اس محبت اور احترام کے پیچھے بات کچھ اور ہے

سہیر عارف

2015 میں شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد جب سلمان بن عبدالعزيز سعودی عرب کے فرمانرواں بنے تو انھوں نے بہت سی پولیسز میں تبدیلیا‌ں کیں جن میں سے ایک اپنے بھائی مقرن بن عبدالعزيز کو ولی عہدی کے عہدے سے فارغ کردیا اور اُن کی جگہ اپنے بھتیجے محمد بن نائف کو جو اُس وقت Deputy ولی عہد تھے نافذ کردیا اور اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو Deputy Crown Prince بنا دیا.

ابھی اِس عَمَل کو تھوڑا ہی عرسہ گزرا تھا کہ 20 جون2017 رمضان المبارک کے آخری عشرے میں رات کے وقت محمد بن نائف کو شاہ سلمان کے مَحَل سے کال آتی ہے کہ سعودی فرمانرواں آپ سے طاق راتوں اور عید کے سیکیورٹی امور پر بات کرنا چاہتے ہیں.

محمد بن نائف اپنے گارڈز کے ہمراہ الشفاء پیلیس کے لیے روانہ ہوجاتے ہیں جہاں اُن کی شاہ سلمان سے ملاقات ہونی تھی. جیسے ہی وہ وہاں پہنچے تو دروازے پر ہی اُن کے گارڈز کو روک لیا گیا اور کہا گیا کہ یہ ایک ون-ان-ون میٹنگ ہے جس میں گارڈز کی کوئی ضرورت نہیں! بادشاہ سے ملاقات سے پہلے گارڈز کو روک لینا اور ہتھیار لے لینا ایک معمول کی بات تھی لیکن پھر تھوڑی اندر جا کر مَحَل کے سیکیورٹی اہلکاروں نے اُن سے اُن کا موبائل فون بھی لے لیا اور دوبارہ چیکنگ کی کہ کہیں کوئی اسلحہ وغیرہ ساتھ تو نہی.

مَحَل میں محمد بن نائف کو انتظار کرنے کے لیے ایک چھوٹے سے لاؤنج میں ٹھہرایا گیا، جو باہر سے لاکڈ تھا.

اِس دوران محمد بن سلمان کے آفس سے رات کو 10 بجے سعودی الیجنس کونسل، جو کہ 34 سعودی شہزادوں پر مشتمل ایک کونسل ہے جس کا کام نئے سعودی بادشاہ اور ولی عہد کی تقرری کرنا ہے.
پھر ایک ایک کر کے کونسل کے ارکان سے رابطہ شروع ہوا اور اُن سے ایک ہی سوال پوچھا جا رہا تھا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزيز نے محمد بن نائف کی جگہ محمد بن سلمان کو ولی عہد نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، آپ کی اِس پر کیا رائے ہے؟
بظاہر تو یہ رائے مانگی جارہی تھی مگر حقیقت میں ایک بادشاہ کے فیصلہ سے اُنھیں آگاہ کیا جا رہا تھا.

اُن 34 ارکان میں سے 31 نے کہا کہ ہماری مرزی بادشاہ کی مرزی کے ساتھ ہے، ایک ممبر نے اِس فیصلے کی مخالفت کی، جس کا اُسے بعد میں خمیازہ بھی بھگتنا پڑا اور 2 ممبرز اُس وقت فون پر موصول نا ہوسکے!

لیکن ظاہر ہے 34 میں سے 31 لوگوں کا ووٹ پہلے ہی محمد بن سلمان کی حمایت میں آچکا تھا اور یہ کافی تھا.

اِس فیصلے کی اطلاع دینے کے لیے ایک گارڈ محمد بن نائف کے پاس پہنچا اور کہا کے سَر، شاہ سلمان اور کونسل کے ممبران نے آپ کو معزول کر کے محمد بن سلمان کو ولی عہد نامزد کر دیا ہے تو اب آپ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں.

یہ بات محمد بن نائف کے لیے چونکا دینے والی تھی، کیونکہ وہ تو بادشاہ بننے کے خواب دیکھ رہے تھے، وہ ایک تجربہ کار اور عوام کے پسندیدہ شہزادے بھی تھے. تو اُنھوں نے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کر دیا اور شاہ سلمان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی جسے ٹھکرا دیا گیا، بس پھر یہ ہوا کہ ہر تھوڑی دیر بعد محمد بن سلمان کا کوئی وفادار اُن کے پاس آتا اور استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتا، لیکن وہ پوری رات مزاحمت کرتے رہے.

لیکن چونکہ محمد بن نائف ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھے اور ایک خوش کَش بَم دھماکے کا شکار ہونے کے بعد سے وہ تھک بھی جلد ہی جاتے تھے، پھر وہ اکیلے تھے اور باہر کی دنیا سے اُن کا رابطہ بھی ممکن نہیں تھا، اور یہاں سے زندہ بچ کر جانے کی اور کوئی صورت بھی نہیں تھی.

اِس لیے اُنھوں نے تَھک ہار کر صبح سات بجے کے وقت گارڈ کو بلایا اور کہا کہ میں استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہوں مگر میں تحریر شدہ نہیں بلکہ زبانی محمد بن سلمان کے حق میں دستبردار ہوجاؤنگا.

اِس کے بعد اُنھیں اُس لاؤنج سے ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں محمد بن سلمان باہیں پھیلائے درجنوں صحافیوں اور کیمروں کے ساتھ اُن کے منتظر تھے.

محمد بن نائف نے پریس کے سامنے اپنے کزن محمد بن سلمان کو اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے کہا کہ میری طبیعت صحیح نہیں رہتی اِس لیے اب میں آرام کرنا چاہتا ہوں، اللہ تمہاری مدد کرے.

اور اس طرح میدان پوری طرح سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ہاتھ میں آگیا.