اسد احمد
شہر کے پرانے حصے میں ایک تنگ گلی تھی، جہاں ایک چھوٹا سا مکان وقت کی مار سہتے سہتے بوڑھا ہوچکا تھا۔ اسی مکان میں حاجی عبدالرحمٰن رہتے تھے۔ سفید داڑھی، کمزور جسم اور چہرے پر برسوں کی محنت کے نشانات۔ محلے والے انہیں ایک عزت دار آدمی سمجھتے تھے، لیکن ان کے دل میں ایک ایسا بوجھ تھا جو کسی کو نظر نہیں آتا تھا۔
حاجی عبدالرحمٰن نے زندگی بھر دولت کمائی تھی۔ کاروبار پھیلایا، جائیدادیں بنائیں، بینک بیلنس بڑھایا، مگر ایک چیز کھودی تھی: اپنے رشتے۔
ان کا ایک بیٹا تھا، فہد۔ برسوں پہلے باپ بیٹے میں سخت جھگڑا ہوا تھا۔ تلخ الفاظ کا تبادلہ ہوا اور فہد گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ ابتدا میں عبدالرحمٰن کو یقین تھا کہ بیٹا خود لوٹ آئے گا، لیکن دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدل گئے۔ فہد واپس نہ آیا۔ وقت گزرتا گیا۔ دولت بڑھتی گئی مگر گھر خالی ہوتا گیا۔
ایک سرد رات حاجی عبدالرحمٰن اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھے تھے۔ اچانک بجلی چلی گئی۔ انہوں نے ایک پرانا چراغ جلایا۔ چراغ کی مدھم روشنی میں ان کی نظر دیوار پر لگی ایک تصویر پر پڑی۔ تصویر میں وہ، ان کی مرحوم بیوی اور ننھا فہد مسکرا رہے تھے۔ ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ "میں نے آخر کیا حاصل کیا؟” انہوں نے خود سے سوال کیا۔
اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر ایک دس بارہ سال کا لڑکا کھڑا تھا۔ اس کے کپڑے سادہ تھے اور چہرے پر معصومیت تھی۔ "بابا جی، امی نے کچھ کھانے کو مانگا ہے۔ دو دن سے گھر میں راشن نہیں۔” حاجی عبدالرحمٰن نے جیب سے پیسے نکالے اور لڑکے کو دے دیے۔ لڑکا خوشی سے چلا گیا۔ لیکن اس رات عبدالرحمٰن سو نہ سکے۔
ان کے ذہن میں بار بار ایک خیال آتا رہا: "میں نے زندگی بھر اپنے لیے جمع کیا، مگر دوسروں کے لیے کیا کیا؟” اگلے دن وہ پہلی بار اپنے محل نما دفتر کے بجائے شہر کے غریب علاقوں میں گئے۔ انہوں نے یتیم بچوں کو دیکھا، بیمار بوڑھوں کو دیکھا، بیواؤں کی مشکلات سنیں۔ ان کا دل کانپ اٹھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ حقیقی غربت پیسے کی نہیں، محبت اور توجہ کی کمی کی ہوتی ہے۔ اس دن سے ان کی زندگی بدلنے لگی۔
وہ روز کسی نہ کسی ضرورت مند کی مدد کرتے۔ کبھی کسی بچے کی فیس ادا کرتے، کبھی کسی بیمار کے علاج کا خرچ اٹھاتے، کبھی کسی بیوہ کے گھر راشن پہنچا دیتے۔ لوگ حیران تھے کہ یہ وہی عبدالرحمٰن ہیں جو کبھی سخت مزاج اور صرف کاروبار میں مصروف رہتے تھے۔ ایک دن وہ ایک یتیم خانے گئے۔ وہاں ایک بچی ان کے پاس آئی اور بولی: "بابا جی، آپ جب آتے ہیں تو ہمیں اپنے دادا یاد آتے ہیں۔” یہ سن کر عبدالرحمٰن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
برسوں بعد انہیں محسوس ہوا کہ دل کا ایک خالی کونا بھر رہا ہے۔ مگر ان کے اندر ایک زخم اب بھی باقی تھا: فہد کی جدائی۔ انہوں نے کئی بار بیٹے کو تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی کامیابی نہ ہوئی۔
