خالی لفافہ

بلال ظفر سولنگی

شہر کے پرانے حصے میں ایک چھوٹی سی ڈاک خانہ نما دکان تھی، جس کے باہر لکڑی کا ایک بورڈ لگا تھا: "خط لکھو، جواب ضرور آئے گا۔”
یہ دکان 65 سالہ حامد چلاتا تھا۔ وہ نہ کوئی بڑا کاروباری شخص تھا، نہ کوئی مشہور آدمی۔ ساری زندگی لوگوں کے خطوط لکھتے، منی آرڈر بھرتے اور دُور بیٹھے اپنوں کے پیغامات ایک کاغذ پر منتقل کرتے گزری تھی۔ اس کے اپنے پاس دولت نہیں تھی، مگر لوگوں کی کہانیاں بہت تھیں۔ حامد کی دکان پر ہر روز مختلف لوگ آتے۔ کوئی بیٹے کو خط لکھواتا، کوئی پردیس گئے شوہر کی خیریت پوچھتا، کوئی بیٹی کو شادی کی مبارک باد بھیجتا۔ حامد ہر خط بڑے غور سے لکھتا، کیونکہ اس کا یقین تھا کہ بعض اوقات ایک کاغذ کا ٹکڑا کسی انسان کو دوبارہ جینے کی وجہ دے دیتا ہے۔
ایک دن بارش کے بعد ایک نوجوان اس کی دکان پر آیا۔ کپڑے سادہ تھے، ہاتھ میں پرانا سا بیگ تھا اور چہرے پر تھکن نمایاں تھی۔ اس نے کہا، "بابا، ایک خط لکھنا ہے۔”
حامد نے قلم اٹھایا، "کس کے نام؟”
نوجوان کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا، "اپنے نام۔” حامد نے حیرت سے اسے دیکھا۔ "اپنے نام خط؟”
نوجوان مسکرا دیا، مگر اس مسکراہٹ میں خوشی نہیں تھی۔ "ہاں بابا، شاید زندگی میں پہلی بار خود کو کچھ کہنا چاہتا ہوں۔”
حامد نے کاغذ سامنے رکھ دیا۔ نوجوان کا نام عارف تھا۔ اس نے لکھوانا شروع کیا: "پیارے عارف! تم ہار گئے ہو۔ تمہارے دوست تم سے آگے نکل گئے، تمہارا کاروبار ناکام ہوگیا، گھر والوں کو تم سے بہت امیدیں تھیں اور تم ان پر پورا نہیں اترسکے۔ تم نے کوشش کی، مگر کامیاب نہیں ہوئے۔ شاید اب مزید کوشش کا کوئی فائدہ نہیں۔”
حامد لکھتا رہا۔ عارف نے کہا، "بس، آخر میں لکھ دیں: اب مجھے مزید کچھ نہیں کرنا۔” حامد نے قلم روک دیا۔ "یہ خط بھیجنا ہے؟”
عارف نے کہا، "نہیں، بس سنبھال کر رکھوں گا۔”
حامد نے کاغذ تہہ کیا اور اسے لفافے میں ڈال دیا۔ پھر بولا، "ایک کام کرو، اس لفافے پر تاریخ لکھ دو۔” عارف نے تاریخ لکھی۔ "اب اسے میرے پاس چھوڑ دو۔”
عارف حیران ہوا، "کیوں؟”
حامد نے کہا، "ایک سال بعد آنا۔”
"اور اگر میں نہ آیا؟” حامد مسکرایا، "تو میں سمجھوں گا کہ تمہارے پاس اس خط سے زیادہ اہم کام آ گیا تھا۔”
عارف ہنس پڑا۔ شاید کئی دنوں بعد پہلی بار۔ وہ چلا گیا۔
ایک سال گزر گیا۔ حامد نے لفافہ اپنی میز کی دراز میں رکھا ہوا تھا۔ اس نے اسے کھولا نہیں تھا۔ ایک شام دروازے پر دستک ہوئی۔ وہی عارف کھڑا تھا۔ مگر اس بار اس کے ہاتھ میں پرانا بیگ نہیں تھا۔ ایک فائل تھی، چہرے پر اعتماد تھا اور آنکھوں میں عجیب سی روشنی۔ حامد نے پوچھا، "خط لینے آئے ہو؟”
عارف نے کہا، "ہاں، مگر پہلے آپ مجھے ایک اور کاغذ دیں۔”
حامد نے نیا کاغذ نکالا۔ عارف نے لکھنا شروع کیا: "پیارے عارف! تمہیں یاد ہے، ایک سال پہلے تم نے خود کو ناکام سمجھ لیا تھا؟ تم نے سوچا تھا کہ زندگی تمہارے خلاف ہے۔ مگر تمہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ تمہاری کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ تم نے اگلے دن ایک چھوٹی سی ورکشاپ میں کام شروع کیا۔ شام کو گھر آکر دو گھنٹے نئی مہارت سیکھتے رہے۔ پہلے مہینے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ دوسرے مہینے بھی نہیں۔ تیسرے مہینے ایک شخص نے تمہارا کام پسند کیا۔ پھر دوسرے نے۔ پھر تیسرے نے۔ آج تمہارے پاس اپنی چھوٹی سی ورکشاپ ہے۔ تم امیر نہیں ہوئے، مگر اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے ہو۔ تمہیں معلوم ہوا کہ ناکامی دروازہ بند ہونے کا نام نہیں، صرف راستہ بدلنے کا نام ہے۔”
