شہداء کی ناقابل فراموش قربانیاں

دانیال جیلانی

پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے، جہاں امن و استحکام ہمیشہ ایک مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتا رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی، انتہاپسندی اور غیر ریاستی عناصر نے نہ صرف ملک کے امن کو چیلنج کیا بلکہ معاشی، سماجی اور ادارہ جاتی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ ایسے مشکل حالات میں پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے جس جرأت، قربانی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قومی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ گزشتہ روز جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں منعقد ہونے والی ایک پروقار تقریب میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے جس عزم کا اظہار کیا، وہ پاکستان کی مجموعی سیکیورٹی پالیسی اور قومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک بھر میں پائیدار امن و استحکام مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتا۔ اس تقریب میں افسران اور جوانوں کو ان کی غیر معمولی بہادری اور نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا گیا۔ 50 افسران کو ستارہ امتیاز (ملٹری) اور 12 کو تمغہ بسالت سے نوازنا نہ صرف انفرادی جرأت کا اعتراف ہے بلکہ اس اجتماعی قربانی کی بھی علامت ہے جو پاکستان کی مسلح افواج نے اس جنگ میں دی ہے۔ شہداء کے اہلِ خانہ کی موجودگی نے اس موقع کو مزید جذباتی اور تاریخی بنادیا، جنہوں نے اپنے پیاروں کی قربانیوں کو ملک کے امن کے لیے ایک عظیم امانت قرار دیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ شہداء اور غازی قوم کا فخر ہیں۔ ان کی قربانیاں کسی ایک خاندان یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی اجتماعی میراث ہیں۔ یہ وہ سچائی ہے جسے پاکستان کے ہر شہری کو تسلیم کرنا چاہیے کہ آج جو امن اور استحکام موجود ہے، وہ انہی عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں حالیہ دنوں کی کامیابیاں بھی اس عزم کی توثیق کرتی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں گزشتہ روز 23 دہشت گردوں کا مارا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سیکیورٹی فورسز نہ صرف چوکس ہیں بلکہ کسی بھی خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ کارروائیاں اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہیں کہ ریاست پاکستان اپنی سرزمین کو کسی بھی قسم کی دہشت گرد سرگرمیوں سے پاک رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی یہ جدوجہد صرف عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، سرحدی نگرانی اور داخلی سیکیورٹی کی مضبوط حکمت عملی بھی شامل ہے۔ گزشتہ برسوں میں "ردُالفساد” اور "ضرب عضب” جیسے آپریشنز نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو بڑی حد تک کمزور کیا جب کہ اب بھی جاری کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ انسانی اور معاشی نقصان برداشت کیا ہے۔ ہزاروں فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ یہ قربانیاں محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسی داستان ہیں جو قوم کو متحد رہنے اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا سبق دیتی ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سطح پر یکجہتی کو مزید مضبوط کیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے۔ جب تک سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی ایک ساتھ آگے نہیں بڑھتے، تب تک دیرپا امن کا خواب مکمل طور پر شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ عزم کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، دراصل ریاست پاکستان کے اس مستقل مؤقف کی توسیع ہے جو کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ یہ عزم صرف عسکری قوت پر انحصار نہیں بلکہ قومی ارادے، عوامی حمایت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا متقاضی ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے مشکل ترین حالات میں جس پیشہ ورانہ مہارت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک مثال ہے۔ شہداء کی قربانیاں، غازیوں کی بہادری اور سیکیورٹی فورسز کی مسلسل جدوجہد اس بات کی ضمانت ہیں کہ پاکستان ایک دن ضرور مکمل امن و استحکام کی منزل حاصل کرے گا۔ یہ سفر آسان نہیں، مگر قوم کا عزم، اداروں کی قربانی اور قیادت کا وژن اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے اندھیروں سے نکل کر امن و ترقی کے روشن مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