دانیال جیلانی
پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث اب محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہی۔ گزشتہ کئی روز سے جاری بحث نے ملک کے مختلف حصوں میں ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے۔ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی، وسیع جغرافیے اور عوام کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر اصلاحِ احوال کے لیے نئے راستے تلاش کرنے میں قباحت کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کئی دہائیوں سے گورننس کے مسائل، کرپشن، ادارہ جاتی کمزوری، بنیادی سہولتوں کی کمی اور انتظامی عدم توجہی کا سامنا کررہے ہیں۔ بڑے انتظامی یونٹس میں دور دراز علاقوں کے شہری اکثر یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے مسائل فیصلہ ساز مراکز تک پہنچتے ہی نہیں، یا پہنچتے پہنچتے اتنے پیچیدہ ہوجاتے ہیں کہ عام آدمی کی زندگی میں کوئی عملی تبدیلی نہیں آتی۔ یہی صورت حال نئے انتظامی یونٹس کے مطالبے کو تقویت دیتی ہے۔
نئے انتظامی یونٹس کا بنیادی مقصد کسی علاقے، زبان یا سیاسی جماعت کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ حکمرانی کو عوام کے قریب لانا ہونا چاہیے۔ ایک ایسا انتظامی ڈھانچہ جس میں سرکاری ادارے شہریوں کی پہنچ میں ہوں، فیصلے مقامی ضروریات کو سامنے رکھ کر کیے جائیں، وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو اور عوام اپنے حکمرانوں اور اداروں سے براہ راست سوال کرسکیں، یقیناً موجودہ پیچیدہ اور دور فاصلے کے نظام سے زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں انتظامی اصلاح کی ہر بحث کو فوراً سیاسی مفادات کے ترازو میں تولنا شروع کردیا جاتا ہے۔ کچھ سیاسی قوتیں یہ محسوس کرتی ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے ان کے روایتی سیاسی اثر و رسوخ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی خدشہ بعض اوقات عوامی مطالبے کو نظرانداز کرنے کا سبب بنتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ریاستی نظام عوام کے لیے ہے یا سیاسی راجدھانیوں کے تحفظ کے لیے؟
جمہوریت کا بنیادی حسن ہی یہ ہے کہ عوام کی رائے کو اہمیت دی جائے۔ اگر کسی علاقے کے لوگ بہتر انتظام، زیادہ مؤثر اداروں، بنیادی سہولتوں تک آسان رسائی اور اپنے مسائل کے فوری حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ کررہے ہیں تو اس مطالبے کو محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر رد نہیں کیا جاسکتا۔ اس سلسلے میں براہِ راست عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم ایک مؤثر راستہ ہوسکتا ہے۔ اگر ریاست اور سیاسی قیادت کو یقین ہے کہ عوام موجودہ انتظامی ڈھانچے سے مطمئن ہیں تو پھر عوام سے براہِ راست رائے لینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ ریفرنڈم کے ذریعے سامنے آنے والی واضح عوامی رائے کو تمام سیاسی قوتوں کے لیے احترام کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت میں سب سے بڑا خدشہ اکثر یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس سے ملک تقسیم ہوجائے گا یا قومی وحدت کو نقصان پہنچے گا۔ یہ سوچ بنیادی طور پر انتظامی اکائی اور قومی ریاست کے فرق کو نظر انداز کرتی ہے۔
نئے انتظامی یونٹس کا مطلب پاکستان کو توڑنا نہیں۔ ملک وہی ہوگا، آئین وہی ہوگا، قومی پرچم وہی ہوگا، دفاع، خارجہ پالیسی اور قومی مفادات کا تحفظ اسی وفاق کے تحت ہوگا۔ صرف انتظامی نظام کو اس انداز میں منظم کیا جائے گا کہ حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ کم ہو۔ دنیا کے مختلف ممالک میں وقت کے ساتھ انتظامی نقشے تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ آبادی میں اضافہ، شہری پھیلاؤ، جغرافیائی مشکلات اور انتظامی ضرورتیں ریاستوں کو نئے ڈھانچے تشکیل دینے پر مجبور کرتی ہیں۔ پاکستان بھی اس عمل سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتا۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ نئے انتظامی یونٹس سیاسی قیادت میں نئی سوچ اور نئی قیادت کے لیے راستہ کھول سکتے ہیں۔ جب ایک وسیع سیاسی خطے میں اختیارات محدود ہاتھوں میں مرتکز ہوجائیں تو نئی قیادت کے ابھرنے کے امکانات بھی محدود ہوجاتے ہیں۔ چھوٹے اور مؤثر انتظامی یونٹس مقامی سطح پر ایسے افراد کو آگے آنے کا موقع دے سکتے ہیں جو اپنے علاقے کے حقیقی مسائل سے واقف ہوں اور ان کے حل کے لیے جواب دہ بھی ہوں۔ تاہم نئے انتظامی یونٹس محض نام یا نقشے کی تبدیلی نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کے ساتھ اختیارات، وسائل، مضبوط بلدیاتی نظام، شفاف مالیاتی ڈھانچہ، مؤثر احتساب اور عوامی نمائندگی کا نظام بھی ضروری ہے۔ اگر انتظامی یونٹ چھوٹا ہوجائے لیکن اختیارات پھر بھی چند ہاتھوں میں مرکوز رہیں تو مطلوبہ تبدیلی حاصل نہیں ہوسکے گی۔
اسی لیے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بحث کو لسانیت، صوبائیت اور سیاسی مفادات سے نکال کر عوامی سہولت اور بہتر حکمرانی کے تناظر میں دیکھا جائے۔ پاکستان کو تقسیم کرنے کی نہیں، پاکستان کو بہتر انداز میں چلانے کی ضرورت ہے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس کے ذریعے ایک بچے کو بہتر اسکول، ایک مریض کو بروقت علاج، ایک خاندان کو صاف پانی، ایک نوجوان کو روزگار کے بہتر مواقع اور ایک عام شہری کو اپنے سرکاری ادارے تک آسان رسائی مل سکتی ہے تو پھر اصلاح کی اس کوشش سے خوف زدہ ہونے کی بجائے اسے سنجیدگی سے پرکھنا چاہیے۔
اب وقت آگیا ہے کہ عوام کی آواز کو محض سیاسی نعرہ سمجھنے کے بجائے اسے پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ نئے انتظامی یونٹس کسی کے خلاف جنگ نہیں، بہتر حکمرانی کی طرف ایک ممکنہ قدم ہیں۔ ملک انتظامی یونٹس بڑھنے سے نہیں ٹوٹتا، ملک اس وقت کمزور ہوتا ہے جب عوام کے مسائل بڑھتے رہیں اور نظام انہیں حل کرنے سے قاصر ہو۔ لہٰذا فیصلہ خوف کی بنیاد پر نہیں، عوامی مفاد، انتظامی ضرورت اور براہِ راست عوامی رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