غلام مصطفیٰ
پاکستان اس وقت ایک ایسے صحتِ عامہ کے بحران کا سامنا کررہا ہے، جسے بروقت اور مؤثر اقدامات کے ذریعے بڑی حد تک روکا جاسکتا ہے۔ خسرہ، جو ایک قابلِ علاج اور قابلِ تدارک بیماری ہے، ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے لیے تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ رواں سال ملک میں خسرہ کے ہزاروں مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز سامنے آنا اور 102 بچوں کا اس مرض کے باعث جان کی بازی ہار جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے حفاظتی نظام میں ابھی بھی ایسی کمزوریاں موجود ہیں جنہیں فوری دُور کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ میں 53 بچوں کی اموات اور ہزاروں کیسز اس بحران کی سنگینی کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ایسے معصوم بچوں کی زندگیاں ہیں جنہیں بروقت حفاظتی ٹیکہ لگاکر بچایا جاسکتا تھا۔
خسرہ ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو خاص طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ اگرچہ اس کا مؤثر اور محفوظ حفاظتی ٹیکہ کئی دہائیوں سے دستیاب ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان اب بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں ویکسی نیشن کی مطلوبہ شرح حاصل نہیں ہوسکی۔ عالمی سطح پر یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اگر کسی معاشرے میں 95 فیصد سے زائد بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگ جائیں تو خسرہ کے پھیلاؤ کو مؤثر انداز میں روکا جاسکتا ہے، مگر ہمارے ہاں کئی علاقوں میں یہ ہدف ابھی تک حاصل نہیں ہوسکا۔
اس کی متعدد وجوہ ہیں۔ بعض دور افتادہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولتیں محدود ہیں، کہیں ویکسی نیشن ٹیمیں باقاعدگی سے نہیں پہنچ پاتیں جب کہ بعض مقامات پر والدین کی لاعلمی یا ویکسین کے حوالے سے بے بنیاد خدشات بچوں کو حفاظتی ٹیکوں سے محروم کردیتے ہیں۔ بعض خاندان معمولی بخار یا دیگر غلط فہمیوں کی بنیاد پر بچوں کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگواتے، حالانکہ اس کا نتیجہ بعد میں شدید بیماری، نمونیا، دماغی پیچیدگیوں اور حتیٰ کہ موت کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خسرہ صرف ایک بچے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی صحت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب ایک بچہ ویکسین سے محروم رہتا ہے تو وہ نہ صرف خود خطرے میں ہوتا ہے بلکہ اپنے اردگرد موجود دیگر بچوں، خصوصاً کمزور مدافعتی نظام رکھنے والوں کے لیے بھی بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حفاظتی ٹیکہ کاری کو دنیا بھر میں اجتماعی ذمے داری تصور کیا جاتا ہے۔
حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتیں توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کے ذریعے بچوں کو مفت ویکسین فراہم کررہی ہیں، جو ایک قابلِ تحسین اقدام ہے، مگر موجودہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس پروگرام کو مزید مؤثر، منظم اور جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ ویکسی نیشن ٹیموں کی تعداد بڑھانے، کولڈ چین کے نظام کو مضبوط بنانے، دوردراز علاقوں تک رسائی بہتر بنانے اور جدید ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی بچہ حفاظتی ٹیکے سے محروم نہ رہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی کامیابی کی بنیاد ہے۔ ذرائع ابلاغ، اخبارات، ٹیلی وژن، ریڈیو، سوشل میڈیا، تعلیمی ادارے، مذہبی رہنما اور سماجی تنظیمیں اگر مشترکہ مہم چلائیں تو ویکسین سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کو بڑی حد تک ختم کیا جاسکتا ہے۔ والدین کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ حفاظتی ٹیکہ صرف ایک طبی عمل نہیں بلکہ ان کے بچوں کی زندگی کا بیمہ ہے۔ چند لمحوں کی احتیاط ایک معصوم جان کو عمر بھر کی صحت عطا کرسکتی ہے۔
ڈاکٹروں، نرسوں، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر طبی عملے کا کردار بھی اس جدوجہد میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں نہ صرف علاج بلکہ والدین کی رہنمائی اور اعتماد سازی پر بھی خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ ہر طبی مرکز پر آنے والے والدین کو بچوں کی حفاظتی ٹیکہ کاری کے شیڈول سے آگاہ کرنا اور اس کی اہمیت سمجھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ بیماری کی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ جہاں بھی خسرہ کا ایک کیس سامنے آئے، وہاں فوری طور پر طبی ٹیمیں پہنچیں، مریض کا بروقت علاج کیا جائے، قریبی بچوں کی ویکسینیشن کی جائے اور بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکا جائے۔ ایسے ہنگامی اقدامات ہی کسی وبائی صورتحال پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
پاکستان ماضی میں پولیو، ڈینگی، کورونا اور دیگر وباؤں کے خلاف قومی سطح پر بڑی مہمات چلا چکا ہے۔ اگر ریاستی ادارے، طبی ماہرین، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ اور عوام ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد ہو جائیں تو خسرہ پر قابو پانا بھی ناممکن نہیں۔ اس کے لیے سیاسی عزم، مؤثر منصوبہ بندی، مناسب وسائل اور عوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ خسرہ سے ہونے والی ہر موت ایک ایسا سانحہ ہے جسے بروقت ویکسی نیشن، آگاہی اور مؤثر طبی اقدامات کے ذریعے روکا جا سکتا تھا۔ ہر وہ بچہ جو اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہارتا ہے، وہ ہم سب کے اجتماعی نظام پر ایک سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خسرہ کو محض ایک موسمی بیماری سمجھنے کے بجائے اسے قومی صحت کا اہم چیلنج تصور کریں۔ اگر ہم آج سنجیدگی، مستقل مزاجی اور اجتماعی ذمے داری کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف بے شمار بچوں کی زندگیاں بچا سکتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ایک محفوظ، صحت مند اور روشن مستقبل دے سکتے ہیں۔ خسرہ کے خلاف یہ جنگ صرف محکمۂ صحت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، اور اس جنگ میں کامیابی ہی ہمارے بچوں کی زندگی، ان کی مسکراہٹ اور پاکستان کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ خسرہ کے خلاف ہر صورت جیتنا ہوگا، کیونکہ ایک بھی بچے کی قابلِ تدارک موت کسی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہونی چاہیے۔