موت کے دروازے سے 6 بار واپسی

محمد راحیل وارثی

موت کے بارے میں انسان نے بہت کچھ لکھا، بہت کچھ سوچا اور بہت کچھ جاننے کی کوشش کی، مگر موت کا راز آج بھی زندگی کے سب سے بڑے معموں میں شامل ہے۔ انسان پیدا ہوتا ہے، زندگی کے مختلف موسموں سے گزرتا ہے اور ایک دن اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ یہی قدرت کا اٹل اصول سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ ایک مرتبہ نہیں، دو مرتبہ نہیں بلکہ 6 مرتبہ موت کے دروازے تک گیا اور ہر بار واپس زندگی میں لوٹ آیا تو یقیناً ایک لمحے کے لیے انسان کی سوچ رک جاتی ہے۔
یہ حیرت انگیز داستان تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے اسماعیل عزیزی کی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اسماعیل عزیزی کا کہنا ہے کہ انہیں چھ مختلف مواقع پر مردہ قرار دیا گیا مگر ہر مرتبہ وہ دوبارہ ہوش میں آگئے۔ ان کا یہ غیر معمولی تجربہ ایک دستاویزی فلم کے ذریعے بھی سامنے آیا، جس کے بعد دنیا بھر میں ان کی کہانی نے لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ سوچیے، پہلی مرتبہ جب کسی انسان کو مردہ قرار دیا جائے اور وہ دوبارہ آنکھیں کھول دے تو اس کے لیے وہ لمحہ کیسا ہوگا؟ اور اگر یہی تجربہ دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں اور پھر چھٹی مرتبہ بھی ہو تو انسان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟
اسماعیل عزیزی کی کہانی کا آغاز ایک کام کے حادثے سے ہوا۔ شدید زخمی ہونے کے بعد انہیں مردہ قرار دیے جانے اور مردہ خانے منتقل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، لیکن بعد میں وہ دوبارہ ہوش میں آگئے۔ ان کے مطابق اس کے بعد ملیریا کے دوران بھی انہیں مردہ سمجھ لیا گیا اور تدفین کی تیاری ہونے لگی، مگر وہ دوبارہ زندہ حالت میں سامنے آگئے۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ ایک شدید ٹریفک حادثے، سانپ کے ڈسنے، گہرے گڑھے میں گرنے اور آخرکار گھر میں لگنے والی آگ جیسے واقعات بھی ان کی زندگی کا حصہ بنے۔ ہر واقعے کے بعد یہی سمجھا گیا کہ اس بار زندگی کا چراغ بجھ چکا ہے، لیکن ہر مرتبہ اسماعیل عزیزی دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
یہاں سے یہ داستان صرف حیرت کی نہیں رہتی، بلکہ انسانی نفسیات کا ایک عجیب باب بن جاتی ہے۔ موت سے واپس آنے والے شخص کے ساتھ لوگ کیسا سلوک کرتے ہیں؟ عام انسان کے لیے موت ایک ایسی حقیقت ہے جسے وہ دور سے دیکھتا ہے۔ کسی جنازے میں شریک ہوتا ہے، کسی عزیز کو قبر میں اتارتا ہے اور پھر اپنے معمولات زندگی کی طرف واپس چلا جاتا ہے۔ لیکن اسماعیل عزیزی کی کہانی میں موت بار بار ان کے دروازے تک آتی دکھائی دیتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بعض مقامی لوگوں نے انہیں عام انسان سمجھنے کے بجائے خوف اور شک کی نظر سے دیکھنا شروع کردیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق ان کی غیر معمولی زندگی نے انہیں سماجی تنہائی کا شکار بھی کیا۔ یہ پہلو شاید ان کی داستان کا سب سے زیادہ تکلیف دہ حصہ ہے۔
دنیا حیران ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا، مگر شاید اس شخص کے لیے اصل سوال کچھ اور ہے: زندہ رہنے کے بعد زندگی کیسے گزاری جائے؟
