آخری سیڑھی

وقاص بیگ

شہر کے ایک پرانے محلے میں حامد نام کا بڑھئی رہتا تھا۔ اس کی چھوٹی سی دکان تھی۔ دکان کے باہر لکڑی کے ٹکڑے، پرانے دروازے اور مختلف اوزار بکھرے رہتے تھے۔ دکان اتنی چھوٹی تھی کہ دو آدمی اندر کھڑے ہوجاتے تو تیسرا دروازے پر رک جاتا، مگر حامد کے لیے وہ دکان کسی محل سے کم نہ تھی۔ حامد کے والد بھی بڑھئی تھے۔ وہ مرتے وقت اپنے بیٹے کے لیے چند پرانے اوزار اور ایک لکڑی کا صندوق چھوڑ گئے تھے۔ جاتے جاتے انہوں نے صرف ایک نصیحت کی تھی: "بیٹا! رزق کی مقدار اللہ کے ہاتھ میں ہے، مگر رزق میں برکت تمہارے حلال ہونے سے آتی ہے۔”
حامد نے یہ بات دل میں بٹھا لی تھی۔ وہ صبح سویرے دکان کھولتا اور رات گئے گھر لوٹتا۔ کبھی گاہک آتے تو دن اچھا گزر جاتا، کبھی پوری دکان دن بھر خالی رہتی۔ گھر کے اخراجات، بچوں کی فیس اور دکان کا کرایہ اس کی محدود آمدن کے لیے بہت زیادہ تھے۔ ایک شام جب حامد دکان بند کرنے ہی والا تھا کہ محلے کا ایک امیر تاجر سلیم وہاں آیا۔
"حامد! ایک بڑا کام ہے۔”
حامد کے چہرے پر امید آئی۔ "کیسا کام؟”
سلیم نے بتایا کہ وہ اپنے نئے گھر کے لیے دروازے، کھڑکیاں اور الماریاں بنوانا چاہتا ہے۔ تقریباً دو ماہ کا کام تھا۔ حامد کے لیے یہ بہت بڑا موقع تھا۔ لیکن سلیم نے جاتے جاتے ایک شرط رکھ دی۔ "ایک بات ہے، لکڑی میں تھوڑی سستی لکڑی ملا دینا۔ باہر سے کسی کو پتا نہیں چلے گا۔ میرا فائدہ ہوگا، تمہارا بھی۔” حامد خاموش ہوگیا۔ اسے گھر کے حالات یاد آئے۔ بچوں کی فیس باقی تھی، راشن ختم ہونے والا تھا اور مکان کا کرایہ بھی دینا تھا۔
سلیم نے کچھ رقم ایڈوانس میں نکالی۔ "یہ رکھ لو، باقی کام مکمل ہونے پر مل جائے گا۔” حامد نے رقم کی طرف دیکھا، مگر ہاتھ آگے نہ بڑھایا۔
"سلیم صاحب، کام ضرور کروں گا، لیکن خراب لکڑی نہیں لگاؤں گا۔” سلیم کا چہرہ بدل گیا۔
"تمہیں معلوم ہے اتنا بڑا کام پہلی بار ملا ہے؟” "جی، معلوم ہے۔”
"پھر سوچ لو۔” حامد نے آہستہ سے کہا، "میں نے سوچ لیا ہے۔”
سلیم غصے میں چلا گیا۔ رات کو گھر پہنچا تو بیوی نے پوچھا، "کام ملا؟”
حامد نے کہا، "ملا تھا، لیکن شرط غلط تھی، اس لیے منع کردیا۔”
بیوی کچھ دیر خاموش رہی، پھر بولی: "آپ نے ٹھیک کیا۔ بچوں کو کم کھانا منظور ہے، حرام کا لقمہ نہیں۔” حامد نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر دل میں عجیب سکون تھا۔
اگلے دن ایک بوڑھا شخص اس کی دکان پر آیا۔ اس کے پاس ایک پرانی الماری تھی۔ "بیٹا، اسے ٹھیک کرسکتے ہو؟” حامد نے الماری دیکھی۔ "کوشش کرتا ہوں۔”
بوڑھے نے کہا، "میرے پاس زیادہ پیسے نہیں ہیں۔”
حامد مسکرایا۔ "جتنے مناسب سمجھیں دے دیجیے گا۔”
حامد نے تین دن محنت کرکے الماری کو بالکل نیا بنادیا۔ جب بوڑھا اسے لینے آیا تو حیران رہ گیا۔ "بیٹا، تم نے تو کمال کردیا!”
