مہروز احمد
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن، معیشت اور توانائی کے نظام کو خطرات سے دوچار کر رکھا تھا۔ ایسے نازک حالات میں پاکستان کی جانب سے اختیار کی گئی متوازن اور فعال سفارت کاری نے عالمی سطح پر نئی توجہ حاصل کی۔ پاکستان کی کاوشوں سے جنگ بندی ہوئی۔ دونوں فریق مذاکرات کی میز پر آئے۔ گزشتہ روز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران میں ایرانی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں نے اس امر کو واضح کردیا ہے کہ پاکستان علاقائی امن کے قیام میں مؤثر اور سنجیدہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے عدم اعتماد، پابندیوں، عسکری کشیدگی اور پراکسی تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں یہ تناؤ ایک خطرناک مرحلے تک پہنچ چکا تھا، جہاں براہِ راست جنگ کے خدشات پر بھی عالمی حلقوں میں تشویش پائی جاتی تھی۔ ایسی صورت حال میں اگر مذاکرات کی کوئی کھڑکی دوبارہ کھلتی دکھائی دے رہی ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور امن کیلئے بھی خوش آئند پیش رفت ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا سب سے اہم پہلو اس کی غیر جانبدار اور متوازن پالیسی ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں جبکہ امریکا کے ساتھ بھی دفاعی، اقتصادی اور سفارتی روابط موجود ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے لاتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نے سفارتی میدان میں سنجیدگی اور اعتماد کے ساتھ قدم بڑھایا ہے۔
ان ملاقاتوں میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کو مؤثر بنانے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ہونے والی بات چیت نے “حوصلہ افزا پیش رفت” کی بنیاد رکھی ہے۔ اگر واقعی کوئی “ڈیکلریشن” سامنے آتا ہے تو یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوسکتا ہے۔ اس ممکنہ معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا محور جنگ بندی، بحری راستوں کا تحفظ، داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور کشیدگی میں کمی ہے۔ خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحرِ عمان جیسے حساس علاقوں میں استحکام عالمی معیشت کیلئے ناگزیر ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی تیل سپلائی انہی بحری راستوں سے گزرتی ہے۔ اگر یہ خطہ عدم استحکام کا شکار رہتا ہے تو اس کے اثرات تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ ایران کی قیادت مذاکرات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایرانی حکام بارہا اس امر کا اظہار کرچکے ہیں کہ امریکا کے ساتھ ماضی کے تجربات اعتماد کے فقدان سے بھرپور رہے ہیں۔ جوہری معاہدے سے امریکا کی یک طرفہ علیحدگی اور اس کے بعد عائد کی جانے والی سخت پابندیوں نے تہران کو بدظن کیا۔ اسی لیے ایرانی قیادت مذاکرات میں احتیاط اور ضمانتوں پر زور دے رہی ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات بھی صورتحال کی پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک جانب وہ معاہدے کے قریب ہونے کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان کو بھی رد نہیں کرتے۔ یہی تضاد خطے کے امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اگر امریکا واقعی امن چاہتا ہے تو اسے دھمکی اور دباؤ کی پالیسی ترک کرکے مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
پاکستان کیلئے یہ موقع کئی حوالوں سے اہم ہے۔ ایک طرف خطے میں امن پاکستان کے معاشی اور سیکیورٹی مفادات کیلئے ضروری ہے، تو دوسری جانب یہ سفارتی کامیابی عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو مضبوط کرسکتی ہے۔ افغانستان، چین، سعودی عرب، ایران اور امریکا جیسے اہم ممالک کے درمیان متوازن تعلقات برقرار رکھنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بڑا امتحان رہا ہے۔ اگر پاکستان ایران امریکا مذاکرات میں اعتماد سازی کا مؤثر کردار ادا کرتا ہے تو یہ اس کی سفارتی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ تاہم اس تمام صورتحال میں پاکستان کو نہایت احتیاط اور تدبر سے آگے بڑھنا ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست انتہائی پیچیدہ، حساس اور مفادات سے بھرپور ہے۔ یہاں معمولی غلطی بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ پاکستان کو اپنی ثالثی کو صرف امن، استحکام اور مذاکرات تک محدود رکھنا چاہیے اور کسی بھی ممکنہ بلاک سیاست سے گریز کرنا ہوگا۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اس دور میں مسلم دنیا کو ایسے کرداروں کی ضرورت ہے جو جنگ کے بجائے مکالمے کو فروغ دیں۔ پاکستان اگر واقعی کسی امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری مسلم دنیا کیلئے ایک مثبت مثال ہوگی۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جنگ کبھی مسائل کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ آج دنیا کو محاذ آرائی نہیں بلکہ مفاہمت کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان اس سمت میں ایک پل کا کردار ادا کررہا ہے تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے جسے سنجیدگی، حکمت اور قومی مفاد کے تناظر میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