عبدالعزیز بلوچ
شہر کے پرانے حصے میں ایک تنگ سی گلی تھی، جہاں شام ڈھلتے ہی دکانوں کے شٹر گرنے لگتے تھے۔ اسی گلی کے آخری سرے پر ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان تھی۔ دکان کا مالک زبیر تھا، جو برسوں سے کتابیں بیچ رہا تھا، مگر پچھلے کچھ عرصے سے حالات نے اس کا کاروبار قریباً ختم کردیا تھا۔ ایک رات زبیر دکان بند کرنے لگا تو اس نے دیکھا کہ سامنے والی گلی میں اندھیرا پھیل چکا ہے۔ بجلی کئی گھنٹوں سے بند تھی۔ لوگ موبائل کی روشنی میں راستہ تلاش کررہے تھے۔ زبیر نے دکان کے کونے میں رکھا پرانا لالٹین نکالا، اسے جلایا اور دکان کے باہر لٹکا دیا۔ اس کا پڑوسی رافع ہنس کر بولا، “اتنے بڑے اندھیرے میں یہ چھوٹی سی لالٹین کیا کرے گی؟”
زبیر مسکرایا۔ “پورا شہر روشن کرنا میرے اختیار میں نہیں، مگر اپنے دروازے کے سامنے روشنی تو کرسکتا ہوں۔” رافع نے کندھے اچکائے اور گھر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد ایک بوڑھی عورت اس چراغ کی روشنی میں گزری۔ اس کے ہاتھ میں دوائیوں کا تھیلا تھا۔ پھر ایک بچہ آیا جو اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے راستہ ڈھونڈ رہا تھا۔ اس کے بعد ایک سائیکل رکشے والے نے اسی روشنی میں گڑھے سے بچتے ہوئے رکشا نکالا۔
زبیر خاموشی سے سب دیکھتا رہا۔ اگلی صبح جب وہ دکان کھولنے پہنچا تو دروازے کے باہر ایک لفافہ پڑا تھا۔ اس نے لفافہ کھولا تو اندر ایک چھوٹا سا خط تھا۔ “بیٹا زبیر! کل رات تمہاری لالٹین کی روشنی میں میں بحفاظت گھر پہنچی۔ میری دوا وقت پر مل گئی۔ میں تمہیں پیسے تو نہیں دے سکتی، مگر اللہ تمہارے گھر میں ہمیشہ روشنی رکھے۔”
زبیر کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ وہ جانتا تھا کہ اس نے کوئی بڑا کام نہیں کیا تھا۔ نہ کسی اخبار میں اس کا ذکر ہونا تھا، نہ کوئی انعام ملنا تھا۔ مگر پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ شاید نیکی کی قیمت اس بات سے نہیں لگتی کہ دنیا اسے کتنا دیکھتی ہے۔ اسی روز ایک نوجوان اس کی دکان پر آیا۔ “کیا آپ کے پاس پرانی کتابیں ہیں؟” “بہت سی ہیں۔”
نوجوان نے کہا، “میرے پاس پیسے کم ہیں۔ امتحان قریب ہیں۔ اگر آپ ادھار دے دیں تو میں اگلے ماہ مزدوری ملنے پر رقم دے دوں گا۔” زبیر نے کتابیں نکالیں اور اسے دے دیں۔
نوجوان نے حیرت سے پوچھا، “آپ کو یقین ہے کہ میں پیسے واپس کردوں گا؟” زبیر نے جواب دیا، “مجھے تم پر نہیں، اللہ پر یقین ہے۔”
نوجوان کتابیں لے کر چلا گیا۔ مہینے گزرتے گئے۔ کاروبار آہستہ آہستہ بہتر ہونے لگا۔ وہی نوجوان واپس آیا۔ اس نے کتابوں کی رقم کے ساتھ کچھ اضافی پیسے بھی زبیر کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ “یہ اضافی کیوں؟”
نوجوان مسکرایا۔ “آپ نے مجھے صرف کتابیں نہیں دی تھیں، آپ نے مجھے یقین دیا تھا۔ اب میں چاہتا ہوں کہ یہ یقین کسی اور تک پہنچے۔”
زبیر نے وہ اضافی رقم لینے سے انکار کیا۔ “اگر واقعی کچھ واپس کرنا چاہتے ہو تو کسی ضرورت مند طالب علم کی مدد کردینا۔”
نوجوان نے وعدہ کرلیا۔ برسوں بعد وہ نوجوان ایک کامیاب استاد بنا۔ اس نے اپنی پہلی تنخواہ سے محلے کے غریب بچوں کے لیے کتابیں خریدیں۔ ایک دن وہ زبیر کے پاس آیا اور بولا، “آپ کو یاد ہے، آپ نے مجھے وہ کتابیں دی تھیں؟”
زبیر ہنس پڑا۔ “میں تو بھول بھی گیا تھا۔” نوجوان نے کہا، “مگر میں نہیں بھولا۔ آپ کا چراغ صرف ایک رات نہیں جلا تھا، وہ میری زندگی میں آج تک روشن ہے۔”
زبیر نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اسے قرآن کی وہ حقیقت یاد آئی کہ اللہ نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔ اس دن اسے سمجھ آیا کہ انسان اکثر بڑی تبدیلی کے انتظار میں چھوٹی نیکی چھوڑ دیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جب میرے پاس دولت ہوگی تو صدقہ کروں گا، جب وقت ہوگا تو کسی کی مدد کروں گا، جب اختیار ہوگا تو ظلم روکوں گا۔ حالانکہ اللہ کے ہاں شاید وہی چھوٹا قدم سب سے بڑا بن جائے جسے ہم معمولی سمجھ کر اٹھاتے ہیں۔ ایک چراغ پورا شہر روشن نہیں کرسکتا۔ مگر اندھیرے کو یہ ضرور بتا دیتا ہے کہ روشنی ابھی زندہ ہے۔
سبق: اپنی استطاعت کو کبھی معمولی نہ سمجھو۔ کسی کے لیے ایک لفظ، ایک کتاب، ایک دعا، ایک راستہ یا ایک چھوٹی سی مدد اس کی زندگی بدل سکتی ہے۔ نیکی کا کام کرتے وقت یہ نہ دیکھو کہ دنیا اسے دیکھ رہی ہے یا نہیں؛ صرف یہ دیکھو کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ کیونکہ جو نیکی اللہ کے لیے کی جائے، اس کی روشنی کبھی ختم نہیں ہوتی۔