حامد خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ عارف نے قلم رکھا اور کہا، "بابا، اب وہ پرانا خط مجھے دے دیں۔” حامد نے دراز کھولی اور پرانا لفافہ نکال دیا۔ عارف نے اسے کھولا، پڑھا اور کچھ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ پھر اس نے کاغذ پھاڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ حامد نے روک دیا۔ "نہیں، اسے مت پھاڑو۔”
عارف نے حیرت سے دیکھا۔ حامد نے کہا، "اسے سنبھال کر رکھو۔”
"کیوں؟”
حامد نے جواب دیا، "تاکہ جب کبھی دوبارہ زندگی تمہیں مشکل لگے تو یہ خط تمہیں یاد دلائے کہ تم ایک سال پہلے بھی ختم نہیں ہوئے تھے۔” عارف کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
حامد نے کہا، "بیٹا، انسان اکثر اپنی زندگی کا فیصلہ اُس وقت کردیتا ہے جب حالات سب سے زیادہ خراب ہوتے ہیں۔ یہی سب سے بڑی غلطی ہے۔ رات کے اندھیرے میں راستہ ختم نہیں ہوتا، صرف دکھائی دینا بند ہوجاتا ہے۔”
عارف نے پوچھا، "لیکن بابا، ہر انسان کامیاب تو نہیں ہوسکتا؟”
حامد نے مسکراکر کہا، "کامیابی کا مطلب ہمیشہ بہت زیادہ پیسہ، شہرت یا بڑا مقام نہیں ہوتا۔ کبھی کامیابی یہ بھی ہوتی ہے کہ انسان کل کے مقابلے میں آج تھوڑا بہتر بن جائے۔ کبھی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ انسان ٹوٹنے کے باوجود کسی کا دل نہ توڑے۔ کبھی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ حالات کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے دوبارہ کوشش کی جائے۔” عارف نے پوچھا، "آپ نے یہ بات کہاں سے سیکھی؟”
حامد نے کچھ دیر خاموش رہ کر کہا، "میں نے بھی کبھی ایک خط لکھا تھا۔”
"کس کے نام؟”
"اپنے نام۔”
حامد نے بتایا کہ جوانی میں اس کا ایک چھوٹا سا کاروبار تھا جو اچانک ختم ہوگیا تھا۔ قرض بڑھ گیا، دوست دور ہوگئے اور اسے لگا کہ زندگی ختم ہوگئی۔ اس نے خود کو ایک خط لکھا تھا، مگر بھیجنے کے بجائے صندوق میں رکھ دیا۔ کئی برس بعد جب وہ خط ملا تو اسے معلوم ہوا کہ جس شخص نے خود کو ناکام سمجھ لیا تھا، وہی شخص آج دوسروں کے خطوط لکھ رہا تھا اور نہ جانے کتنے لوگوں کو امید دے رہا تھا۔
حامد نے کہا، "زندگی عجیب استاد ہے۔ یہ سبق پہلے دیتی ہے، سمجھ بعد میں آتا ہے۔” عارف نے مسکرا کر کہا، "تو پھر مجھے بھی ایک کام کرنا ہے۔”
"کیا؟”
"آج سے میں اپنی زندگی کے فیصلے مشکل دنوں میں نہیں کروں گا۔”
حامد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "بس یہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔”
عارف دکان سے باہر نکلا۔ بارش رک چکی تھی۔ گلی میں پانی کے چھوٹے چھوٹے جوہڑ تھے، مگر آسمان صاف ہوگیا تھا۔ وہ چند قدم چلا، پھر واپس مڑا۔ "بابا!”
حامد نے پوچھا، "کیا ہوا؟”
عارف نے کہا، "وہ بورڈ بدل دیں۔”
حامد نے باہر لگا پرانا بورڈ دیکھا: "خط لکھو، جواب ضرور آئے گا۔”
عارف نے کہا، "اس پر لکھیں:”
"آج ہار گئے ہو تو کیا ہوا، کل پھر کوشش کرنا۔”
حامد مسکرایا۔ اگلے دن دکان کے باہر نیا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اور اس کے نیچے چھوٹے حروف میں ایک جملہ بھی لکھا تھا: "زندگی کا سب سے خطرناک لمحہ وہ نہیں جب انسان ہار جاتا ہے، بلکہ وہ ہے جب وہ دوبارہ کوشش کرنے سے انکار کردیتا ہے۔”