عبدالعزیز بلوچ
شہر کے ایک پرانے محلے میں حاشر نام کا نوجوان رہتا تھا۔ اس کے والد کبھی کپڑے کی چھوٹی سی دکان چلاتے تھے مگر بیماری اور قرض نے انہیں بستر تک محدود کردیا تھا۔ گھر میں ماں، دو چھوٹی بہنیں اور بیمار والد تھے۔ حاشر صبح اخبار تقسیم کرتا، دن میں ایک ورکشاپ پر کام کرتا اور رات کو پڑھائی کرتا۔ آمدن اتنی کم تھی کہ اکثر مہینے کے آخری دن چولہا جلانا بھی مشکل ہوجاتا۔ حاشر کا خواب تھا کہ وہ ایک دن انجینئر بنے، مگر حالات ہر قدم پر اس کے راستے میں دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے۔ ایک رات والد نے اسے پاس بلایا اور کہا، "بیٹا، رزق صرف محنت سے نہیں، اللہ کے حکم سے بھی ملتا ہے۔ تم کوشش چھوڑنا مت، مگر دل کا سہارا اللہ کو بنانا۔” یہ بات حاشر کے دل میں اتر گئی۔
کچھ دن بعد ورکشاپ میں ایک شخص آیا۔ اس نے حاشر کو ایک لفافہ دیا اور کہا، "یہ رقم میرے دفتر تک پہنچا دو۔ راستے میں کسی کو مت بتانا کہ اندر کیا ہے۔” حاشر نے لفافہ جیب میں رکھ لیا۔ راستے میں اسے خیال آیا کہ گھر میں آٹا ختم ہے، والد کی دوا بھی باقی ہے اور بہن کی فیس جمع نہیں ہوئی۔ اس نے لفافہ کھولا تو اندر بھاری رقم تھی۔ چند لمحوں کے لیے اس کا دل ڈول گیا۔ اس نے سوچا، "اگر میں اس میں سے صرف اتنی رقم لے لوں جتنی مجھے فوری ضرورت ہے تو کون سا آسمان گر جائے گا؟” پھر اسے والد کی بات یاد آئی: "دل کا سہارا اللہ کو بنانا۔” حاشر نے فوراً لفافہ بند کیا اور دفتر پہنچادیا۔
دفتر کے مالک نے رقم گنی تو ایک لاکھ روپے کم تھے۔ حاشر حیران رہ گیا۔ اسے یقین تھا کہ اس نے ایک روپیہ بھی نہیں نکالا تھا۔ مالک نے سخت لہجے میں پوچھا، "رقم تمہارے پاس تھی، اب کم کیسے ہوگئی؟” حاشر نے کہا، "میں نے رقم نہیں نکالی۔ آپ چاہیں تو میری تلاشی لے لیں۔” تلاشی ہوئی، مگر رقم نہ ملی۔ مالک نے اسے چور سمجھ کر کام سے نکال دیا۔ حاشر خاموشی سے باہر آگیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر زبان پر صرف ایک جملہ تھا: "یااللہ! تُو جانتا ہے کہ میں بے قصور ہوں۔” وہ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ عشاء کے بعد امام صاحب نے اسے دیکھا اور پوچھا، "کیا ہوا؟”
حاشر نے سارا واقعہ بتادیا۔ امام صاحب نے کہا، "بیٹا، کبھی کبھی اللہ بندے کو آزمائش میں اس لیے ڈالتا ہے کہ اس کے اندر چُھپی سچائی دنیا پر بھی ظاہر ہوجائے۔ صبر کرو۔”
حاشر نے سر جھکالیا۔ اگلی صبح پولیس ورکشاپ پہنچی۔ معلوم ہوا کہ دفتر کے مالک کے اپنے حساب میں غلطی تھی۔ جس شخص نے رقم بھیجی تھی، اس نے پہلے ہی ایک لاکھ روپے الگ رکھے تھے، مگر ریکارڈ میں اندراج نہیں کیا تھا۔ رقم چوری نہیں ہوئی تھی؛ حساب میں غلطی ہوئی تھی۔ مالک کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ حاشر کے گھر پہنچا، اس سے معافی مانگی اور نہ صرف اسے دوبارہ ملازمت کی پیشکش کی بلکہ اس کی ایمان داری سے متاثر ہوکر تنخواہ بھی بڑھا دی۔ حاشر نے شکر ادا کیا، مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔
چند ماہ بعد اسی مالک نے حاشر سے کہا، "میں تمہیں اپنے دفتر کے حسابات سنبھالنے کی ذمے داری دینا چاہتا ہوں۔” حاشر نے پوچھا، "مجھے؟”
مالک مسکرایا، "ہاں، کیونکہ مجھے ہُنرمند آدمی بہت مل سکتے ہیں، مگر امانت دار بہت کم ملتے ہیں۔” حاشر نے نئی ذمے داری قبول کرلی۔ اس نے محنت جاری رکھی، تعلیم بھی مکمل کی اور چند سال بعد انجینئر بن گیا۔ ایک دن وہ اپنے پرانے محلے کی مسجد کے باہر کھڑا تھا۔ ایک غریب لڑکا اس کے پاس آیا اور بولا، "بھائی، مجھے پڑھنا ہے، مگر فیس نہیں ہے۔”
حاشر نے اس کی آنکھوں میں وہی بے بسی دیکھی جو کبھی اپنی آنکھوں میں محسوس کی تھی۔ اس نے لڑکے کی فیس ادا کردی۔ لڑکے نے پوچھا، "آپ نے میری مدد کیوں کی؟”
حاشر نے مسکرا کر کہا، "کیونکہ ایک وقت تھا جب میرے پاس بھی کچھ نہیں تھا، مگر اللہ نے میری مدد ایسے لوگوں کے ذریعے کی جنہیں میں جانتا تک نہیں تھا۔ اب میری باری ہے۔” اس رات حاشر نے سجدے میں سر رکھا اور کہا، "یااللہ! تُو نے مجھے صرف رزق نہیں دیا، تُو نے مجھے یہ سمجھ بھی دی کہ حلال راستہ کبھی نقصان کا راستہ نہیں ہوتا۔”
اس کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی تھا کہ انسان کو ہر آزمائش میں اپنا کردار نہیں چھوڑنا چاہیے۔ وقتی فائدہ انسان کو خوش کرسکتا ہے، مگر سچائی دل کو سکون دیتی ہے۔ کبھی ایمان داری کی قیمت تنہائی، الزام یا نقصان کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے، لیکن اللہ کے ہاں کوئی نیکی ضائع نہیں ہوتی۔
یاد رکھیں، اندھیرے میں جلنے والا چھوٹا سا چراغ بھی راستہ دکھا دیتا ہے۔ اسی طرح ایک انسان کی خاموش ایمان داری نہ صرف اس کی اپنی زندگی بدل سکتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی امید کا چراغ بن سکتی ہے۔
سبق: جب دنیا آپ کے خلاف گواہی دے رہی ہو، تب بھی اگر آپ کا ضمیر اور اللہ آپ کی سچائی سے واقف ہیں تو ثابت قدم رہیں۔ آزمائش عارضی ہوتی ہے، مگر کردار کا اثر زندگی بھر رہتا ہے۔