اختیار عوام تک، نئے صوبے ضروری

اسد احمد

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو جذبات اور سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ نئے صوبوں کا بنیادی تصور دراصل یہ ہونا چاہیے کہ ریاستی نظام کو اس طرح منظم کیا جائے کہ عوام تک حکومت، سہولت، روزگار اور ترقی کے مواقع زیادہ مؤثر انداز میں پہنچ سکیں۔
پاکستان ایک وسیع آبادی اور مختلف جغرافیائی خصوصیات رکھنے والا ملک ہے۔ کہیں بلند پہاڑ ہیں، کہیں صحرائی علاقے، کہیں ساحلی پٹی اور کہیں زرخیز زرعی میدان۔ ہر خطے کے مسائل، معاشی امکانات اور ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک ہی انتظامی مرکز سے دور دراز علاقوں کی تمام ضروریات کو یکساں رفتار اور یکساں ترجیح کے ساتھ پورا کرنا آسان کام نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر سنجیدگی سے غور شروع ہوتا ہے۔
ایک چھوٹی انتظامی اکائی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ کم ہوجائے۔ آج ایک دور دراز علاقے کے شہری کو معمولی سرکاری کام کے لیے بھی کئی سطحوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اگر انتظامی مرکز اس کے قریب ہو، متعلقہ محکمے مقامی سطح پر زیادہ بااختیار ہوں اور فیصلے اسی علاقے کی ضروریات کو سامنے رکھ کر کیے جائیں تو مسائل کے حل کی رفتار نمایاں طور پر بہتر ہوسکتی ہے۔
نئے صوبوں کا مطلب صرف نئے گورنر، وزیراعلیٰ یا نئی اسمبلیاں نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ محض انتظامی نقشے میں تبدیلی ہوگی۔ اصل مقصد اس وقت حاصل ہوگا جب اختیارات کے ساتھ وسائل بھی منتقل ہوں، اداروں کو خودمختاری ملے، مقامی سطح پر منصوبہ بندی ہو اور ہر انتظامی اکائی اپنی کارکردگی کے لیے عوام کو جواب دہ ہو۔
دنیا کے کئی ممالک نے اپنی انتظامی ضروریات کے مطابق ریاستی یا صوبائی اکائیوں کی تعداد میں اضافہ کیا اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا۔ پاکستان بھی اپنے حالات اور ضروریات کے مطابق ایسا ماڈل اختیار کرسکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے کو جذباتی نعروں کے بجائے تحقیق، اعداد و شمار اور قومی مفاد کی بنیاد پر دیکھا جائے۔
ایک اور اہم پہلو معاشی ترقی ہے۔ اگر کسی علاقے کے پاس اپنے ترقیاتی مسائل کی نشاندہی، منصوبہ بندی اور بجٹ کے استعمال کے لیے زیادہ اختیارات ہوں تو وہ اپنی مقامی معیشت کے مطابق پالیسیاں تشکیل دے سکتا ہے۔ زرعی علاقوں کے لیے زرعی صنعت، ساحلی علاقوں کے لیے بندرگاہ اور سمندری معیشت، معدنی وسائل رکھنے والے علاقوں کے لیے معدنی صنعت جبکہ شہری مراکز کے لیے تجارت، ٹیکنالوجی اور خدمات کے شعبے کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔ اس طرح نئے صوبے محض انتظامی یونٹس نہیں بلکہ معاشی ترقی کے نئے مراکز بھی بن سکتے ہیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کسی علاقے یا قومیت کے خلاف نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان کی خوبصورتی اس کی مختلف ثقافتوں، زبانوں اور علاقوں کا مجموعہ ہے۔ انتظامی حدود تبدیل کرنے کا مقصد لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کرنا نہیں بلکہ ریاستی سہولتوں کو لوگوں کے قریب لانا ہونا چاہیے۔ اس لیے نئے صوبوں کی بحث میں ایک اصول واضح ہونا چاہیے: نئے صوبے نفرت کے لیے نہیں، خدمت کے لیے، تقسیم کے لیے نہیں، انتظامی بہتری کے لیے اور سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوامی سہولت کے لیے بنائے جائیں۔
اگر کوئی نیا صوبہ بن بھی جائے لیکن وہاں وہی پرانا طرز حکمرانی، وہی سیاسی مداخلت، وہی کمزور ادارے اور وہی غیر مؤثر نظام برقرار رہے تو صرف نام اور نقشہ تبدیل ہوگا، عوام کی زندگی نہیں۔ لہٰذا نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کو بھی حقیقی اختیار دینا ہوگا۔ تعلیم، صحت، بلدیات، زراعت، روزگار اور شہری سہولتوں کے فیصلے زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر ہونے چاہئیں۔ عوام کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ حکومت ان کے درمیان موجود ہے، ان کے مسائل سن رہی ہے اور ان کے ٹیکس اور وسائل ان ہی کے علاقے کی ترقی پر خرچ ہورہے ہیں۔
پاکستان کو آج ایسے انتظامی ماڈل کی ضرورت ہے جو آنے والی نسلوں کو بہتر مواقع فراہم کرسکے۔ آبادی بڑھ رہی ہے، شہروں کا پھیلاؤ جاری ہے، معیشت کی ضروریات تبدیل ہورہی ہیں اور نئی نسل پہلے سے زیادہ تیز رفتار خدمات چاہتی ہے۔ ایسے میں کئی دہائیوں پرانے انتظامی ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے مقدس سمجھ لینا دانش مندی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے صوبوں پر کھلے ذہن کے ساتھ قومی مکالمہ کیا جائے۔ ماہرین، آئینی ماہرین، معاشی ماہرین، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور عوام کو اس بحث کا حصہ بنایا جائے۔ جہاں ضرورت ثابت ہو، وہاں آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت نئے انتظامی یونٹس تشکیل دیے جائیں۔ پاکستان کو مضبوط کرنے کے لیے ہمیں یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ بڑا انتظامی یونٹ لازماً مضبوط انتظامیہ کی علامت ہے۔ بعض اوقات چھوٹا انتظامی یونٹ زیادہ مؤثر، زیادہ جواب دہ اور متحرک ہوسکتا ہے۔
آخرکار ریاست کی طاقت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس کا نقشہ کتنا بڑا ہے، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ اس ریاست کا عام شہری حکومت کو اپنے کتنے قریب محسوس کرتا ہے۔ اگر نئے صوبے اس فاصلے کو کم کرسکتے ہیں، ترقی کے نئے مراکز بنا سکتے ہیں، وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن بنا سکتے ہیں اور عوام کو بہتر حکمرانی فراہم کرسکتے ہیں تو پھر اس تصور کو محض سیاسی نعرہ سمجھ کر مسترد کرنے کے بجائے قومی ضرورت کے طور پر سنجیدگی سے پرکھنا چاہیے۔ نئے صوبے پاکستان کو تقسیم کرنے کا نہیں، پاکستان کے انتظام کو بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، شرط صرف یہ ہے کہ مقصد اقتدار کی تقسیم نہیں، اختیار کی عوام تک منتقلی ہو۔