آخری ویڈیو

وقاص بیگ

رات کے ساڑھے گیارہ بجے تھے۔ شہر کی قریباً تمام دکانیں بند ہوچکی تھیں۔ سڑک پر ٹریفک کم تھا، لیکن موبائل فون کی اسکرینوں پر دنیا ابھی جاگ رہی تھی۔ ارسلان ایک چھوٹی سی چائے کی دکان کے باہر پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھا اپنے موبائل کی اسکرین دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنی ویڈیو دوبارہ چلائی۔ صرف 37 ویوز۔
اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ موبائل بند کردیا۔ ’’بس… اب نہیں۔‘‘
وہ پچھلے دو سال سے ویڈیوز بنارہا تھا۔ کبھی کامیابی کے بارے میں، کبھی محنت کے بارے میں، کبھی غریب لوگوں کی زندگی پر اور کبھی اپنی زندگی کے تجربات پر۔ ہر بار وہ سوچتا: ’’اگلی ویڈیو چل جائے گی۔‘‘ لیکن اگلی ویڈیو بھی نہیں چل پاتی۔
اس کے دوست اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ ’’بھائی! تمہاری ویڈیو دیکھنے سے پہلے تو موبائل کی بیٹری ختم ہوجاتی ہے۔‘‘
کوئی کہتا: ’’چھوڑ دو یہ کام، تم سے نہیں ہوگا۔‘‘ کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا: ’’آج کل ہر دوسرا آدمی موٹیویشنل اسپیکر بنا ہوا ہے، تم میں ایسی کیا خاص بات ہے؟‘‘
ارسلان خاموش رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے پاس واقعی کچھ خاص نہیں تھا۔ نہ مہنگا کیمرہ۔ نہ اسٹوڈیو۔ نہ بڑی ٹیم۔ نہ ہزاروں فالوورز۔ اس کے پاس صرف ایک پرانا موبائل تھا، ایک سستی سی موٹر سائیکل اور خواب تھا کہ کبھی اس کی آواز کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو زندگی سے ہارنے والا ہو۔
مگر اس رات وہ واقعی تھک چکا تھا۔ اس نے فیصلہ کرلیا کہ یہ اس کی آخری ویڈیو ہوگی۔ وہ اٹھا، موبائل جیب میں رکھا اور موٹر سائیکل اسٹارٹ کرکے گھر کی طرف چل پڑا۔ راستے میں اچانک اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی۔
سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی ریڑھی لگی تھی۔ ریڑھی پر صرف چند کپڑے، پرانے جوتے اور کچھ استعمال شدہ کتابیں رکھی تھیں۔ بوڑھا شخص خاموشی سے بیٹھا تھا۔ ارسلان نے موٹر سائیکل روک دی۔ ’’بابا، ابھی تک گھر نہیں گئے؟‘‘
بوڑھے نے مسکرا کر کہا: ’’بیٹا، گھر تو تب جاؤں گا جب آج کا رزق گھر لے جانے کے قابل ہوجائے گا۔‘‘ ارسلان نے ریڑھی کی طرف دیکھا۔ ’’کتنا کما لیا؟‘‘
بوڑھے نے ہنس کر کہا: ’’آج؟ صرف ایک سو بیس روپے۔‘‘
ارسلان نے جیب سے پانچ سو روپے نکالے اور اس کی طرف بڑھا دیے۔ بوڑھے نے فوراً ہاتھ پیچھے کرلیا۔ ’’نہیں بیٹا، خیرات نہیں چاہیے۔‘‘
ارسلان حیران ہوا۔ ’’میں خیرات نہیں دے رہا، یہ آپ کی کتاب خریدنے کے پیسے ہیں۔‘‘
بوڑھے نے ایک پرانی سی کتاب اٹھائی۔ ’’یہ لے جاؤ۔‘‘
ارسلان نے کتاب ہاتھ میں لے لی۔ کتاب بہت پرانی تھی۔ اس کے پہلے صفحے پر پنسل سے ایک جملہ لکھا تھا: ’’جس دن تمہیں لگے کہ تمہاری کوشش بے کار ہے، سمجھ لینا شاید کسی کی زندگی بدلنے کا وقت قریب ہے۔‘‘
ارسلان چند لمحے اس جملے کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے بوڑھے سے پوچھا: ’’یہ کس نے لکھا ہے؟‘‘
بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: ’’میری بیٹی نے۔‘‘
’’کہاں ہے وہ؟‘‘
بوڑھے کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ ’’نہیں ہے۔‘‘
ارسلان خاموش ہوگیا۔بوڑھے نے بتایا کہ اس کی بیٹی کئی سال پہلے ایک حادثے میں دنیا سے چلی گئی تھی۔ وہ بہت ذہین تھی۔ اس کا خواب تھا کہ وہ استاد بنے گی۔ مگر غربت نے اسے کالج سے آگے نہ جانے دیا۔
پھر ایک دن وہ چلی گئی۔ بوڑھے نے کہا: ’’اس کے جانے کے بعد مجھے اس کی کتابیں ملیں۔ ہر کتاب میں وہ چھوٹے چھوٹے جملے لکھتی تھی۔ شاید اسے معلوم تھا کہ کوئی نہ کوئی ایک دن انہیں پڑھے گا۔‘‘
ارسلان کی آنکھیں جھک گئیں۔ اس نے بوڑھے سے کہا: ’’بابا، میں اس جملے کی ویڈیو بنانا چاہتا ہوں۔‘‘
