آن لائن گیمز بچوں میں چڑچڑے پن اور جارحانہ رویوں کی وجہ قرار

کراچی: ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ آن لائن گیمز کا ضرورت سے زیادہ استعمال بچوں کی ذہنی، جسمانی اور سماجی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق کھیل کو محض تفریح کی حد تک رکھنا مفید ہے، مگر جب یہی عادت روزمرہ زندگی پر حاوی ہو جائے تو مختلف مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بچوں میں ویڈیو گیمز کا بڑھتا ہوا رجحان تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ طویل وقت تک اسکرین کے سامنے بیٹھ کر گیمز کھیلنے سے نہ صرف بچوں کی معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ ان کے رویوں میں بھی نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ متعدد تحقیقات کے مطابق ضرورت سے زیادہ گیمنگ بعض بچوں میں چڑچڑے پن، غصے اور جارحانہ طرزِ عمل کو بڑھا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں مار پیٹ یا سخت ردِعمل جیسے رویے بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مسلسل گیمز کھیلنے سے اعصابی نظام اور دماغی صلاحیتوں پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ایسے بچے اکثر تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی کھو دیتے ہیں، اسکول کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور ان میں ویڈیو گیمز کی لت پیدا ہونے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ آہستہ آہستہ سماجی میل جول سے دور ہونے لگتے ہیں اور دوستوں یا خاندان کے افراد کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے زیادہ وقت اسکرین پر صَرف کرتے ہیں۔
ماہرینِ اطفال کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے لیے ڈیجیٹل اسکرین کے استعمال کا وقت محدود کریں اور انہیں متبادل مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ جسمانی کھیل، پینٹنگ، آرٹ اینڈ کرافٹ اور دیگر تخلیقی مشاغل نہ صرف بچوں کی ذہنی نشوونما میں مدد دیتے ہیں بلکہ ان کی جسمانی صحت بھی بہتر بناتے ہیں۔ البتہ یہ سرگرمیاں بھی والدین کی نگرانی میں ہونا زیادہ مفید ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بچے اپنے بہن بھائیوں اور گھر کے دیگر افراد کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں تو ان میں باہمی محبت، اعتماد اور سماجی صلاحیتیں فروغ پاتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر بچے کی تمام ترجیح صرف ویڈیو گیمز بن جائیں تو خاندان اور گھریلو تعلقات پس منظر میں چلے جاتے ہیں، جس سے بچوں کی شخصیت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسئلے کا حل گیمنگ پر مکمل پابندی عائد کرنا نہیں، کیونکہ ٹیکنالوجی سے آگاہی بھی موجودہ دور کی ضرورت ہے۔ بہتر حکمتِ عملی یہ ہے کہ والدین بچوں کے لیے گیم کھیلنے کے اوقات واضح طور پر مقرر کریں، ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں متوازن طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دیں تاکہ تفریح اور تعلیم کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھا جا سکے۔