قربانی صرف جانور کی نہیں ہوتی

وقاص بیگ

کراچی کی رات ہمیشہ کی طرح روشن تھی۔ بلند عمارتوں کی چمکتی کھڑکیاں، سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں، فوڈ اسٹریٹس کا شور اور ہر طرف زندگی کی بھاگ دوڑ۔ انہی روشنیوں کے درمیان گلشنِ اقبال کے ایک اپارٹمنٹ کی ساتویں منزل پر احسن اپنے گھر کی بالکونی میں خاموش کھڑا تھا۔ نیچے شہر جاگ رہا تھا، مگر اُس کے اندر عجیب بے چینی تھی۔ احسن ایک نجی بینک میں اسسٹنٹ منیجر تھا۔ تنخواہ اچھی تھی، گھر اچھا تھا، بیوی مریم اور ایک چھوٹی بیٹی آیت اُس کی دنیا تھے۔ باہر سے دیکھنے والے اُسے کامیاب کہتے تھے، مگر وہ جانتا تھا کہ زندگی صرف اچھی نوکری اور مہنگے موبائل کا نام نہیں۔
عیدالاضحیٰ قریب تھی۔ پورے اپارٹمنٹ میں قربانی کی باتیں ہورہی تھیں۔ کسی نے دو لاکھ کا بکرا خریدا تھا، کوئی دبئی سے خاص نسل کا جانور منگوا رہا تھا، کوئی سوشل میڈیا کیلئے ویڈیوز بنارہا تھا۔ احسن کی بیٹی آیت بھی روز ضد کرتی: “بابا… اس بار بڑا سا بکرا لیں گے نا؟”
احسن مسکرا دیتا۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ اس بار اُس کے پاس اضافی پیسے نہیں تھے۔
چند ماہ پہلے اُس کی والدہ کی بائی پاس سرجری ہوئی تھی۔ بینک بیلنس قریباً ختم ہوچکا تھا۔ اُس رات مریم نے آہستہ سے پوچھا: “پریشان ہو؟” احسن نے موبائل ایک طرف رکھا۔ “سوچ رہا ہوں قربانی کیسے ہوگی… آیت کی بھی خواہش ہے…” مریم خاموش رہی، پھر دھیرے سے بولی: “اللہ نیت دیکھتا ہے۔ خود کو اتنا مت تھکاؤ۔” دو دن بعد احسن اپنے دفتر سے واپس آرہا تھا کہ سگنل پر اُس کی گاڑی رکی۔ بارش ہورہی تھی۔ سڑک کنارے ایک دس بارہ سال کا بچہ پھول بیچ رہا تھا۔ کپڑے بھیگ چکے تھے، چہرے پر تھکن تھی۔
احسن نے شیشہ نیچے کیا۔ “اس وقت؟ گھر نہیں جاتے؟” بچے نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: “امی اسپتال میں ہیں۔ دوائی کیلئے پیسے چاہئیں…” سگنل گرین ہوگیا۔ پیچھے سے ہارن بجنے لگے۔ احسن گاڑی آگے بڑھائی تو ضرور، مگر اُس بچے کی آواز اُس کے ذہن میں رہ گئی۔ اگلے دن بھی وہی بچہ اُسی جگہ ملا۔ پھر تیسرے دن۔
اس بار احسن گاڑی سے اترا۔ بچے کا نام زین تھا۔ اُس کی ماں کینسر کے علاج کیلئے سرکاری اسپتال میں داخل تھی۔ باپ کئی سال پہلے انتقال کرچکا تھا۔ احسن اُسے اسپتال لے گیا۔ وہاں جو منظر اُس نے دیکھا، اُس نے اُسے اندر سے ہلادیا۔ زین کی ماں کمزور بستر پر لیٹی تھی۔ دوائیوں کے پیسے نہیں تھے۔ ڈاکٹر بار بار کہہ رہے تھے کہ اگلے انجیکشن جلد خریدنا ہوں گے۔ واپس آتے ہوئے احسن کی گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔
گھر پہنچ کر اُس نے مریم کو سب بتایا۔ کافی دیر دونوں خاموش بیٹھے رہے۔ پھر مریم نے ایک جملہ کہا جس نے سب بدل دیا۔ “احسن… اگر ہم اس بچے کی والدہ کے لیے کچھ کرسکیں تو؟” احسن اُسے دیکھنے لگا۔
“مطلب؟” “مطلب یہ کہ اس بار جانور چھوٹا کرلیتے ہیں… باقی پیسے زین کی ماں کے علاج پر لگا دیتے ہیں۔”
احسن خاموش ہوگیا۔ ایک طرف بیٹی کی خوشی، سوسائٹی کی روایتیں، لوگوں کے سوال… اور دوسری طرف ایک بیمار ماں اور اُس کا بے بس بچہ۔
وہ پوری رات سو نہ سکا۔ اگلی صبح اُس نے فیصلہ کرلیا۔ اس سال اُس نے مہنگا جانور خریدنے کے بجائے ایک سادہ سا بکرا لیا… اور باقی رقم زین کی ماں کے علاج کیلئے جمع کروادی۔ عید سے ایک دن پہلے آیت نے معصومیت سے پوچھا:
“بابا… ہمارے اپارٹمنٹ والوں کے بکرے اتنے بڑے ہیں… ہمارا چھوٹا کیوں ہے؟”
احسن کچھ بول نہ سکا۔ مریم نے بیٹی کو گود میں لیا اور کہا: “کیونکہ چھوٹا بکرا میری پیاری گڑیا کے ساتھ آسانی سے کھیل لیتا ہے۔”
آیت چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کہنے لگی، یہ تو ہے۔ احسن کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ عید کا دن آیا۔ اپارٹمنٹ میں شور تھا، تصویریں تھیں، مہنگے جانوروں کی نمائش تھی۔ لیکن احسن کے گھر میں عجیب سا سکون تھا۔ دوپہر کے وقت دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر زین کھڑا تھا۔ ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ڈبہ تھا۔ “انکل… امی نے بھیجا ہے…” ڈبے میں گھر کی بنی ہوئی سویاں تھیں… اور ایک چھوٹی سی چٹھی۔ احسن نے کانپتے ہاتھوں سے چٹھی کھولی۔
“بھائی، میں نہیں جانتی آپ کون ہیں، مگر آپ نے مجھے یہ احساس دلایا کہ دنیا میں ابھی انسانیت زندہ ہے۔ آپ نے صرف مدد نہیں کی… ایک بچے کی امید بچائی ہے۔ اللہ آپ کو سدا خوش رکھے۔”
احسن کافی دیر خاموش کھڑا رہا۔ اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ قربانی صرف جانور کے خون کا نام نہیں۔ قربانی اصل میں اپنی خواہش، اپنی نمائش، اپنی انا کو اللہ کیلئے چھوڑ دینے کا نام ہے۔ ہم اکثر قربانی کو سوشل میڈیا کی تصاویر، مہنگے جانوروں اور تعریفوں میں ڈھونڈتے ہیں… حالانکہ قربانی کا اصل فلسفہ انسان کے دل میں چھپا ہوتا ہے۔ کبھی کسی بھوکے کے چولہے میں… کبھی کسی یتیم کی مسکراہٹ میں…
اور کبھی کسی بیمار ماں کی سانسوں میں۔ اُس رات احسن بالکونی میں کھڑا نیچے جگمگاتے شہر کو دیکھ رہا تھا۔ مگر آج اُسے شہر کی روشنیاں پہلے سے مختلف لگ رہی تھیں۔ کیونکہ آج اُس نے اپنی خواہش قربان کی تھی۔