پھر ایک دن ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ ڈاکٹر نے آرام کا مشورہ دیا۔ رات کو وہ بستر پر لیٹے تھے کہ انہیں اپنی مرحوم بیوی کی بات یاد آئی۔ "عبدالرحمٰن، انسان کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ کتنا کماتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنے دل جیتتا ہے۔” یہ الفاظ ان کے دل میں تیر کی طرح اتر گئے۔
اگلی صبح انہوں نے ایک خط لکھا۔ "میرے بیٹے فہد! اگر یہ خط تم تک پہنچے تو جان لو کہ تمہارا باپ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے۔ میں نے انا کو محبت پر ترجیح دی۔ میں نے تمہاری بات سننے کے بجائے تمہیں خاموش کرایا۔ اگر ممکن ہو تو مجھے معاف کردینا۔
تمہارا گناہ گار باپ،
عبدالرحمٰن”
انہوں نے وہ خط مختلف جاننے والوں کے ذریعے بھیج دیا۔ ہفتے گزر گئے۔ کوئی جواب نہ آیا۔ پھر ایک شام جب سورج ڈوب رہا تھا اور کمرے میں وہی پرانا چراغ جل رہا تھا، دروازے پر دستک ہوئی۔ عبدالرحمٰن نے کمزور قدموں سے دروازہ کھولا۔
سامنے ایک درمیانی عمر کا شخص کھڑا تھا۔ اس کی آنکھیں نم تھیں۔ "ابو…”
بس ایک لفظ۔
عبدالرحمٰن کے ہاتھ کانپنے لگے۔ "فہد…؟”
اگلے ہی لمحے دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر رو رہے تھے۔ ایسے رو رہے تھے جیسے برسوں کا درد آنسوؤں میں بہہ رہا ہو۔
فہد نے کہا: "ابو، میں آپ سے ناراض تھا، مگر کبھی نفرت نہیں کی۔ میں صرف آپ کی محبت چاہتا تھا۔” عبدالرحمٰن سسک اٹھے۔ "بیٹا، میں نے بہت دیر کر دی۔” فہد نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "نہیں ابو، جب انسان اپنی غلطی مان لے تو دیر نہیں ہوتی۔”
اس رات باپ اور بیٹے نے برسوں کی خاموشی توڑ دی۔ وہ باتیں کرتے رہے، روتے رہے، ہنستے رہے۔
عبدالرحمٰن کو پہلی بار محسوس ہوا کہ سکون بینک بیلنس میں نہیں، رشتوں میں ہوتا ہے۔ کچھ ماہ بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ مگر اس بار وہ اکیلے نہیں تھے۔ ان کے سرہانے فہد بیٹھا تھا۔ ان کے اردگرد وہ لوگ تھے جن کی انہوں نے مدد کی تھی۔ یتیم بچے، غریب خاندان، بیمار بوڑھے، سب دعا کر رہے تھے۔ نمازِ جنازہ میں ایک غیر معمولی ہجوم تھا۔ کسی نے کہا: "انہوں نے سیکڑوں لوگوں کی مدد کی۔” کسی نے کہا: "انہوں نے ہمیں امید دی تھی۔” اور ایک یتیم بچی رو کر بولی: "آج ہمارے دادا چلے گئے۔”
فہد خاموش کھڑا سب سن رہا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ اس کے باپ نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں وہ دولت جمع کی تھی جو کبھی ختم نہیں ہوتی: نیکی، محبت اور دعائیں۔ کہتے ہیں اس رات فہد اپنے والد کے کمرے میں گیا۔ وہی پرانا چراغ ایک کونے میں رکھا تھا۔ اس نے چراغ کو جلایا۔ مدھم روشنی پورے کمرے میں پھیل گئی۔ فہد نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: "ابو، آپ نے سچ کہا تھا۔ انسان مر جاتا ہے، مگر اس کی نیکی روشنی بن کر زندہ رہتی ہے۔” اور واقعی، بعض لوگ اپنے جانے کے بعد بھی چراغ کی طرح جلتے رہتے ہیں، دوسروں کے راستے روشن کرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ دولت ختم ہو جاتی ہے، شہرت مٹ جاتی ہے، طاقت چھن جاتی ہے، مگر ایک اچھا دل، ایک معاف کر دینے والا رویہ اور ایک نیکی سے بھرا عمل کبھی نہیں مرتا۔