اور حملہ آور مارے گئے

جبران سرفراز

آج کی صبح میری روزانہ کی صبح سے کچھ مختلف تھی، دن کی شروعات تو عام دنوں کی طرح ہی ہوئی لیکن صبح کو گزرے کچھ ہی وقت ہوا تھا کہ یہ عام دن ہمیشہ کے لیے یادگار ہوگیا۔ اچھی یادیں ہوتی تو ٹھیک تھا لیکن یادیں بھی بھیانک اور خوفناک۔

صبح اسٹاک ایکسچینج میں معمول کے مطابق کام جاری تھا، لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ کہیں لوگ شیرز کے اتاڑ چڑھاوُ پر تبصرے کر رہے تھے تو کہیں قہقہوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ زندگی عام دنوں کی طرح ہی رواں دواں تھی کہ اچانک فائرنگ کی آواز فضا میں گونجی، ابتدا میں چند گولیاں چلیں اور پھر گولیوں کی آواز سے پورا علاقہ گونج اٹھا۔

چند لمحوں میں ہم سمجھ گئے کہ دہشت گردوں نے اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کردیا ہے۔ میڈیا میں دکھائے گئے فوٹیجز تو بعد کے ہیں لیکن ہم نے وہ آٹھ منٹ تک زندگی کو موت میں بدلتے دیکھا، اپنے وجود کو کھوتے ہوئے محسوس کیا۔ ڈر اور امید کے درمیان وہ آٹھ منٹ کیسے گزرے وہ شاید بیان کرنا مشکل ہوگا۔ سب کی نظروں کے آگے اپنے اپنے پیاروں کے چہرے گھومنے لگے۔ چند ہی لمحات میں زندگی کی رنگینیاں، آزادی اور گھر والوں کے ساتھ گزارے ہوئے حسین پل یاد آنے لگے۔

لیکن یہ سب خوف چند لمحوں میں ہی دم توڑ گیا جب ہمارے جوانوں نے ہمیشہ کی طرح ہماری حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور دہشت گردوں کو واصلِ جہنم کردیا۔ چونکہ اسٹاک ایکسچینج کی حیثیت غیر معمولی ہے اسی لیے اسٹاک ایکسچینج بلڈنگ میں سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کئے گئے تھے۔ اسٹاک ایکسچینج بلڈنگ پر 25 کے قریب اہلکار تعینات تھے۔

بلڈنگ کی سیکیورٹی پر سندھ ریجنرز، پولیس اور نجی کمپنی کے گارڈ تعینات ہیں۔ اپریل میں ایس ای سی پی نے بھی اسٹاک ایکس چینج کے سیکیورٹی انتظامات کو مزید مستحکم کرنے کی ہدایت کی تھی ۔ بلڈنگ میں چند ماہ پہلے سندھ رینجرز اور اینٹی ٹیررسٹ فورس نے فل ڈریس ریہرسل بھی کی تھی

اسٹاک ایکس چینج بلڈنگ میں الیکٹرانگ سکینگ مشین اور وال تھرو گیٹ نصب ہیں، بلڈنگ میں سو سے زائد سیکیورٹی کیمرا نصب ہیں۔ اتنی سخت سیکیورٹی اور بہادر جوانوں کی بروقت کاروائی کی بدولت ہی آج یہ حملہ ناکام ہوا۔

یہ ہلاکتیں اور نقصان زیادہ بھی ہو سکتا تھا، حملہ آور پورا منصوبہ کرکے آئے تھے کہ عام شہریوں کو یرغمال بنا کر اُن کی جانوں سے کھیلیں گے لیکن خوف کے ابھی چند لمحے ہی گزرےتھے کہ ایک آواز ہمارے کانوں سے ٹکڑائی اور کہنے والے نے کہا کہ آپ سب محفوظ ہیں حملہ آور مارے جا چکے ہیں۔ ہم نے اپنے رب کے حضور شکرانے کے سجدے ادا کیے اور اپنی سیکیورٹی فارسز کو دعاوُں سے نوازتےہوئے فخر سے بولے، یہ ہیں ہمارے محافظ۔