بیجنگ: چین سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے لوگوں کی کمر کھجانے کو ہی باقاعدہ کاروبار بنا ڈالا اور اب اس انوکھے کام سے ماہانہ لاکھوں روپے کمارہا ہے۔
چین کے شہر شینزین سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ ژانگ شیاؤچیاؤ نے سوما کے نام سے ایسی سروس شروع کی ہے، جہاں لوگ پیسے دے کر اپنی کمر اور جسم پر ہلکی کھجلی کروانے آتے ہیں۔ حیران کن طور پر کاروبار اتنا مقبول ہوا کہ اب اس کی دو برانچز کام کررہی ہیں۔
اس انوکھی سروس کے لیے عملہ خصوصی طور پر تیار کیے گئے نوکیلے ناخن پہنتا ہے جب کہ گاہک مساج پارلر کی طرح بیڈ پر لیٹ جاتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں قریباً ایک گھنٹے تک ہلکے انداز میں کھجایا جاتا ہے، جس کی فیس 300 یوآن، یعنی قریباً 40 ڈالر ہے۔
ژانگ کا کہنا ہے کہ اس سروس کا مقصد محض کھجلی مٹانا نہیں بلکہ لوگوں کو ذہنی دباؤ سے سکون دلانا اور بہتر نیند میں مدد دینا ہے۔ ان کے مطابق بڑے شہروں میں رہنے والے افراد شدید دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور بہت سے گاہک اس تجربے کو عام مساج سے بھی زیادہ پُرسکون قرار دیتے ہیں۔
دلچسپ بات کہ اس کاروبار کا خیال ژانگ کو ایک سوشل میڈیا ویڈیو دیکھ کر آیا، جس میں ایک خاتون اپنے شوہر کی کمر کھجارہی تھی۔ ویڈیو کے نیچے متعدد صارفین نے لکھا تھا کہ اگر کوئی انہیں بھی اسی طرح کھجائے تو وہ اس کے لیے پیسے دینے کو تیار ہیں۔
یہیں سے ژانگ کو کاروبار کا آئیڈیا ملا اور انہوں نے اپنی تکنیک خود تیار کی۔ ان کی دونوں دکانیں اب مجموعی طور پر ماہانہ قریباً ایک لاکھ یوآن، سے زائد کمارہی ہیں جب کہ ان کے تقریباً 70 فیصد گاہک مرد ہیں۔
ژانگ اب اس عجیب و غریب کاروبار کو مزید بڑا کرنے کی تیاری میں ہیں اور مستقبل میں چین بھر میں 100 برانچز کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ لوگوں کو کھجانے کا یہ کام باقاعدہ تسلیم شدہ پیشہ بن جائے۔