اسد احمد
پاکستان میں حکمرانی کا ایک بڑا مسئلہ شاید وسائل کی کمی سے زیادہ اختیار کا فاصلہ ہے۔ عام شہری اور فیصلہ کرنے والے ادارے کے درمیان جتنا زیادہ فاصلہ ہوگا، اُتنا ہی مسئلہ سمجھنے، فیصلہ کرنے اور اس پر عمل درآمد میں وقت لگے گا۔ یہی حقیقت نئے انتظامی یونٹس کی بحث کو اہم بناتی ہے۔ ایک کسان کو اپنی زمین کا مسئلہ درپیش ہے، کسی نوجوان کو روزگار کے لیے سرکاری ادارے سے رابطہ کرنا ہے، کسی طالب علم کو تعلیمی معاملے میں مدد چاہیے یا کسی مریض کے علاقے میں صحت کی سہولت ناکافی ہے۔ اگر ان معاملات کے فیصلے ایسے مرکز میں ہوں جو متعلقہ آبادی سے بہت دور ہو تو شہری کے لیے ریاست تک رسائی مشکل ہوجاتی ہے۔
حکومت کا مقصد صرف حکومت کرنا نہیں، لوگوں تک پہنچنا بھی ہے۔ پاکستان کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ بڑے شہر پھیلتے پھیلتے ایک دوسرے سے جڑ رہے ہیں، نئے شہری مراکز وجود میں آرہے ہیں اور کئی ایسے علاقے ہیں جو انتظامی اعتبار سے اب اپنی پرانی حدود میں سما نہیں رہے۔ مگر ہمارا انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک اسی پرانے جغرافیے کے ساتھ چل رہا ہے۔ یہ تضاد ختم ہونا چاہیے۔ نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت کا تعلق کسی زبان، نسل یا علاقے کی برتری سے نہیں ہونا چاہیے۔ اسے خالصتاً انتظامی ضرورت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ جس علاقے کی آبادی، جغرافیہ اور معاشی حجم ایک مؤثر انتظامی اکائی کا تقاضا کرے، وہاں اس امکان پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔
دنیا میں انتظامی ڈھانچے مستقل نہیں ہوتے۔ وقت کے ساتھ شہر تبدیل ہوتے ہیں، آبادی بڑھتی ہے، نئے معاشی مراکز بنتے ہیں اور حکومت کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ریاست اپنے انتظامی نقشے کو تبدیل شدہ حالات کے مطابق نہیں ڈھالتی تو مسائل بڑھتے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ بعض بڑے صوبائی مراکز پر اتنی ذمے داریاں جمع ہیں کہ ایک ہی نظام سے دُور دراز علاقوں کی یکساں نگرانی مشکل ہوجاتی ہے۔ فائلیں ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک سفر کرتی رہتی ہیں، منصوبے منظوری کے انتظار میں پڑے رہتے ہیں اور شہری چھوٹے سے کام کے لیے بھی طویل سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
نیا انتظامی یونٹ اس مسئلے کا مکمل حل نہیں، مگر ایک مؤثر آغاز ضرور ہوسکتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ نئی اکائی کو صرف نیا نام اور نیا دفتر نہ دیا جائے بلکہ اسے اختیار، وسائل اور جواب دہی بھی دی جائے۔ اگر فیصلہ سازی کا اختیار مرکز ہی کے پاس رہے تو انتظامی نقشہ تبدیل کرنے کا فائدہ محدود ہوگا۔ ایک بہتر نظام میں مقامی انتظامیہ اپنے علاقے کی ضرورت خود طے کرسکے۔ اسے معلوم ہو کہ اس کے علاقے میں کس سڑک کی ضرورت پہلے ہے، کس اسکول کو عمارت چاہیے، کس اسپتال میں سہولت بڑھانی ہے اور کہاں پانی کا بحران سنگین ہے۔ اس سے منصوبہ بندی زیادہ حقیقت پسندانہ ہوسکتی ہے۔ نئے انتظامی یونٹس کا ایک معاشی پہلو بھی ہے۔ نیا انتظامی مرکز صرف سرکاری عمارت نہیں بناتا، اس کے گرد ایک نئی شہری معیشت تشکیل پاتی ہے۔ دفاتر، مارکیٹیں، رہائش، ٹرانسپورٹ، تعلیمی ادارے، اسپتال اور دیگر کاروباری سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں۔ اس سے چھوٹے شہروں کو ترقی کا نیا موقع مل سکتا ہے۔ لیکن یہاں سب سے اہم شرط شفافیت ہے۔ نئی اکائیاں سیاسی مفادات کے لیے نہیں بننی چاہئیں۔ نہ کسی جماعت کی انتخابی ضرورت اس فیصلے کی بنیاد ہو اور نہ کسی مخصوص طبقے کا دباؤ۔ فیصلہ آبادی، فاصلے، جغرافیے، معاشی استعداد اور عوامی ضرورت کے قابلِ پیمائش اعداد و شمار کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ عوامی رائے بھی اس عمل کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ جس علاقے کی انتظامی حیثیت تبدیل کرنے کی تجویز ہو، وہاں کے شہریوں سے رائے لی جائے۔ ماہرین، انتظامی افسران، ماہرینِ معیشت، شہری نمائندوں اور منتخب ارکان کو ایک میز پر بٹھایا جائے۔ بحث کھلے انداز میں ہو اور تمام اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ کیونکہ انتظامی اصلاح چھپ کر نہیں، اعتماد کے ساتھ کامیاب ہوتی ہے۔
ہمیں یہ سوال بھی بدلنا ہوگا کہ "نیا صوبہ کیوں؟” اس کے بجائے سوال ہونا چاہیے: "کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ آج کے پاکستان کی ضرورت پوری کررہا ہے؟” اگر جواب ہاں ہے تو اسے برقرار رکھا جائے۔ اگر جواب نہیں ہے تو اصلاح کی جائے۔ یہ اصلاح ایک مرحلے میں بھی ہوسکتی ہے اور کئی مراحل میں بھی۔ نئے اضلاع، نئے ڈویژن، بااختیار مقامی حکومتیں یا نئے صوبے، ہر آپشن کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ مقصد ایک ہی ہونا چاہیے: ریاستی اختیار کو شہری کے قریب لانا۔ پاکستان کو صرف بڑے منصوبوں کی نہیں، بہتر حکمرانی کی بھی ضرورت ہے۔ ایک موٹروے بنانا ترقی ہے، مگر اس موٹر وے کے قریب رہنے والے شہری کو بنیادی صحت کی سہولت نہ ملے تو ترقی کا فائدہ محدود رہ جاتا ہے۔ ایک نیا صنعتی منصوبہ روزگار پیدا کرسکتا ہے، لیکن اگر مقامی انتظامیہ کمزور ہو تو اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنے میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس لیے انتظامی اصلاح دراصل ترقی کی بنیاد ہے۔
نئے انتظامی یونٹس پر اختلاف ہوسکتا ہے، ہونا بھی چاہیے۔ مگر اختلاف کو دلیل کے ساتھ ہونا چاہیے، جذبات کے ساتھ نہیں۔ کسی بھی تجویز کو صرف اس لیے مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ پرانے نقشے کو بدلتی ہے۔ نقشے انسان بناتے ہیں، انسانوں کی سہولت کے لیے۔ اگر وقت نے پاکستان کو بدل دیا ہے تو انتظامی نظام کو بھی تبدیل ہونے کی گنجائش ہونی چاہیے۔ آخرکار کامیاب ریاست وہ نہیں جو اپنے شہری کو اپنے دفتر تک بلاتی رہے، بلکہ وہ ہے جو اپنی انتظامیہ کو شہری کے دروازے تک لے جائے۔ نئے انتظامی یونٹس کی بحث اسی سمت ایک سنجیدہ قدم ہوسکتی ہے، بشرطیکہ اس کا مقصد سیاسی تقسیم نہیں بلکہ انتظامی آسانی، معاشی ترقی اور عوامی اختیار ہو۔ پاکستان کو نئے نقشوں سے زیادہ نئی سوچ کی ضرورت ہے۔ اور نئی سوچ کا پہلا اصول یہی ہونا چاہیے: حکومت جتنی عوام کے قریب ہوگی، ریاست اُتنی ہی مضبوط ہوگی۔