عبدالعزیز بلوچ
14 اگست کی صبح تھی۔ شہر کی گلیاں سبز و سفید جھنڈیوں سے سجی ہوئی تھیں۔ کہیں ملی نغموں کی آوازیں گونج رہی تھیں، کہیں بچے ہاتھوں میں پرچم لیے گھوم رہے تھے۔ ہر طرف جشن کا سماں تھا۔ مگر شہر کے ایک نسبتاً خاموش محلے میں ایک چھوٹی سی دکان کے باہر سلمان خاموش بیٹھا تھا۔ اس کی دکان پرانے جوتے مرمت کرنے کی تھی۔ عمر قریباً 55 برس تھی۔ چہرے پر وقت کی جُھریاں اور آنکھوں میں عجیب سی گہرائی تھی۔ اس کا بیٹا زید صبح سویرے دکان پر آیا اور بولا: "ابو! آج تو دُکان بند کردیں۔ پورا شہر جشن منارہا ہے۔ چلیں، ہم بھی جھنڈا خریدتے، گھر سجاتے ہیں۔”
سلمان نے مسکرا کر بیٹے کی طرف دیکھا۔ "جھنڈا ضرور لگائیں گے بیٹا، مگر پہلے ایک کام کرنا ہے۔”
"کیا؟”
"آج ہم کسی ایسے شخص کو خوش کریں گے جس کے گھر میں جشن منانے کے لیے کچھ نہیں۔” زید حیران ہوگیا۔
"ابو! یوم آزادی پر سب جھنڈے خرید رہے ہیں، آپ کسی غریب کی بات کررہے ہیں؟”
سلمان نے آہستہ سے کہا: "بیٹا! وطن صرف زمین کا نام نہیں۔ وطن ان لوگوں کا نام بھی ہے جو اس زمین پر بستے ہیں۔ اگر ہمارے پڑوس میں کوئی بھوکا سوجائے اور ہم صرف اپنے گھر پر جھنڈیاں لگا کر سمجھیں کہ ہم نے وطن سے محبت کا حق ادا کردیا، تو شاید ہم نے آزادی کا مطلب ہی نہیں سمجھا۔”
زید خاموش ہوگیا۔ دونوں دکان بند کرکے بازار کی طرف نکل گئے۔ سلمان نے چند ضروری اشیا خریدیں۔ آٹا، چاول، دال، دودھ اور کچھ دوائیں۔ زید نے پوچھا: "ابو! یہ سب کہاں لے کر جارہے ہیں؟”
سلمان نے کہا: "چلو، راستے میں بتاتا ہوں۔” کچھ دیر بعد وہ محلے کی آخری گلی میں ایک بوسیدہ سے مکان کے سامنے پہنچے۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک خاتون نے دروازہ کھولا۔ سلمان نے سامان آگے کردیا۔ "بہن! یہ آپ کے لیے ہے۔” خاتون کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ "بھائی، آج تو میں سوچ رہی تھی کہ بچوں کے لیے کچھ پکانے کو نہیں۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔”
زید حیرت سے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا۔ واپسی پر اس نے پوچھا: "ابو، آپ کو کیسے معلوم تھا کہ یہاں کھانے کو کچھ نہیں؟”
سلمان مسکرایا۔ "بیٹا، ضرورت مند اپنی ضرورت ہمیشہ زبان سے نہیں بتاتا۔ بعض اوقات آنکھیں بولتی ہیں، خاموشی فریاد کرتی ہے اور بند دروازے بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔” زید نے پہلی بار اپنے محلے کو غور سے دیکھا۔ راستے میں اسے ایک بوڑھا شخص نظر آیا جو سڑک کے کنارے بیٹھا تھا۔ کچھ فاصلے پر ایک بچہ پرانے کپڑوں میں کھڑا تھا۔ ایک عورت اپنے بیمار بچے کو گود میں لیے کلینک کے باہر بیٹھی تھی۔زید کے دل میں کچھ بدلنے لگا۔
شام کو گھر پہنچ کر اس نے چھت پر پاکستان کا پرچم لہرایا۔ پھر کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ سلمان نے پوچھا: "کیا سوچ رہے ہو؟” زید نے کہا: "ابو! آج مجھے پہلی بار سمجھ آیا ہے کہ پرچم صرف چھت پر نہیں لہراتا۔”
سلمان نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ زید نے کہا: "اگر ہم کسی بھوکے کو کھانا کھلائیں تو شاید پرچم اس کے دل میں لہراتا ہے۔ اگر کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھیں تو شاید پرچم وہاں بھی لہراتا ہے۔ اگر کسی مجبور کی مدد کریں تو شاید یہی وطن سے محبت ہے۔”
سلمان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ "شاباش بیٹا۔ اب تم نے یوم آزادی کا اصل مفہوم سمجھا ہے۔” پھر سلمان نے قرآن مجید کھولا اور آہستہ سے بولا: "اور جو کوئی ایک جان کو زندگی بخشے، گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی۔”
