نئے انتظامی یونٹس: فاصلے گھٹانے کا وقت

دانیال جیلانی
پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں نئے انتظامی یونٹس کا سوال ایک مرتبہ پھر سنجیدہ بحث کا موضوع بن رہا ہے۔ اس بحث کو محض سیاسی مطالبے، علاقائی جذبات یا نقشے پر چند نئی لکیریں کھینچنے کا معاملہ سمجھنا شاید اس مسئلے کی اصل روح کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک جدید ریاست کی کامیابی کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ اس کا جغرافیہ کتنا وسیع ہے، بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ ریاست اپنے شہری تک کتنی آسانی سے پہنچتی ہے۔ ایک ایسا ضلع جو دارالحکومت سے سیکڑوں کلومیٹر دور ہو، جہاں کسی سرکاری کام کے لیے شہری کو کئی گھنٹوں کا سفر کرنا پڑے، جہاں ایک معمولی انتظامی مسئلہ حل کرانے کے لیے بڑے شہر کا رخ کرنا پڑے، وہاں فاصلے صرف سڑکوں پر نہیں ہوتے، ریاست اور شہری کے درمیان بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ نئے انتظامی یونٹس اسی فاصلے کو کم کرنے کا ایک قابلِ غور راستہ ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کا جغرافیہ، آبادی اور معاشی ضروریات گزشتہ کئی دہائیوں میں نمایاں طور پر تبدیل ہوچکی ہیں، لیکن انتظامی ڈھانچے میں وہی رفتار نظر نہیں آتی۔ بعض علاقوں کی آبادی کئی ممالک سے زیادہ ہے، بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے جب کہ دُوردراز اضلاع بنیادی سہولتوں، روزگار اور مؤثر انتظامیہ کے لیے طویل عرصے سے منتظر ہیں۔ ایسے میں سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نئے انتظامی یونٹس کیوں بنائے جائیں، بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ موجودہ انتظامی ساخت شہریوں کی بدلتی ضروریات کو کس حد تک پورا کررہی ہے۔ نئے انتظامی یونٹس کا سب سے بڑا فائدہ شاید یہی ہوگا کہ فیصلہ سازی عوام کے قریب آسکے گی۔ جب صوبائی دارالحکومت سے دُور کسی علاقے کے لیے تعلیم، صحت، سڑک، آب پاشی، صنعت یا روزگار کے منصوبے بنائے جائیں تو مقامی حالات سے واقف انتظامیہ زیادہ مؤثر ترجیحات طے کرسکتی ہے۔ ہر علاقے کی ضرورت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کہیں زراعت بنیادی معیشت ہے، کہیں صنعت، کہیں ساحلی تجارت، کہیں معدنی وسائل اور کہیں سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ایک نسبتاً چھوٹا انتظامی یونٹ اپنی مخصوص معاشی طاقت کو بہتر انداز میں بروئے کار لاسکتا ہے۔ اس بحث کا ایک اہم پہلو نوجوان نسل بھی ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ انہیں تعلیم، ہنر، کاروبار اور روزگار کے مواقع اپنے علاقوں میں درکار ہیں۔ اگر ترقی کا مرکز چند بڑے شہر ہی رہیں گے تو نوجوان روزگار کی تلاش میں نقل مکانی کرتے رہیں گے۔ اس سے بڑے شہروں پر آبادی، ٹریفک، رہائش اور بنیادی سہولتوں کا دباؤ بڑھے گا جب کہ چھوٹے شہر اپنی صلاحیت کے باوجود پسماندہ رہیں گے۔ نئے انتظامی یونٹس مقامی سطح پر معاشی مراکز پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
یہاں ایک اور اہم نکتہ بھی قابلِ غور ہے۔ انتظامی اختیارات کو نچلی سطح تک لے جانے سے صرف حکومت نہیں، عام شہری بھی مضبوط ہوتا ہے۔ جب سرکاری دفتر قریب ہو، افسر تک رسائی نسبتاً آسان ہو اور شکایت کے ازالے کا نظام شہری کے آس پاس موجود ہو تو جواب دہی کا احساس بڑھتا ہے۔ ایک مؤثر انتظامی یونٹ دراصل ریاست اور شہری کے درمیان رابطے کا ایسا پُل بن سکتا ہے جس پر اعتماد کی بنیاد رکھی جائے۔ تاہم نئے انتظامی یونٹس کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مطالبے کو جذبات کی بنیاد پر قبول کرلیا جائے۔ اس کے لیے واضح آئینی طریقۂ کار، قابلِ عمل جغرافیائی حدود، مالی وسائل، انتظامی صلاحیت، آبادی کا تناسب اور مقامی اتفاقِ رائے بنیادی شرائط ہونی چاہئیں۔ نئی اکائی صرف نام یا تختی بدلنے سے کامیاب نہیں ہوگی۔ کامیابی تب ہوگی جب نئے انتظامی یونٹ کے قیام کے ساتھ اسپتال بہتر ہوں، اسکول فعال ہوں، سڑکیں تعمیر ہوں، عدالتوں اور سرکاری دفاتر تک رسائی آسان ہو اور مقامی معیشت کو نئی توانائی ملے۔
اسی طرح اس عمل کو کسی علاقے کے خلاف یا کسی شناخت کو کمزور کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان کی خوبصورتی اس کے مختلف علاقوں، زبانوں، ثقافتوں اور روایات میں ہے۔ مضبوط انتظامی نظام ان رنگوں کو مٹاتا نہیں، بلکہ انہیں بہتر مواقع فراہم کرتا ہے۔ ایک شہری اپنی علاقائی شناخت پر فخر کرتے ہوئے پاکستانی شناخت کو بھی اسی قوت کے ساتھ اپنا سکتا ہے۔ اصل مقصد نقشے کی تقسیم نہیں، وسائل اور مواقع کی منصفانہ تقسیم ہونا چاہیے۔ اگر ایک نیا انتظامی یونٹ بننے کے بعد بھی ترقی چند مخصوص علاقوں تک محدود رہے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ لیکن اگر انتظامی تنظیمِ نو کو میرٹ، شفافیت، مقامی ضروریات اور معاشی منصوبہ بندی کے ساتھ جوڑا جائے تو یہی قدم ملک کے کئی پسماندہ علاقوں کے لیے نئی صبح کا آغاز بن سکتا ہے۔
پاکستان کو آج ایسی حکمرانی درکار ہے جو شہری کے دروازے تک پہنچے، نوجوان کے خواب کو روزگار سے جوڑے، کسان کی محنت کو منڈی تک پہنچائے، صنعت کار کو سہولت دے اور دور افتادہ علاقے کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کرے۔ نئے انتظامی یونٹس اسی بڑے مقصد کی طرف ایک عملی قدم بن سکتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی نعروں سے بلند ہوکر انتظامی ضرورت، معاشی حقیقت اور عوامی سہولت کے آئینے میں دیکھا جائے۔ اگر ریاست کا مقصد اپنے شہری کی زندگی آسان بنانا ہے تو جہاں موجودہ انتظامی ساخت راستے میں رکاوٹ بن رہی ہو، وہاں اصلاح سے گریز دانش مندی نہیں۔ نئے انتظامی یونٹس شاید تمام مسائل کا واحد حل نہ ہوں، مگر درست منصوبہ بندی اور دیانت دار حکمرانی کے ساتھ یہ پاکستان کو زیادہ متوازن، مؤثر اور عوام دوست ریاست بنانے کی سمت ایک اہم قدم ضرور ثابت ہوسکتے ہیں۔