بلال ظفر سولنگی
"ابو… آپ دونوں کے لیے یہی بہتر ہے کہ کسی اولڈ ہوم میں چلے جائیں۔”
یہ الفاظ سنتے ہی حاجی عبدالرحمٰن کے ہاتھ سے چائے کا کپ گر کر ٹوٹ گیا۔ ان کی بیوی زینب بیگم نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا، مگر ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، آواز نہیں۔ یہ وہی گھر تھا جس کی ایک ایک اینٹ عبدالرحمٰن نے اپنا خون پسینہ بہا کر لگائی تھی۔ یہی صحن تھا جہاں ان کا بیٹا حمزہ اپنے ننھے قدموں سے دوڑا کرتا تھا۔ یہی دیواریں تھیں جن پر اس کی قد بڑھنے کی نشانیاں آج بھی موجود تھیں۔ عبدالرحمٰن نے زندگی بھر محنت مزدوری کی۔ گرمی ہو یا سردی، بارش ہو یا آندھی، وہ کبھی کام سے پیچھے نہ ہٹے۔ ان کی ایک ہی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے۔
زینب بیگم نے بھی اپنی خواہشیں قربان کردیں۔ کئی کئی راتیں سلائی مشین پر کپڑے سی کر گزاریں تاکہ بیٹے کی فیس وقت پر جمع ہوسکے۔ حمزہ انجینئر بن گیا۔ اچھی ملازمت ملی۔ پھر شادی ہوگئی۔ شروع شروع میں سب کچھ ٹھیک تھا، لیکن آہستہ آہستہ گھر کا ماحول بدلنے لگا۔
"امی، آپ ہر بات میں ٹوکتی کیوں ہیں؟”
"ابو، آپ پرانے زمانے کی باتیں چھوڑ دیں۔”
اور پھر ایک دن وہ جملہ سننے کو ملا جس نے ان دونوں کے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔ "آپ دونوں ہمارے لیے بوجھ بن گئے ہیں۔” اس رات عبدالرحمٰن اور زینب بیگم نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کی۔
فجر کے وقت عبدالرحمٰن نے الماری کھولی، چند کپڑے ایک پرانے تھیلے میں رکھے اور زینب سے کہا، "چلو… شاید اب ہمارے نصیب میں یہی لکھا تھا۔” وہ دونوں خاموشی سے گھر سے نکل گئے۔
چند گلیاں دور جا کر ایک پارک کی بینچ پر بیٹھ گئے۔ زینب بیگم نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، "یااللہ! اگر ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو معاف کردے، مگر ہماری اولاد کو کبھی ایسا وقت نہ دکھانا۔” یہ دعا سن کر پاس سے گزرنے والے ایک نوجوان کے قدم رک گئے۔
اس کا نام سلمان تھا۔ وہ ایک اسکول کا استاد تھا۔ اس نے دونوں بزرگوں کے چہروں پر برسوں کی تھکن، بے بسی اور ٹوٹے ہوئے خواب دیکھ لیے۔ اس نے ادب سے پوچھا، "بابا جی، آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟” پہلے تو عبدالرحمٰن نے کچھ نہ بتایا، مگر جب سلمان نے بار بار اصرار کیا تو ساری کہانی سنائی۔ سلمان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
اس نے فوراً کہا، "اگر آپ لوگوں کو مناسب لگے تو میرے گھر چلیں۔” عبدالرحمٰن نے انکار کیا۔
"بیٹا، ہم کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتے۔”
سلمان مسکرایا۔ "بوجھ وہ نہیں ہوتے جنہوں نے نسلیں سنواری ہوں۔ بوجھ تو وہ سوچ ہوتی ہے جو والدین کی قدر کرنا بھول جائے۔” سلمان اپنی اہلیہ عائشہ کے پاس دونوں بزرگوں کو لے آیا۔
عائشہ نے بھی فراخ دلی سے ان کا استقبال کیا۔ "آج سے آپ ہمارے ابو اور امی ہیں۔” زینب بیگم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ وہ کئی دن بعد سکون سے سوئیں۔ وقت گزرتا گیا۔
