رفاقت علی
قومیں صرف نعروں سے ترقی نہیں کرتیں، وہ اپنے انتظامی ڈھانچوں کی کارکردگی سے پہچانی جاتی ہیں۔ ریاست کا حُسن صرف اس کے بلند ایوانوں، وسیع شاہراہوں اور بڑے شہروں میں نہیں ہوتا، اصل حُسن وہاں دکھائی دیتا ہے جہاں ایک غریب باپ اپنے بچے کو اسکول بھیج سکے، ایک ماں اپنے بیمار بچے کو بروقت اسپتال پہنچاسکے اور ایک پیاسا گھرانہ صاف پانی کے لیے دربدر نہ ہو۔ پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہمیں اپنے مسائل کی فہرست گننے سے آگے بڑھ کر اس سوال کا سامنا کرنا ہوگا کہ کیا ہمارا انتظامی ڈھانچہ ہماری موجودہ آبادی، جغرافیے اور ضروریات کا بوجھ اٹھانے کے قابل بھی ہے؟
پچیس کروڑ سے زائد آبادی کے ملک میں صرف چار صوبے، بظاہر ایک سادہ انتظامی حقیقت ہے، مگر اس کے اندر ایک پیچیدہ سوال چھپا ہوا ہے۔ جب آبادی بڑھتی جائے، شہر پھیلتے جائیں، دور دراز علاقے اپنی بنیادی ضروریات کے لیے مرکز کی طرف دیکھتے رہیں اور فیصلوں کا سفر فائلوں کی گرد میں طویل ہوتا جائے تو پھر انتظامی نقشے پر نظر ڈالنا محض سیاسی بحث نہیں رہتا، یہ حکمرانی کی ضرورت بن جاتا ہے۔ ہم نے دہائیوں میں بہت کچھ تعمیر کیا، مگر ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے کم نہ کرسکے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ کروڑوں بچے تعلیم سے باہر ہیں، صاف پانی اب بھی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے لیے خواب ہے، صحت کی سہولتوں تک رسائی میں بڑے خلا موجود ہیں۔ یہ اعداد محض شماریاتی جدولوں میں پڑے ہوئے ہندسے نہیں، ہر عدد کے پیچھے ایک گھر، ایک ماں، ایک بچہ اور ایک ادھورا خواب موجود ہے۔
ایسے میں یہاں نئے انتظامی یونٹس کی بحث جنم لیتی ہے۔ اس بحث کو اگر محض صوبائی سیاست، لسانی شناخت یا اقتدار کی تقسیم کے چشمے سے دیکھا جائے گا تو اصل مسئلہ نظروں سے اوجھل ہوجائے گا۔ نئے انتظامی یونٹس کا بنیادی تصور یہ ہونا چاہیے کہ ریاست اپنے شہری کے قریب آئے۔ دنیا میں کامیاب انتظامی نظام وہ نہیں جن کے نقشے سب سے بڑے ہوں، بلکہ وہ ہیں جہاں فیصلے ضرورت کی جگہ تک جلد پہنچتے ہیں۔ ایک دُور افتادہ تحصیل کے شہری کو ایک معمولی کام کے لیے کئی سو کلومیٹر کا سفر نہ کرنا پڑے؛ ایک کسان کو اپنے مسئلے کے حل کے لیے دارالحکومت کے دروازے نہ کھٹکھٹانے پڑیں، ایک مریض کو بنیادی علاج کے لیے بڑے شہر کی طرف ہجرت نہ کرنی پڑے۔ یہی اچھی حکمرانی کی اصل روح ہے۔
نئے انتظامی یونٹس اسی سوچ کو تقویت دے سکتے ہیں۔ چھوٹا انتظامی یونٹ لازماً چھوٹی سوچ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی چھوٹا دائرہ بڑی جواب دہی پیدا کرتا ہے۔ جب انتظامیہ عوام کے قریب ہو تو شکایت صرف ایک نمبر نہیں رہتی، چہرہ بن جاتی ہے۔ افسر کے سامنے وہی شہری کھڑا ہوتا ہے جس کے ووٹ سے نظام تشکیل پاتا ہے۔ یوں اقتدار کی عمارت میں عوام کی آواز قدرے بلند سنائی دینے لگتی ہے۔ اس بحث کا ایک اور روشن پہلو یہ ہے کہ نئے انتظامی یونٹس نئی قیادت کے لیے دروازے کھول سکتے ہیں۔ جب بڑے انتظامی خطے چند سیاسی خاندانوں، محدود حلقوں یا روایتی طاقت کے مراکز کے گرد گھومنے لگیں تو سیاست میں تازہ خون کی گنجائش سکڑ جاتی ہے۔ نئے یونٹس نئے شہروں، نئے اضلاع، نئی قیادت اور نئے انتظامی تجربات کو جنم دے سکتے ہیں۔ یوں جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں رہتی بلکہ قیادت کی مسلسل تجدید کا نام بن سکتی ہے۔
البتہ نئے انتظامی یونٹس کوئی جادو کی چھڑی بھی نہیں۔ صرف نام بدل دینے یا نقشے پر نئی حد کھینچ دینے سے اسکول نہیں بنتے، اسپتال فعال نہیں ہوتے اور پانی گھروں تک نہیں پہنچتا۔ اس کے لیے مالی وسائل، مضبوط مقامی حکومت، شفاف ادارے، میرٹ پر تقرریاں، بااختیار انتظامیہ اور مؤثر احتساب ضروری ہے۔ لیکن یہ دلیل بھی اپنی جگہ کمزور ہے کہ چونکہ نئے انتظامی یونٹس تمام مسائل کا فوری حل نہیں، اس لیے انہیں زیرِ بحث ہی نہ لایا جائے۔ اصلاحات کبھی ایک دن میں مکمل نہیں ہوتیں مگر ہر بڑی تبدیلی ایک سوال سے شروع ہوتی ہے۔ آج پاکستان کو اسی سوال کی ضرورت ہے۔ کیا ہم اسی انتظامی نقشے کے ساتھ اگلی کئی دہائیاں گزاریں گے، یا بدلتی آبادی اور بدلتی ضرورتوں کے مطابق ریاستی ڈھانچے کو بھی جدید بنائیں گے؟
اس سوال کا جواب کسی ایک جماعت، ایک خاندان یا ایک صوبائی دارالحکومت کے پاس نہیں ہونا چاہیے۔ فیصلہ عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔ دلیل سے، اعداد و شمار سے اور شفاف عوامی رائے سے۔ نئے انتظامی یونٹس اگر واقعی عوام کی زندگی آسان بنانے، وسائل کی منصفانہ تقسیم، انتظامیہ کی رسائی اور جواب دہی بڑھانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں تو انہیں سیاسی خوف کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کو توڑنے کی نہیں، ملک کو بہتر طور پر چلانے کی ضرورت ہے۔ نقشے پر چند نئی لکیریں شاید ملک کی تقدیر نہ بدل سکیں، لیکن اگر ان لکیروں کے پیچھے بہتر حکمرانی، قریب تر ریاست، مضبوط مقامی ادارے اور جواب دہ قیادت کھڑی ہو تو یہی لکیریں ترقی کی نئی راہیں بھی کھول سکتی ہیں۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم انتظامی تقسیم کو تقسیمِ وطن نہ سمجھیں۔ کبھی کبھی ملک کو مضبوط کرنے کے لیے نظام بدلنا پڑتا ہے۔