قائداعظمؒ، اصولوں کا روشن استعارہ

غلام مصطفیٰ

کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ ایک زمانہ بھی رخصت ہوجاتا ہے، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مٹی کے سپرد ہوکر بھی قوموں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کے قدموں کے نشان وقت کی آندھیاں نہیں مٹاسکتیں، ان کی آواز تاریخ کے شور میں دب نہیں سکتی اور ان کا خواب نسلوں کے گزرنے کے باوجود اپنی تعبیر کا راستہ دیکھتا رہتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ بھی انہی نایاب لوگوں میں سے ایک تھے۔
11 ستمبر 1948 کا دن ہمارے لیے صرف ایک قومی تاریخ نہیں، ایک ایسا زخم ہے جو ہر سال تازہ ہوجاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان کا عظیم معمار ہم سے رخصت ہوا۔ وہ شخص جس نے اپنی صحت، آرام، دولت اور زندگی کی بے شمار آسائشیں ایک ایسے خواب کے لیے قربان کردیں جسے اس وقت بہت سے لوگ ناممکن سمجھتے تھے۔ مگر جناحؒ نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ انہوں نے ایک بکھری ہوئی قوم کو آواز دی، اسے شعور دیا، اسے منزل کا یقین دیا اور پھر اپنی بے مثال قیادت میں اسے منزل تک پہنچادیا۔ دنیا کی تاریخ میں کم ہی ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں ایک فرد کی ثابت قدمی پوری قوم کی تقدیر بدل دے۔ پاکستان کا قیام اسی غیر معمولی عزم کی داستان ہے۔
قائداعظمؒ کے پاس نہ کوئی وسیع سلطنت تھی، نہ کوئی طاقتور فوج، نہ وسائل کا خزانہ۔ ان کے پاس صرف ایک اصولی مؤقف، ایک واضح منزل اور ایک فولادی عزم تھا۔ وہ جانتے تھے کہ قومیں ہتھیاروں سے نہیں، یقین سے بنتی ہیں اور منزلیں شور سے نہیں، مسلسل جدوجہد سے حاصل ہوتی ہیں۔ آج جب ہم ان کی برسی پر انہیں یاد کرتے ہیں تو دل میں ایک عجیب سا سوال اٹھتا ہے: ہم نے قائداعظمؒ سے کیا حاصل کیا اور انہیں کیا لوٹایا؟ انہوں نے ہمیں پاکستان دیا، ہم نے انہیں کیا دیا؟ انہوں نے ہمیں آزادی دی، ہم نے اس آزادی کی کتنی قدر کی؟ انہوں نے قانون کی بالادستی کا خواب دیکھا، ہم نے قانون کو کتنا مضبوط کیا؟ انہوں نے اتحاد کا درس دیا، ہم نے اپنے درمیان کتنی دیواریں کھڑی کردیں؟ انہوں نے میرٹ، دیانت اور کردار کو قوم کی طاقت سمجھا، ہم نے ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر کتنی بار ترجیح دی؟
یہ سوال صرف سیاست دانوں سے نہیں، ہم سب سے ہے۔ قائداعظمؒ کا پاکستان کسی ایک طبقے، جماعت، زبان یا علاقے کا پاکستان نہیں تھا۔ وہ ایک ایسا وطن چاہتے تھے جہاں شہری کی شناخت اس کا کردار اور اس کے حقوق ہوں، جہاں ریاست طاقتور کے سامنے کمزور اور کمزور کے سامنے طاقتور نہ بنے، جہاں عدالت کا دروازہ ہر شہری کے لیے یکساں کھلا ہو، جہاں اقلیتیں خوف نہیں، اعتماد کے ساتھ زندگی گزاریں، جہاں تعلیم دولت مند کا حق نہیں بلکہ ہر بچے کا بنیادی حق ہو۔
وہ پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے تھے جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور ادارے افراد سے بڑے ہوں۔ آج ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ قائداعظمؒ کے خواب اور ہمارے حال کے درمیان یہ فاصلہ کیوں پیدا ہوگیا؟ ہم نے عمارتیں تو بہت بنائیں، مگر کردار کی بنیادیں کمزور ہونے دیں۔ ہم نے ترقی کے منصوبے تو بنائے، مگر انصاف کی سڑک کہیں ادھوری چھوڑ دی۔ ہم نے سیاست کو عوام کی خدمت کا ذریعہ بنانے کے بجائے اکثر اقتدار کی کشمکش بنادیا۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی اور تنقید کو نفرت سمجھ لیا۔
