بھارت میں اقلیتیں کتنی محفوظ؟

عبدالعزیز بلوچ

عیدالاضحیٰ جیسے مقدس مذہبی موقع پر بھارت میں مسلمانوں کو جس طرح ہندوتوا انتہاپسندوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا، وہ نہ صرف تشویش ناک ہے بلکہ بھارت کے نام نہاد سیکولر چہرے پر ایک اور بدنما داغ بھی ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے بھارت میں مذہبی عدم برداشت، انتہاپسندی اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز رویوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، مگر اب صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ مسلمانوں کو اپنے بنیادی مذہبی حقوق کی ادائیگی میں بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ الجزیرہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس اس حقیقت کی نشان دہی کررہی ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم مہم جاری ہے۔ کہیں مساجد کو شہید کیا جارہا ہے، کہیں مندروں کی تعمیر کے نام پر مسلم شناخت مٹانے کی کوشش ہورہی ہے اور اب عید کی نماز جیسے مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے بھی مسلمانوں کو عوامی مقامات فراہم کرنے سے انکار کیا جارہا ہے۔ کئی ریاستوں میں مسلمانوں کو دھمکیاں دی گئیں، اجتماعات محدود کیے گئے اور انتہاپسند گروہوں نے کھلے عام اشتعال انگیزی کی۔
سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ریاستی ادارے بھی اکثر غیرجانبدار کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق بعض مقامات پر پولیس نے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ہندو انتہاپسند عناصر کی حمایت یا خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔ یہ صورت حال ایک جمہوری ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہے، جہاں آئین تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ نریندر مودی کے گیارہ بارہ سالہ دورِ حکومت میں بھارت میں ہندوتوا نظریے کو جس انداز میں فروغ ملا ہے، اس نے ملک کے سماجی توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کا قتل، حجاب پر پابندیاں، شہریت کے متنازع قوانین، مساجد کے خلاف مہمات اور مذہبی منافرت پر مبنی سیاست نے بھارت کو اقلیتوں کے لیے غیرمحفوظ بنا دیا ہے۔ مسلمان، عیسائی، سکھ اور دیگر اقلیتیں خود کو مسلسل دباؤ اور خوف کے ماحول میں محسوس کررہی ہیں۔ بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے مگر زمینی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ مذہبی آزادی، انسانی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ کے بغیر کوئی بھی معاشرہ حقیقی جمہوری نہیں کہلا سکتا۔ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور انصاف پسند حلقوں کو بھارت میں بڑھتی مذہبی انتہاپسندی کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ اگر یہی صورت حال جاری رہی تو بھارت نہ صرف داخلی طور پر مزید تقسیم کا شکار ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی۔ نفرت، جبر اور مذہبی تعصب کبھی بھی کسی ریاست کو مضبوط نہیں بناتے۔ پائیدار امن اور ترقی صرف مساوات، برداشت اور انصاف کے اصولوں سے ہی ممکن ہے۔