان داری کے سبب چھوٹی سی کمپنی میں اچھا مقام حاصل کیا مگر جلد ہی اسے اندازہ ہوا کہ اس کے سینئرز اپنے فائدے کے لیے جھوٹ، دھوکہ اور چھوٹے موٹے فراڈ کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ اکثر معاملات میں دوسروں کے کام چوری کرکے اور اپنے فائدے کے لیے غلط رپورٹیں جمع کرواکر اعلیٰ عہدوں تک پہنچ جاتے۔ ہادی نے پہلی بار محسوس کیا کہ سچ بولنا کتنی بڑی تنہائی اور مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔
ایک دن کمپنی میں ایک بہت بڑا معاہدہ آیا۔ ہادی کی ٹیم نے محنت کی تھی، لیکن سینئرز نے اپنے نام سے رپورٹ جمع کروادی اور منصوبے کا کریڈٹ لے لیا۔ ہادی کے سامنے دو راستے تھے: یا جھوٹ بول کر خود کو پیش کرے، یا سچ کے ساتھ کھڑا رہے۔ وہ دل کی آواز سن کر سچ کے ساتھ کھڑا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس پر تنقید ہوئی، بعض ساتھی اس کے خلاف ہوگئے اور اس کی پیش رفت رک گئی۔
ہادی دل شکستہ ہوگیا، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ جانتا تھا کہ سچ کا وقت ضرور آتا ہے۔ کچھ ماہ بعد، اسی معاہدے کی اندرونی جانچ پڑتال ہوئی۔ تمام حقائق سامنے آئے اور ہادی کی ایمان داری اور محنت سب کے سامنے آگئی۔ سچ بولنے کی وجہ سے لوگوں کی نظروں میں اس کے لیے عزت پیدا ہوئی اور آخرکار وہ اعلیٰ عہدے پر فائز ہوا۔
ہادی کے لیے سب سے بڑا امتحان اس وقت آیا جب اسے ایک اہم سرکاری منصوبے کی نگرانی سونپی گئی۔ یہ منصوبہ اربوں روپے کا تھا اور ہر طرف سفارش، رشوت اور چھوٹے بڑے دھوکے کا بازار گرم تھا۔ لوگ ہادی کو سمجھا رہے تھے کہ صرف ایک چھوٹا سا دستخط کافی ہے کہ سب معاملات سکون سے حل ہوجائیں۔ اگر وہ خاموش رہا یا جھوٹ کا سہارا لیا، تو لاکھوں روپے بچائے جاسکتے تھے اور اسے فوری فائدہ مل سکتا تھا۔
ہادی رات بھر جاگتا رہا۔ قلم اس کے ہاتھ میں تھا، مگر دل میں ایک طوفان تھا۔ وہ یاد کرتا رہا والد کی بات، جو اب دنیا میں نہیں تھے، مگر ان کی آواز جیسے کانوں میں گونج رہی تھی:
“بیٹا، سچ کبھی ہارتا نہیں۔”
صبح کے پہلے سورج کے ساتھ ہادی نے فیصلہ کیا۔ اس نے تمام دستاویزات کی جانچ کی، بے ضابطگیوں کی نشان دہی کی اور دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ اگلے دن کمپنی کے اعلیٰ افسران ناراض ہوئے، کچھ لوگوں نے اسے دھمکایا، کچھ نے مذاق اڑایا۔ مگر ہادی نے ہمت نہیں ہاری۔
مہینوں بعد، حقیقت نے اپنا منہ کھولا۔ اندرونی تحقیقات میں اربوں روپے کی بدعنوانیاں سامنے آئیں۔ بہت سے لوگ گرفتار ہوئے اور ہادی کی رپورٹ کو سب نے تسلیم کیا۔ اسے نہ صرف عزت ملی بلکہ ایک ایسے مقام پر پہنچایا گیا جہاں وہ ایمانداری کے ساتھ فیصلے کر سکتا تھا۔ وہ دوسروں کے لیے مثال تھا۔
اس تجربے نے ہادی کو زندگی بھر کی ایک سچائی سکھائی: سچ کا سفر طویل، تنہا اور مشکل ہوتا ہے، مگر جو بھی اس پر چلتا ہے، وہ نہ صرف خود بچتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روشنی بنتا ہے۔
ایک دن ہادی اپنی پرانی ڈائری دیکھ رہا تھا، جہاں اس نے بچپن میں والد کی باتیں لکھی تھیں۔ آنکھیں نم ہوگئیں۔ اس نے محسوس کیا کہ ہر لمحہ جب اس نے سچ کا ساتھ دیا، دل میں سکون اور وقار آیا۔ جھوٹ نے چند لمحوں کی چمک دی، مگر سچ نے ہمیشہ روشن رہنمائی دی۔
ہادی اکثر اپنے دوستوں سے کہتا، “سچ کے راستے پر چلنا آسان نہیں، لیکن اگر آپ نے کبھی اس کا ساتھ دیا، تو وہ آپ کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ جھوٹ کی جیت وقتی ہوتی ہے، سچ کی جیت دائمی۔”
اس کہانی کی سب سے بڑی تعلیم یہ ہے کہ زندگی میں ہر انسان کے سامنے دو راستے آتے ہیں: ایک آسان، جو وقتی فائدہ دیتا ہے مگر روح کو بھاری کرتا ہے اور دوسرا مشکل، جو ابتدا میں نقصان لگتا ہے مگر آخرکار وقار، عزت اور سکون دیتا ہے۔
ہادی کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ چاہے دنیا بھر کی روشنی جھوٹ کے لیے ہو، لیکن اندھیرا ہمیشہ عارضی ہے۔ سچ کی روشنی دیر سے ضرور آتی ہے، مگر جب آتی ہے تو سب کچھ روشن کردیتی ہے۔
ہادی کا ماننا تھا: “سچ ہر بار جیتتا ہے اور جھوٹ… آخرکار خود اپنے بوجھ تلے دب کر ہار جاتا ہے۔”