بوڑھا مسکرایا۔ ’’بنا لو۔ لیکن میری تصویر مت بنانا۔‘‘
ارسلان نے موبائل نکالا۔ سڑک کنارے، کم روشنی میں، بغیر کسی میوزک، بغیر کسی فلٹر اور بغیر کسی خوبصورت پس منظر کے اس نے ویڈیو ریکارڈ کی۔ اس نے کیمرے کے سامنے صرف اتنا کہا:
’’اگر آپ کی محنت کا نتیجہ آج نظر نہیں آرہا تو رکیے نہیں۔ ہوسکتا ہے آپ کی محنت کا فائدہ آپ کو نہیں، کسی ایسے شخص کو ملنا ہو جس سے آپ کبھی ملیں گے بھی نہیں۔‘‘
پھر اس نے وہ جملہ پڑھا:’’جس دن تمہیں لگے کہ تمہاری کوشش بے کار ہے، سمجھ لینا شاید کسی کی زندگی بدلنے کا وقت قریب ہے۔‘‘ ویڈیو ختم ہوگئی۔
ارسلان نے اسے اپ لوڈ کردیا اور ہمیشہ کی طرح موبائل سائیڈ پر رکھ دیا۔ صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو موبائل پر سیکڑوں نوٹیفکیشن تھے۔ اس نے حیرت سے موبائل اٹھایا۔ ایک ہزار ویوز۔ پھر دس ہزار۔ پھر ایک لاکھ۔ وہ حیران رہ گیا۔ دوپہر تک ویڈیو دس لاکھ سے زیادہ لوگ دیکھ چکے تھے۔ لوگ تبصرے کررہے تھے۔ کوئی لکھ رہا تھا: ’’بھائی، میں خودکشی کا سوچ رہا تھا، آپ کی ویڈیو نے مجھے روک دیا۔‘‘
کوئی کہہ رہا تھا: ’’میں نے کاروبار میں سب کچھ کھو دیا ہے، مگر آج دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
ایک لڑکی نے لکھا: ’’میرے والد میری تعلیم کے خلاف تھے۔ آج میں نے دوبارہ پڑھائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
ارسلان مسلسل تبصرے پڑھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ کامیابی ہمیشہ ویوز کی تعداد نہیں ہوتی۔ کبھی ایک شخص کی زندگی بدل دینا بھی کامیابی ہوتی ہے۔
لیکن اصل حیرت ابھی باقی تھی۔ شام کو اسے ایک پیغام ملا۔ پیغام ایک نوجوان کا تھا۔
اس نے لکھا: ’’بھائی، آپ نے جو جملہ ویڈیو میں پڑھا ہے، وہ میری بہن کی ڈائری میں بھی لکھا تھا۔ میری بہن بھی ایک حادثے میں انتقال کرگئی تھی۔‘‘
ارسلان کے ہاتھ رک گئے۔ اس نے فوراً پوچھا: ’’آپ کی بہن کا نام کیا تھا؟‘‘
جواب آیا: ’’عائشہ۔‘‘
ارسلان نے بوڑھے کی ریڑھی پر رکھی کتاب اٹھائی۔ اس کے پہلے صفحے پر وہی نام لکھا تھا: عائشہ۔
ارسلان اگلے دن بوڑھے کو تلاش کرنے نکلا۔ مگر ریڑھی وہاں نہیں تھی۔ وہ کئی دن تک اسے ڈھونڈتا رہا۔
بالآخر ایک دکان دار نے بتایا: ’’وہ بابا؟ وہ تو کل ہی یہ علاقہ چھوڑ کر چلا گیا۔‘‘
ارسلان نے پوچھا: ’’کہاں؟‘‘ دکان دار نے کندھے اچکائے۔ ’’پتہ نہیں۔‘‘
ارسلان نے کتاب اپنے سینے سے لگا لی۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں چند لمحوں کے لیے آتے ہیں، لیکن جاتے جاتے ہماری پوری زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں۔
اس رات ارسلان نے اپنی پرانی ویڈیوز دیکھیں۔ وہ تمام ویڈیوز جن پر دس، بیس یا پچاس ویوز تھے۔ اس نے ایک ایک کرکے انہیں دوبارہ دیکھا۔ اور پہلی بار اسے ان ویڈیوز پر شرمندگی نہیں ہوئی۔
اس نے موبائل اٹھایا اور اپنی اگلی ویڈیو ریکارڈ کی۔ اس نے کہا: ’’دو سال تک مجھے لگا کہ دنیا مجھے نہیں سن رہی۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ دنیا خاموش ضرور تھی، بہری نہیں۔ میں صرف یہ نہیں جانتا تھا کہ میری آواز کس تک پہنچنی ہے۔‘‘
وہ رکا۔ پھر مسکرایا۔ ’’اگر آپ آج اپنی زندگی میں ناکام محسوس کررہے ہیں، تو ایک بات یاد رکھیں۔۔۔ شاید آپ کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ شاید آپ کا سب سے خوبصورت باب ابھی لکھا ہی نہیں گیا۔‘‘
اس دن کے بعد ارسلان نے ویڈیوز بنانا نہیں چھوڑا۔ لیکن اب اس کا مقصد وائرل ہونا نہیں تھا۔ اس کا مقصد تھا: کسی ایک شخص تک پہنچنا۔ کیونکہ اسے معلوم ہوچکا تھا کہ کبھی کبھی ایک انسان کی زندگی بدلنے کے لیے پوری دنیا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صرف ایک سچی بات کافی ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی… صرف ایک آخری ویڈیو بھی پوری زندگی بدل دیتی ہے۔