عبدالرحمٰن محلے کے بچوں کو فی سبیل اللہ قرآن پاک پڑھانے لگے۔ زینب بیگم لڑکیوں کو سلائی اور کڑھائی سکھانے لگیں۔ چند ہی مہینوں میں وہ دونوں پورے محلے کے لیے انتہائی قابل احترام ہستی بن گئے۔ جس گھر سے وہ نکالے گئے تھے، اس سے کہیں زیادہ محبت انہیں اس چھوٹے سے گھر میں ملی۔
ایک دن محلے والوں نے مل کر "والدین عزت فاؤنڈیشن” قائم کی، جہاں ایسے بزرگوں کی خدمت شروع کی گئی، جنہیں ان کی اولاد نے تنہا چھوڑ دیا تھا۔ عبدالرحمٰن کو اس فاؤنڈیشن کا سرپرست بنایا گیا۔ وہ اکثر نوجوانوں سے کہتے، "اولاد کا اصل امتحان والدین کی جوانی میں نہیں، ان کی بڑھاپے میں خدمت کرنا ہے۔”
ان کی باتیں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں۔ ایک دن یہ ویڈیو حمزہ تک بھی پہنچ گئی۔ اس نے دیکھا کہ اس کے والد کو لوگ کھڑے ہوکر سلام کررہے ہیں۔ کوئی ان کے ہاتھ چوم رہا ہے، کوئی دعائیں لے رہا ہے۔ اس کا دل کانپ گیا۔ وہ کئی راتیں سو نہ سکا۔ آخر ایک دن وہ اپنی بیوی کے ساتھ فاؤنڈیشن پہنچ گیا۔
دروازے پر عبدالرحمٰن بچوں کو سبق پڑھا رہے تھے۔ حمزہ ان کے قدموں میں گر پڑا۔ "ابو… مجھے معاف کردیں۔ میں دنیا کی دوڑ میں انسانیت ہار گیا۔” زینب بیگم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ عبدالرحمٰن نے خاموشی سے بیٹے کو اٹھایا۔
"بیٹا… والدین کے دل میں نفرت زیادہ دیر نہیں رہتی، لیکن یاد رکھنا، ہر ماں باپ کو سلمان جیسے لوگ نہیں ملتے۔ بہت سے والدین خاموشی سے دنیا سے چلے جاتے ہیں، صرف اس انتظار میں کہ شاید ان کی اولاد ایک بار انہیں اپنا لے۔”
حمزہ زار و قطار رونے لگا۔ اس نے سلمان کے ہاتھ پکڑ لیے۔ "آپ نے میرے والدین کو سہارا دیا جب کہ یہ میری ذمے داری تھی۔” سلمان نے مسکراتے ہوئے کہا، "میں نے کوئی احسان نہیں کیا۔ میں نے صرف وہ قرض ادا کیا ہے جو ہر انسان پر اپنے بزرگوں کا ہوتا ہے۔”
چند ماہ بعد حمزہ نے اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے اسی فاؤنڈیشن کی ایک نئی شاخ قائم کی۔ اس نے اعلان کیا کہ ہر وہ بزرگ جسے گھر سے نکال دیا گیا ہو، اس کے لیے یہ دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گا۔ افتتاح کے دن عبدالرحمٰن نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "گھر اینٹوں سے نہیں، دعاؤں سے بنتے ہیں۔ اور سب سے بڑی دعا ماں باپ کے دل سے نکلتی ہے۔ اگر وہ دعا چھن جائے تو بڑی سے بڑی کامیابی بھی انسان کو سکون نہیں دے سکتی۔” پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
اس دن بہت سے نوجوان اپنے والدین کے پاس گئے، ان کے ہاتھ چومے، ان سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
سبق: والدین ہماری زندگی کا وہ سایہ ہیں جو صرف دیتے ہیں، کبھی حساب نہیں مانگتے۔ ان کی خدمت صرف مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر کوئی اپنی اولاد سے محروم ہوجائے یا اولاد اسے چھوڑ دے، تو معاشرے کے باشعور اور صاحبِ استطاعت لوگوں کی ذمے داری ہے کہ وہ ایسے بزرگوں کا سہارا بنیں۔ ایک چھوٹی سی محبت، ایک احترام بھرا لفظ اور ایک محفوظ چھت کسی بزرگ کی باقی زندگی کو جنت بناسکتی ہے۔ یاد رکھیے، جو آج اپنے والدین کے ساتھ کرتا ہے، کل وہی اس کے اپنے بچوں کے رویّے میں بھی لوٹ کر آتا ہے۔