بلال ظفر سولنگی
ہر سال 31 مئی کو دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد تمباکو اور نکوٹین کے استعمال کے مضر اثرات سے آگاہی پیدا کرنا اور تمباکو نوشی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور عمل درآمد کے عزم کی تجدید کرنا ہے۔ رواں برس عالمی یومِ انسدادِ تمباکو نوشی کی تھیم کا محور نوجوان نسل کو تمباکو اور نکوٹین مصنوعات سے محفوظ بنانا اور نوجوانوں کو ہدف بنانے والی صنعتوں کے حربوں کو بے نقاب کرنا ہے۔
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان، خصوصاً کراچی جیسے بڑے شہروں میں نوجوانوں اور کم عمر طلبہ میں ویپنگ اور ای سگریٹ کے استعمال میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ منٹ، مینگو، اسٹرابیری، چاکلیٹ اور ببل گم جیسے فلیور، سوشل میڈیا پر تشہیر اور یہ غلط تاثر کہ ویپنگ روایتی سگریٹ نوشی سے کم نقصان دہ ہے، نوجوان نسل کو خاموشی سے نکوٹین کی لت کی جانب دھکیل رہے ہیں۔
شہر بھر میں ویپ اور ای سگریٹ کی دکانوں کا جال بھی تیزی سے پھیل رہا ہے اور مناسب قانون سازی نہ ہونے کے باعث یہ کاروبار ایک منافع بخش صنعت کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ صرف کراچی میں ہی قریباً ہر بڑے تجارتی علاقے میں ویپ اور ای سگریٹ کی دکانیں باآسانی دیکھی جاسکتی ہیں۔
حال ہی میں ضلع ایسٹ کراچی کے اسکول اساتذہ کے ساتھ تمباکو اور نکوٹین کے نقصانات سے متعلق ایک آگاہی سیشن کے دوران مجھے ایک استاد نے چونکا دینے والا واقعہ بیان کیا۔ ان کے مطابق چند ماہ قبل جیکب آباد میں تعیناتی کے دوران اسکول کے طلبہ سے کلاس روم کے اندر ای سگریٹ برآمد کی گئی تھی۔ اساتذہ نے مزید انکشاف کیا کہ کراچی میں بھی بڑی تعداد میں طلبہ اسکول کے باہر ای سگریٹ استعمال کرتے ہیں جب کہ مہنگی قیمت کے باعث بعض طلبہ مل کر ایک ہی ڈیوائس خریدتے ہیں۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ ویپنگ کا رجحان اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ چھوٹے شہروں اور قصبوں تک بھی پھیل چکا ہے اور طلبہ میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔
اگر ویپنگ مصنوعات کی اقسام کی بات کی جائے تو مارکیٹ میں ڈسپوزایبل ویپس، پوڈ سسٹمز، ویپ پینز اور ریچارج ایبل ای سگریٹس سمیت مختلف اقسام دستیاب ہیں۔ ڈسپوزایبل ویپس محدود مدت کے استعمال کے بعد پھینک دیے جاتے ہیں جب کہ ریفل ایبل ڈیوائسز میں ای لیکویڈ بھر کر انہیں دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ تمام ڈیوائسز بیٹری سے چلنے والے حرارتی نظام کے ذریعے کیمیائی محلول کو بخارات میں تبدیل کرتی ہیں، جنہیں صارف سانس کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچاتا ہے۔ زیادہ تر ای لیکویڈز میں نکوٹین، فلیورنگ ایجنٹس اور مختلف کیمیائی مرکبات شامل ہوتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ کے مطابق ای سگریٹ اور ویپنگ مصنوعات صحت کے لیے نقصان دہ ہیں اور بچوں، نوجوانوں، حاملہ خواتین اور غیر تمباکو نوش افراد کے لیے محفوظ نہیں۔ ان مصنوعات میں موجود نکوٹین اور دیگر زہریلے کیمیکلز نوجوانوں کی دماغی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں، خصوصاً دماغ کے وہ حصے جو توجہ، سیکھنے، مزاج اور فیصلہ سازی سے متعلق ہوتے ہیں۔