اس نے اجرت دینی چاہی تو حامد نے کہا: "جو آپ کی استطاعت ہو دے دیجیے۔”
بوڑھے نے حامد کو غور سے دیکھا اور کہا: "اللہ تمہیں اس نیکی کا بدلہ دے گا۔”
جاتے جاتے اس نے جیب سے ایک کارڈ نکالا۔ "یہ میرے بھتیجے کا نمبر ہے۔ وہ شہر میں فرنیچر کا بڑا کاروبار کرتا ہے۔ اسے تم جیسے کاریگر کی ضرورت ہے۔” حامد نے کارڈ جیب میں رکھ لیا۔
چند دن بعد اسے بلایا گیا۔ بوڑھے کے بھتیجے عدنان نے اس کا کام دیکھا اور کہا: "مجھے ایسے کاریگر کی ضرورت ہے جو معیار پر سمجھوتہ نہ کرے۔” حامد کو اچھی تنخواہ پر ملازمت مل گئی۔
وہ پہلے دن سے پوری محنت کرنے لگا۔ وقت کی پابندی، صاف کام اور گاہک سے اچھا برتاؤ اس کی پہچان بن گیا۔ ایک دن دکان پر ایک بہت قیمتی آرڈر آیا۔ مالک نے حامد سے کہا: "اس میں اصل پرزے کے بجائے سستا سامان لگا دو۔ گاہک کو کچھ پتا نہیں چلے گا۔ باقی رقم ہم تقسیم کرلیں گے۔”
حامد نے فوراً انکار کردیا۔ "یہ غلط ہوگا۔”
مالک ناراض ہوگیا۔ "تمہیں اپنے گھر کے حالات کا خیال نہیں؟”
حامد نے سکون سے جواب دیا: "گھر کے حالات کا خیال ہے، اسی لیے غلط کام نہیں کرسکتا۔”
مالک نے اسی وقت اسے نوکری سے نکال دیا۔ حامد دوبارہ بے روزگار ہوگیا۔ اس رات وہ عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں دیر تک بیٹھا رہا۔ اس نے ہاتھ اٹھائے: "یااللہ! میرے پاس کوئی راستہ نہیں، مگر تیرے پاس راستوں کی کمی نہیں۔ مجھے حرام سے بچاکر حلال راستہ عطا فرما۔”
اگلی صبح حامد نے اپنی پرانی دکان صاف کی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ کسی کے ماتحت نہیں، اپنا کام کرے گا۔ سرمایہ بہت کم تھا۔ اس نے گھر کا کچھ پرانا سامان بیچ کر لکڑی خریدی اور ایک خوبصورت چھوٹی میز بنائی۔ میز کو دکان کے باہر رکھا اور اس پر ایک کاغذ چپکایا: "کام کم، معیار اعلیٰ۔”
پہلے دن میز نہ بکی۔ دوسرے دن بھی نہیں۔ تیسرے دن ایک استاد نے میز خرید لی۔ اس نے میز کو دیکھ کر کہا: "ایسا کام بہت کم لوگ کرتے ہیں۔”
استاد نے حامد کا نمبر اپنے دوستوں کو دیا۔ پھر ایک آرڈر آیا۔ پھر دوسرا۔ پھر تیسرا۔ حامد نے منافع کا بڑا حصہ دوبارہ کاروبار میں لگادیا۔ کچھ ہی عرصے میں اس کی چھوٹی دکان ایک ورکشاپ بن گئی۔ اس نے دو نوجوانوں کو کام سکھانے کے لیے ملازم رکھا۔ سال گزرتے گئے۔ حامد کا کاروبار بڑھتا گیا۔ شہر میں اس کے کئی شوروم ہوگئے، مگر اس نے اپنی پہلی دکان کو کبھی ختم نہیں کیا۔
ایک دن اس کا بیٹا پوچھ بیٹھا: "ابا، آپ اتنے بڑے کاروباری بن گئے ہیں، پھر یہ پرانی دکان کیوں سنبھال کر رکھی ہے؟”
حامد نے مسکرا کر کہا: "تاکہ میں کبھی یہ نہ بھولوں کہ میں کہاں سے چلا تھا۔”
بیٹے نے پوچھا: "آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟”
حامد نے کچھ دیر خاموش رہ کر جواب دیا: "میری زندگی میں ایک وقت ایسا آیا تھا جب مجھے لگا کہ میں نے بہت بڑا موقع کھودیا ہے۔ آج سمجھتا ہوں کہ وہ موقع نہیں، ایک امتحان تھا۔”
وہ بولا: "اگر میں اس دن حرام راستہ اختیار کرلیتا تو شاید پیسہ مل جاتا، مگر سکون، عزت اور برکت کھو دیتا۔”
پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ "اللہ نے ایک دروازہ بند کیا، مگر مجھے دوسرا دروازہ دکھانے میں ذرا بھی دیر نہیں کی۔”
بیٹے نے پوچھا: "تو آخری سیڑھی کون سی تھی؟”
حامد مسکرایا: "جس دن میں نے غلط راستے سے انکار کیا، اسی دن میں نے اپنی کامیابی کی آخری سیڑھی پر قدم رکھ دیا تھا۔”
سبق: زندگی میں ہر بند دروازہ بدقسمتی نہیں ہوتا۔ بعض دروازے اللہ اس لیے بند کرتا ہے تاکہ انسان غلط راستے پر آگے نہ بڑھے۔ مشکل وقت میں انسان کو صرف اپنا آج نظر آتا ہے، مگر اللہ اس کا کل جانتا ہے۔ اگر آج آپ کی محنت کا صلہ نہیں مل رہا، کوئی راستہ بند ہوگیا ہے یا کوئی موقع ہاتھ سے نکل گیا ہے تو مایوس نہ ہوں۔ حلال راستہ مشکل ہوسکتا ہے، مگر اس میں برکت ہوتی ہے۔ ممکن ہے جسے آپ اپنی شکست سمجھ رہے ہیں، وہی آپ کی کامیابی کی آخری سیڑھی ہو۔