اختیار عوام تک، نظام بدلنا ہوگا

وقاص بیگ

پاکستان کو آج صرف معاشی استحکام کی نہیں، انتظامی تجدید کی بھی ضرورت ہے۔ یہ تجدید کسی صوبے، علاقے یا سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ اس سوال کا جواب ہے کہ 25 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں ریاستی اختیار عام شہری تک کتنے مؤثر طریقے سے پہنچ رہا ہے؟ پاکستان کی 2023 کی مردم شماری نے ایک ایسی حقیقت ہمارے سامنے رکھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 99 ہزار تک پہنچ چکی جب کہ 2025 کے عالمی بینک کے اعدادوشمار میں پاکستان کی آبادی 25 کروڑ 52 لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ یہ صرف آبادی میں اضافے کا معاملہ نہیں۔ آبادی کے ساتھ شہری بستیاں پھیل رہی ہیں، معاشی سرگرمیوں کے مراکز تبدیل ہورہے ہیں، نئی آبادیاں وجود میں آرہی ہیں اور عوام کی ریاست سے توقعات بھی بڑھ رہی ہیں۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی 38.88 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے، جبکہ سندھ میں شہری آبادی کا تناسب 53.97 فیصد اور پنجاب میں 40.71 فیصد ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا انتظامی ڈھانچہ بھی اسی رفتار سے عوام کے قریب آیا ہے؟ یہاں نئے انتظامی یونٹس کی بحث جنم لیتی ہے۔ دنیا بھر میں انتظامی ڈھانچے جامد نہیں رہتے۔ آبادی، رقبے، شہری پھیلاؤ، معاشی سرگرمیوں اور عوامی ضروریات کے مطابق ریاستیں اپنے انتظامی نظام کو بہتر بناتی ہیں۔ پاکستان میں بھی نئے انتظامی یونٹس پر بحث کو محض سیاسی نعرے کے بجائے انتظامی اصلاحات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم دلیل اختیار کی ہے۔ جولائی 2026 میں جاری عالمی بینک کی رپورٹ "Strengthening Fiscal Federalism in Pakistan” نے واضح کیا کہ 2010 کی آئینی اصلاحات کے باوجود اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا وعدہ مکمل طور پر پورا نہیں ہوسکا۔ رپورٹ کے مطابق 2005 میں مجموعی سرکاری اخراجات میں مقامی حکومتوں کا حصہ تقریباً 10 فیصد تھا، جو 2024 میں 5 فیصد سے بھی کم رہ گیا۔
یہ اعدادوشمار ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں: اگر فیصلے اور وسائل مقامی سطح تک نہیں پہنچیں گے تو عام آدمی کے مسائل کا حل اس کے دروازے تک کیسے پہنچے گا؟ اسی رپورٹ کے مطابق 2023 میں صوبائی حکومتوں کے اخراجات کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ جاری اخراجات پر صرف ہوا جب کہ اضلاع میں اخراجات کا تعین بھی زیادہ تر تاریخی طریقہ کار کے مطابق ہوتا رہا، نہ کہ غربت اور بنیادی سہولتوں کے حقیقی خلا کے مطابق۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نئے انتظامی یونٹس کا تصور اہم ہوجاتا ہے۔
نیا انتظامی یونٹ محض نیا سیکریٹریٹ، نیا دفتر یا نئے عہدے کا نام نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ فیصلہ سازی، بجٹ، منصوبہ بندی اور نگرانی کا نظام عوام کے قریب آئے۔ ایسا انتظامی یونٹ جہاں شہری کو اپنے بنیادی مسئلے کے لیے دور دراز صوبائی مرکز کے چکر نہ لگانے پڑیں، جہاں مقامی ضرورت کو مقامی ترجیح حاصل ہو اور جہاں افسران کی جواب دہی بھی مقامی سطح پر ممکن ہو۔ پاکستان میں محرومی کی تصویر بھی اس بحث کو مزید سنجیدہ بناتی ہے۔
عالمی بینک کے مطابق مالی سال 2024 میں 40.5 فیصد پاکستانی 3.65 ڈالر یومیہ کی عالمی غربت کی لکیر سے نیچے تھے اور اسی عرصے میں مزید 26 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔ تعلیم کا بحران اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ یونیسیف کے مطابق پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ پنجاب میں یہ تعداد 97 لاکھ، سندھ میں 74 لاکھ، خیبرپختونخوا میں 45 لاکھ اور بلوچستان میں 35 لاکھ کے قریب ہے۔ یہ اعدادوشمار صرف تعلیمی ناکامی کی داستان نہیں، انتظامی ترجیحات پر بھی سوال ہیں۔ جب بلوچستان کے تقریباً 69 فیصد اسکول جانے کی عمر کے بچے تعلیم سے باہر ہوں اور سندھ میں یہ شرح 44 فیصد ہو تو کیا صرف بڑے صوبائی دارالحکومتوں سے پورے صوبے کی یکساں ضرورتوں کا مؤثر انتظام ممکن ہے؟
انسانی ترقی کا معاملہ بھی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی 2025 رپورٹ میں پاکستان 193 ممالک میں 168ویں نمبر پر رہا اور اسے کم انسانی ترقی کے زمرے میں رکھا گیا۔ عدم مساوات کو شامل کیا جائے تو پاکستان کا انسانی ترقی کا اشاریہ مزید 33.1 فیصد کم ہوجاتا ہے۔ یہ صورت حال ہمیں الزام تراشی نہیں بلکہ اصلاح کی طرف لے جانے کی وجہ بننی چاہیے۔
نئے انتظامی یونٹس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ صوبوں کی شناخت ختم کردی جائے یا پاکستان کو تقسیم کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ موجودہ صوبائی ڈھانچے کے اندر یا آئینی طریقہ کار کے مطابق ایسے انتظامی یونٹس تشکیل دیے جائیں جو آبادی، رقبے، وسائل اور عوامی ضروریات کے تناسب سے زیادہ مؤثر حکمرانی فراہم کرسکیں۔ البتہ یہ فیصلہ جذباتی بنیادوں پر نہیں ہونا چاہیے۔ ہر نئے یونٹ کے لیے مالی گنجائش، آمدن، انتظامی اخراجات، ادارہ جاتی صلاحیت، پانی، تعلیم، صحت، انفرا اسٹرکچر اور روزگار کے امکانات کا باقاعدہ جائزہ ضروری ہے۔ عوامی مشاورت بھی ہونی چاہیے اور اگر قومی اتفاقِ رائے کے لیے ریفرنڈم یا کسی اور آئینی طریقۂ کار کی ضرورت ہو تو اس پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کو بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ملک میں صوبے کتنے ہوں گے، اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنے شہری کے کتنے قریب ہوگی۔
اگر ایک نیا انتظامی یونٹ وسائل کو ضرورت مند علاقے تک، افسر کو عوام کے قریب، فیصلہ سازی کو مقامی سطح پر اور جواب دہی کو مؤثر بناسکتا ہے تو پھر اس خیال کو محض سیاسی نعرہ کہہ کر مسترد کرنا دانش مندی نہیں۔
پاکستان کو ایک ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جس میں شہری ریاست تک پہنچنے کے لیے دروازے نہ ڈھونڈتا پھرے، بلکہ ریاست خود شہری کی ضرورت تک پہنچے۔ وقت آگیا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کی بحث کو سیاست کے شور سے نکال کر اعدادوشمار، عوامی ضرورت اور بہتر حکمرانی کی سنجیدہ بحث بنایا جائے۔