نکوٹین دماغ میں ڈوپامین نامی کیمیکل کے اخراج کو متاثر کرتی ہے، جو خوشی، توجہ، سیکھنے اور جذباتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب نوجوان ویپنگ مصنوعات استعمال کرتے ہیں تو نکوٹین فوری ڈوپامین کی سطح بڑھاتی ہے، جس سے وقتی سکون اور خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ تاہم مسلسل استعمال کے نتیجے میں دماغ نکوٹین کا عادی ہوجاتا ہے اور اس کے بغیر معمول کے مطابق کام کرنا مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔
کم عمری میں نکوٹین کا استعمال دماغی نشوونما کو متاثر کرسکتا ہے، یادداشت اور توجہ کی صلاحیت کمزور کرسکتا ہے جب کہ ذہنی دباؤ، بے چینی اور مستقبل میں دیگر نشہ آور اشیاء کی لت کے خطرات میں اضافہ کرسکتا ہے۔
جدید ویپنگ ڈیوائسز بعض اوقات عام سگریٹ کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں نکوٹین فراہم کرتی ہیں، جس کے باعث نوجوانوں میں نشے کی عادت تیزی سے پروان چڑھتی ہے۔ اسی طرح امریکن لنگ ایسوسی ایشن نے ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ فلیورڈ ویپ مصنوعات میں استعمال ہونے والے بعض کیمیکلز پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاسکتے ہیں اور انہیں سنگین سانس کی بیماریوں سے منسلک پایا گیا ہے۔
پاکستان میں ای سگریٹ اور ویپنگ مصنوعات سے متعلق مؤثر قانون سازی نہ ہونے کے باعث یہ مصنوعات کم عمر بچوں اور نوجوانوں کی پہنچ تک باآسانی موجود ہیں۔ ماہرینِ صحت، انسدادِ تمباکو تنظیمیں اور سول سوسائٹی حکومت سے مطالبہ کررہی ہے کہ ویپنگ مصنوعات کی فروخت، تشہیر اور آن لائن دستیابی پر سخت قوانین نافذ کیے جائیں، خصوصاً ان مصنوعات پر جو نوجوانوں کو متوجہ کرنے کے لیے مخصوص انداز میں تیار اور مارکیٹ کی جارہی ہیں۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور آن لائن مارکیٹنگ مہمات کا کردار بھی تشویش ناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ رنگ برنگ پیکنگ، جدید ڈیزائنز اور خوشبودار ذائقوں کے ذریعے ویپنگ کمپنیوں کی جانب سے نکوٹین کے استعمال کو فیشن اور جدید طرزِ زندگی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جب کہ ان مصنوعات کے سنگین طبی خطرات کو پسِ پشت ڈالا جارہا ہے۔
عالمی یومِ انسدادِ تمباکو نوشی کے موقع پر والدین، اساتذہ، پالیسی سازوں اور معاشرے کے تمام طبقات پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوجوان نسل کو ویپنگ کے خطرناک اثرات سے آگاہ کریں۔ دلکش پیکنگ اور خوش ذائقہ فلیورز کے پیچھے درحقیقت نکوٹین کی ایک خطرناک لت چھپی ہوئی ہے جو نوجوانوں کی جسمانی صحت، ذہنی نشوونما اور مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بنتی جارہی ہے۔ تمباکو نوشی کے خلاف جنگ اب صرف سگریٹ تک محدود نہیں رہی بلکہ ویپنگ اور جدید نکوٹین مصنوعات بھی اسی بڑھتے ہوئے صحتِ عامہ کے بحران کا حصہ بن چکی ہیں۔ نوجوان نسل کو ان نئے خطرات سے محفوظ رکھنا اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوچکا ہے۔