وقاص بیگ
فجر کی اذان ختم ہوئی تو پورا گاؤں ہلکی ہلکی روشنی میں نہارہا تھا۔ مسجد سے نمازی واپس آرہے تھے، لیکن آج احمد کے قدم مسجد سے گھر کی طرف نہیں، قبرستان کی طرف اٹھ رہے تھے۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا سا لفافہ تھا، جس کے کنارے وقت کی گرد سے زرد ہوچکے تھے۔ وہ خاموشی سے ایک قبر کے پاس بیٹھ گیا۔
"امّی… آج میں بہت تھک گیا ہوں۔”
یہ کہتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ سات سال پہلے یہی احمد اور اس کا چھوٹا بھائی حارث ایک جان دو قالب تھے۔ محلے والے مثال دیتے تھے کہ اگر ایک بیمار ہوجائے تو دوسرا رات بھر جاگتا ہے۔ والد کے انتقال کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کا سہارا بننے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر شیطان ہمیشہ وہاں حملہ کرتا ہے جہاں محبت سب سے زیادہ ہو۔ ایک دن وراثت کی تقسیم کا معاملہ آیا۔ چند رشتہ داروں نے کان بھرنے شروع کردیے۔
"احمد نے زیادہ زمین اپنے نام کر لی ہے۔”
"حارث تمہیں دھوکا دیا جا رہا ہے۔”
"بھائی بھائی نہیں، دولت سب کچھ ہے۔”
بس یہی چند جملے تھے جنہوں نے برسوں کی محبت میں زہر گھول دیا۔ احمد سمجھتا رہا کہ حارث بدل گیا ہے۔ حارث سمجھتا رہا کہ احمد لالچی ہوگیا ہے۔ گھر کی دیواریں وہی تھیں، مگر سلام بند ہوگیا۔ ایک ہی گاؤں میں رہتے ہوئے دونوں اجنبی بن گئے۔
ماں ہر نماز کے بعد ہاتھ اٹھاتی اور صرف ایک دعا کرتی… "یااللہ! میرے بیٹوں کے دلوں سے نفرت نکال دے۔” مگر دونوں کے دل ضد کی قید میں تھے۔
پھر ایک دن ماں شدید بیمار ہوگئیں۔ ڈاکٹر نے کہا، "وقت بہت کم ہے۔” احمد ہسپتال پہنچا تو حارث پہلے سے وہاں موجود تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا… مگر نظریں جُھکالیں۔ ماں نے کمزور ہاتھ سے دونوں کو قریب بلایا۔ پہلے احمد کا ہاتھ پکڑا… پھر حارث کا… اور دونوں ہاتھ آپس میں ملادیے۔ کانپتی ہوئی آواز میں بولیں… "بیٹا… یاد رکھنا… اللہ تعالیٰ دن رشتہ داری توڑنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔”
پھر چند لمحے خاموش رہیں۔ "میں مر کر بھی اس وقت تک سکون سے نہیں رہ سکوں گی… جب تک تم دونوں ایک دوسرے کو معاف نہیں کرو گے۔” دونوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ مگر انا ابھی زندہ تھی۔ کسی نے زبان سے "معاف” نہیں کہا۔ اسی رات ماں دنیا سے رُخصت ہوگئیں۔ جنازے کے وقت دونوں ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔ نماز ختم ہوئی۔ قبر پر مٹی ڈالی گئی۔ لوگ واپس جانے لگے۔ لیکن حارث اور احمد کے چھوٹے ماموں نے دونوں کو روک لیا۔
انہوں نے اپنی جیب سے ایک لفافہ نکالا۔ "یہ باجی نے اپنی وفات سے ایک دن پہلے مجھے دیا تھا۔ کہا تھا کہ میرے جانے کے بعد میرے دونوں بیٹوں کو دے دینا۔” احمد کے ہاتھ کانپنے لگے۔ حارث نے آہستہ سے لفافہ کھولا۔ اندر صرف ایک خط تھا۔ ماں کی لرزتی ہوئی لکھائی…
"میرے پیارے بیٹو! اگر یہ خط پڑھ رہے ہو تو سمجھ لو میں اللہ کے حضور جاچکی ہوں۔ میں نے تم دونوں کو کبھی الگ نہیں دیکھا۔ جب احمد کو بخار ہوتا تھا تو حارث ساری رات جاگتا تھا۔ جب حارث گرتا تھا تو احمد خود زخمی ہو جاتا تھا۔ پھر آخر وہ کون سا دن تھا جب زمین کے چند ٹکڑوں نے تمہارے دل الگ کردیے؟ یاد رکھنا…> دنیا کی ہر چیز یہیں رہ جائے گی۔ لیکن اگر تم نے ایک دوسرے کو معاف نہ کیا تو شاید میری قبر بھی تنگ ہو جائے، کیونکہ ماں کی خوشی اس کے بچوں کی محبت میں ہوتی ہے۔ میرے لیے نہیں… صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے کو گلے لگا لینا۔”
خط ختم ہوتے ہی حارث زور زور سے رونے لگا۔ وہ پہلی بار اپنے بڑے بھائی کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ "بھائی… مجھے معاف کردو… میں دوسروں کی باتوں میں آ گیا تھا۔”
احمد بھی خود کو سنبھال نہ سکا۔ اس نے فوراً اپنے بھائی کو اٹھایا، سینے سے لگالیا اور کہا… "نہیں حارث… غلطی میری بھی تھی۔ اگر میں تمہیں محبت سے سمجھا لیتا تو آج امّی یہ خط نہ لکھتیں۔”
ماموں نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔” اس دن دونوں بھائیوں نے فیصلہ کیا کہ وراثت سے پہلے رشتہ بچائیں گے۔ انہوں نے زمین برابر تقسیم کر دی۔ جو حصہ کم تھا، وہ بھی ایک دوسرے کو دینے پر اصرار کرتے رہے۔
چند مہینوں بعد انہوں نے اپنے والدین کے نام سے ایک چھوٹا سا کنواں بنوایا، جہاں سے آج بھی مسافر پانی پیتے ہیں۔ ہر جمعہ دونوں بھائی اپنی ماں کی قبر پر اکٹھے جاتے ہیں۔ فاتحہ پڑھتے ہیں۔ اور قبر کے پاس بیٹھ کر یہی کہتے ہیں…
"امّی! آپ کا خط ہم نے سنبھال کر رکھا ہے، مگر اس سے بھی زیادہ ہم نے آپ کی نصیحت کو اپنے دل میں محفوظ کر لیا ہے۔”
اس دن احمد نے قبر سے اٹھتے ہوئے اپنے بھائی کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور مسکرا کر کہا: "حارث… دنیا میں سب سے امیر وہ نہیں جس کے پاس سب سے زیادہ زمین ہو… بلکہ وہ ہے جس کے پاس اپنے بھائی کا ہاتھ ہو۔”
سبق: شیطان اکثر رشتوں کو غلط فہمی، انا اور دوسروں کی باتوں کے ذریعے توڑتا ہے جب کہ اسلام معافی، صلح رحمی اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ کبھی ایسا نہ ہونے دیں کہ دنیا کی چند چیزیں آپ سے وہ رشتہ چھین لیں جس کی حفاظت کا حکم اللہ تعالیٰ نے خود دیا ہے۔