قائداعظمؒ کی زندگی ہمیں اس کے برعکس راستہ دکھاتی ہے۔ وہ اختلاف کرتے تھے، مگر دلیل کے ساتھ۔ وہ مقابلہ کرتے تھے، مگر اصول کے ساتھ۔ وہ سیاست کرتے تھے، مگر کردار کے ساتھ۔ ان کی سب سے بڑی طاقت ان کی زبان نہیں، ان کی سچائی تھی، ان کا سب سے بڑا ہتھیار ان کا عزم تھا۔ اسی لیے ان کا نام آج بھی احترام سے لیا جاتا ہے۔
قائداعظمؒ کی زندگی کا ایک اور سبق یہ ہے کہ حالات کبھی قوم کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرتے، قوم کا عزم حالات کا فیصلہ کرتا ہے۔ جب برصغیر کے مسلمان مایوسی میں گھرے ہوئے تھے، جناحؒ نے انہیں امید دی۔ جب راستے بند دکھائی دیتے تھے، انہوں نے نئی راہیں تلاش کیں۔ جب منزل دُور تھی، انہوں نے قدم روکنے سے انکار کردیا۔ اور پھر 14 اگست 1947 کو دنیا نے دیکھا کہ ایک خواب حقیقت بن چکا تھا۔ پاکستان وجود میں آچکا تھا۔
مگر آزادی کا حصول منزل نہیں، ایک نئی ذمے داری کا آغاز تھا۔ آج قائداعظمؒ ہم سے صرف یہ نہیں پوچھتے کہ پاکستان قائم ہے یا نہیں۔ شاید وہ یہ پوچھتے کہ پاکستان کیسا ہے؟ کیا یہاں انصاف ہے؟ کیا یہاں میرٹ ہے؟ کیا یہاں عام آدمی باعزت زندگی گزار سکتا ہے؟ کیا ہمارا نوجوان اپنے مستقبل کو محفوظ سمجھتا ہے؟ کیا ہماری سیاست میں اصول زندہ ہیں؟ کیا ہمارے ادارے مضبوط ہیں؟ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بہتر وطن دے رہے ہیں؟ ان سوالوں کا جواب ہی دراصل قائداعظمؒ کو ہمارا خراجِ عقیدت ہوگا۔
قائداعظمؒ کی تصویر ہر دفتر، ہر اسکول اور ہر ادارے میں موجود ہے، مگر قائداعظمؒ کا اصل مقام ہماری دیواریں نہیں، ہمارے کردار ہونے چاہئیں۔ اگر ہم جھوٹ بولتے ہوئے ان کی تصویر کے سامنے سے گزریں، اگر ہم ناانصافی کرتے ہوئے ان کا نام لیں، اگر ہم قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر قربان کرتے ہوئے ان کے اصولوں کی بات کریں تو یہ صرف تضاد نہیں، قائداعظمؒ کی امانت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ آج ان کی برسی پر ہمیں پھولوں سے زیادہ عہد کی ضرورت ہے۔ ایسا پاکستان بنانے کا عہد، جہاں قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے ایک ہو۔ ایسا پاکستان بنانے کا عہد، جہاں نوجوان کے ہاتھ میں ہجرت کا ٹکٹ نہیں، کامیابی کا موقع ہو۔ ایسا پاکستان بنانے کا عہد، جہاں غریب کا بچہ بھی بڑے خواب دیکھ سکے۔ ایسا پاکستان بنانے کا عہد، جہاں سیاست اقتدار نہیں، خدمت کا نام ہو اور ایسا پاکستان بنانے کا عہد، جسے دیکھ کر قائداعظمؒ کی روح کو یہ اطمینان ہو کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔
قائداعظمؒ جسمانی طور پر ہم سے جدا ہوئے تو تھے، مگر وہ پاکستان کے ہر خواب میں زندہ ہیں۔ وہ ہر اس بچے کی آنکھ میں زندہ ہیں جو تعلیم حاصل کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہے، ہر اس نوجوان کے عزم میں زندہ ہیں جو اپنے وطن کی تقدیر بدلنا چاہتا ہے، ہر اس شخص کے کردار میں زندہ ہیں جو مشکل کے باوجود سچ کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ گیارہ ستمبر ہمیں رلاتا ضرور ہے، مگر یہ دن ہمیں جگاتا بھی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قائداعظمؒ نے پاکستان ہمارے لیے چھوڑا تھا، ہمارے بعد آنے والی نسلوں کے لیے بھی چھوڑا تھا۔ اب اس امانت کی حفاظت ہماری ذمے داری ہے۔ قائداعظمؒ دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر اُن کا خواب ابھی زندہ ہے۔ پاکستان اپنے قائد کو آج بھی پکار رہا ہے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اپنے قائد کے خواب کو صرف کتابوں میں نہیں، اپنے کردار میں زندہ رکھنے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ قومیں اپنے محسنوں کو صرف یاد نہیں کرتیں، ان کے خوابوں کی حفاظت بھی کرتی ہیں۔ اور پاکستان، قائداعظمؒ کے اسی خواب کی امانت ہے۔