زید نے آیت سنی تو کچھ دیر خاموش رہا۔ "ابو! کیا اللہ تعالیٰ ہم سے صرف عبادت چاہتے ہیں؟” سلمان نے جواب دیا: "اللہ تعالیٰ عبادت بھی چاہتے ہیں اور بندوں کے حقوق بھی۔ نماز ہمیں اللہ کے قریب کرتی ہے، لیکن اچھا کردار ہمیں اللہ کے بندوں کے قریب کرتا ہے۔”
اگلی صبح زید نے اپنے چند دوستوں کو بلایا۔ اس نے کہا: "ہم اس سال یوم آزادی صرف جھنڈیاں لگاکر نہیں منائیں گے۔ ہم اپنے محلے میں ایک چھوٹی سی مہم شروع کریں گے۔”
دوستوں نے پوچھا: "کون سی مہم؟” زید نے جواب دیا: "کوئی بھوکا نہ سوئے، کوئی بچہ کتاب سے محروم نہ رہے اور کوئی بیمار صرف غربت کی وجہ سے علاج سے محروم نہ ہو۔”
ایک دوست ہنس پڑا۔ "ہم چند لڑکے یہ سب کیسے کریں گے؟”
زید نے مسکرا کر کہا: "ہم سب کچھ تو نہیں بدل سکتے، لیکن اپنے آس پاس کی ایک زندگی ضرور بدل سکتے ہیں۔”
یہ بات سب کے دل کو لگی۔ انہوں نے چند گھروں سے راشن جمع کیا۔ کسی نے کتابیں دیں، کسی نے کپڑے، کسی نے دوائیں خرید کر دیں۔ ایک دکان دار نے ہر جمعہ کو کچھ رقم دینے کا وعدہ کیا۔ ایک استاد نے غریب بچوں کو مفت پڑھانے کی ذمے داری لے لی۔ چند ہفتوں میں محلے کا ماحول بدلنے لگا۔ ایک دن وہی خاتون سلمان کی دکان پر آئی۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا بچہ تھا۔ وہ بولی: "بھائی، یہ میرا بیٹا ہے۔ آپ لوگوں نے صرف میرے گھر کا چولہا نہیں جلایا، اس بچے کے دل میں بھی امید پیدا کردی ہے۔”
سلمان نے بچے کے سر پر ہاتھ رکھا۔ "بہن! ہم نے کچھ نہیں کیا۔ اصل دینے والا تو اللہ ہے۔”
پھر اس نے زید کی طرف دیکھا۔ "اور یاد رکھو، بیٹا! اللہ نے ہمیں اس ملک میں آزاد پیدا کیا ہے۔ اب ہماری ذمے داری ہے کہ ہم اپنی آزادی کو دوسروں کے لیے رحمت بنائیں، زحمت نہیں۔”
زید نے آسمان کی طرف دیکھا۔ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہوا میں لہرا رہا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں دعا کی: "اے اللہ! میرے وطن کو امن دے، رزق دے، علم دے، انصاف دے اور مجھے ایسا پاکستانی بنا جو صرف وطن سے محبت کا دعویٰ نہ کرے بلکہ اپنے کردار سے اس محبت کو ثابت بھی کرے۔” سلمان نے آمین کہا۔ اور یوں اس محلے میں ایک عجیب روایت شروع ہوگئی۔
اب یوم آزادی کے موقع پر لوگ صرف گھروں پر جھنڈے نہیں لگاتے بلکہ کم از کم ایک نیکی ضرور کرتے ہیں۔ کوئی کسی غریب کا بجلی کا بل ادا کرتا، کوئی کسی بچے کی فیس دیتا، کوئی درخت لگاتا، کوئی خون عطیہ کرتا، کوئی کسی ناراض رشتے دار کو معاف کرتا۔ لوگوں نے جان لیا تھا کہ وطن سے محبت صرف نعروں میں نہیں، کردار میں بھی نظر آنی چاہیے۔
سبق: ہم ہر سال یوم آزادی مناتے ہیں، مگر ہمیں خود سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے: کیا ہماری آزادی صرف ہمارے لیے ہے، یا ہم اسے دوسروں کے لیے بھی آسانی، محبت اور امید کا ذریعہ بنارہے ہیں؟
پاکستان ہمیں صرف ایک سرزمین نہیں دیتا، یہ ہمیں ایک ذمے داری بھی دیتا ہے۔ اپنے والدین کی خدمت، پڑوسی کا خیال، یتیم کی مدد، غریب کا سہارا، سچ بولنا، حلال رزق کمانا، امانت داری اختیار کرنا، ظلم سے بچنا اور دوسروں کے حقوق ادا کرنا، یہ سب وطن کی تعمیر میں ہمارا حصہ ہیں۔
یاد رکھیے! قومیں صرف عمارتوں سے نہیں بنتیں، کردار سے بنتی ہیں۔ اور جس دن پاکستان کا ہر شہری یہ فیصلہ کرلے کہ "میں اپنے حصے کی ایک نیکی ضرور کروں گا” اس دن ہمارے گھروں کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں بھی سبز ہلالی پرچم سربلند ہوجائے گا۔
پاکستان زندہ باد! اللہ ہمارے وطن کو امن، خوش حالی، اتحاد اور نیک کردار عطا فرمائے۔ (آمین)۔