ہم اکثر زندگی کو اس وقت محسوس کرتے ہیں جب کوئی بڑا خطرہ ہمارے قریب آتا ہے۔ اسپتال کے بستر پر پڑا مریض صحت کی قدر جانتا ہے، حادثے سے بچ جانے والا شخص ایک محفوظ سفر کی اہمیت سمجھتا ہے اور کسی عزیز کی جدائی انسان کو بتاتی ہے کہ ساتھ بیٹھ کر گزرا ہوا ایک معمولی سا لمحہ بھی کتنا قیمتی تھا۔ مگر اسماعیل عزیزی کی کہانی ہمیں زندگی کی قدر کا یہ سبق بار بار یاد دلاتی ہے۔ہمیں روزانہ صبح آنکھ کھلنے پر شاید کبھی خیال نہیں آتا کہ یہ بھی ایک نعمت ہے۔ ہم اپنے بچوں کو دیکھتے ہیں، والدین کی آواز سنتے ہیں، دوستوں سے بات کرتے ہیں، کام پر جاتے ہیں، بازاروں میں گھومتے ہیں اور رات کو سو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہمیں اتنا معمولی لگتا ہے کہ ہم اس کی قدر کرنا بھول جاتے ہیں۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا ہر دن ایک نیا موقع ہے۔ اسماعیل عزیزی کی کہانی کا ایک پہلو طبی دنیا کے لیے بھی سوالات پیدا کرتا ہے۔ کسی شخص کو مردہ قرار دینے کے لیے طبی طور پر کن علامات کو دیکھا جاتا ہے؟ کیا بعض انتہائی نازک حالات میں انسانی جسم کی کیفیت ایسی ہوسکتی ہے جسے عام مشاہدے میں موت سمجھ لیا جائے؟ کیا محدود طبی سہولتیں رکھنے والے علاقوں میں ایسے واقعات کی وجوہ مختلف ہوسکتی ہیں؟ یہ سوالات جذبات سے نہیں بلکہ تحقیق اور سائنس سے جواب مانگتے ہیں۔
اسی لیے اس واقعے کو صرف معجزہ، جادو یا پُراسرار طاقت قرار دینا مناسب نہیں۔ اسماعیل عزیزی کے دعوے اپنی جگہ حیرت انگیز ہیں، مگر ان کی مکمل طبی تصدیق کے بغیر حتمی نتیجہ نکالنا بھی درست نہیں ہوگا۔ لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جس کے لیے کسی طبی رپورٹ کی ضرورت نہیں۔ وہ حقیقت ہے زندگی کی قدر۔ ہم میں سے کتنے لوگ زندہ ہوتے ہوئے بھی زندگی سے دُور ہوچکے ہیں؟ کتنے لوگ ہر وقت ماضی کی ناکامیوں کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں؟ کتنے لوگ ایک چھوٹی سی شکست کے بعد اپنے خواب دفن کردیتے ہیں؟ کتنے لوگ اپنوں سے ناراض رہتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ کل بات کرلیں گے؟
موت کے بارے میں سب سے خوف ناک بات شاید یہ نہیں کہ وہ ایک دن آئے گی، بلکہ یہ ہے کہ انسان کو یہ معلوم نہیں کہ وہ دن کب آئے گا۔ اسی لیے زندگی کو مؤخر نہیں کرنا چاہیے۔ محبت کرنی ہے تو آج کیجیے۔ معافی مانگنی ہے تو آج مانگیے۔ کسی اپنے سے بات کرنی ہے تو آج کیجیے۔ کوئی خواب پورا کرنا ہے تو آج پہلا قدم اٹھائیے۔ کیونکہ کل صرف ایک امید ہے، ضمانت نہیں۔
اسماعیل عزیزی کی داستان ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ زندگی صرف زندہ رہنے کا نام نہیں۔ انسان کو زندہ رہنے کے ساتھ زندگی کا مطلب بھی تلاش کرنا ہوتا ہے۔ 6 مرتبہ موت کے قریب پہنچنے کا دعویٰ کرنے والے اس شخص کی کہانی شاید آنے والے دنوں میں بھی ایک معمہ بنی رہے۔ سائنس اس کے ہر پہلو کی وضاحت کرے یا کچھ سوالات بدستور باقی رہیں، لیکن اس داستان کا ایک پیغام بہت واضح ہے: جب تک سانس ہے، کہانی باقی ہے۔
انسان کبھی کبھی ایک شکست کو اپنی آخری شکست سمجھ لیتا ہے۔ ایک ناکامی کو آخری فیصلہ سمجھ لیتا ہے۔ ایک مشکل رات کو سمجھتا ہے کہ اب صبح نہیں ہوگی مگر زندگی کا مزاج عجیب ہے۔ کبھی کبھی سب کچھ ختم ہوجانے کے بعد بھی ایک دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور شاید یہی زندگی کا سب سے خوبصورت راز ہے کہ انسان کو جب تک ایک اور سانس مل رہی ہے، اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک اور کوشش کرے، ایک اور خواب دیکھے، ایک اور صبح کا انتظار کرے۔ اسماعیل عزیز کی داستان میں موت کتنی بار آئی، یہ ایک الگ سوال ہے۔ مگر اس کہانی کا اصل سوال شاید یہ ہے: ہمیں زندگی کتنی بار ملی اور ہم نے اسے کتنی بار واقعی جیا؟