نئے صوبے: نئے پاکستان کی بنیاد

رفاقت علی

پاکستان کی تاریخ میں کچھ سوال ایسے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتے بلکہ مزید اہم ہوتے جاتے ہیں۔ نئے صوبوں کا سوال بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اس موضوع پر بات ہوتے ہی عموماً بحث اس بات تک محدود ہوجاتی ہے کہ کون سا علاقہ الگ ہوگا، کون سا شہر دارالحکومت بنے گا اور سیاسی طور پر کس جماعت کو فائدہ یا نقصان پہنچے گا۔ لیکن شاید ہمیں اس مسئلے کو ایک بالکل مختلف زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
سوال یہ نہیں کہ نیا صوبہ کس کا فائدہ کرے گا؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ ہر شہری کو برابر مواقع فراہم کررہا ہے؟
اگر جواب نفی میں ہے تو پھر اصلاح کی بحث ہونی چاہیے۔ دنیا میں کامیاب ریاستیں صرف اپنے بڑے شہروں کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوتیں۔ ان کی اصل طاقت اس بات میں ہوتی ہے کہ ریاست کا نظام عام شہری تک کتنی آسانی سے پہنچتا ہے۔ جہاں ایک شہری کو معمولی سرکاری کام کے لیے بھی طویل سفر کرنا پڑے، جہاں دوردراز علاقوں کے مسائل فیصلہ سازوں تک پہنچتے پہنچتے فائلوں میں گم ہوجائیں، وہاں انتظامی نظام پر نظرثانی کی ضرورت بہرحال پیدا ہوتی ہے۔ یہی نئے صوبوں کے حق میں سب سے مضبوط دلیل ہے۔ نیا صوبہ کسی علاقے کو دوسروں سے کاٹنے کا نام نہیں بلکہ انتظامی ذمے داری کو قابلِ عمل حدود میں تقسیم کرنے کا نام ہے۔ ایک بڑے صوبے میں ایک حکومت کو سیکڑوں میل دُور واقع علاقوں کے مسائل ایک ساتھ دیکھنے پڑتے ہیں۔ وسائل محدود ہوں، آبادی زیادہ ہو اور جغرافیہ وسیع ہو تو ترجیحات طے کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض علاقے مسلسل شکایت کرتے رہتے ہیں کہ ان تک ترقی کی رفتار نہیں پہنچ رہی۔
اگر ایک صوبہ انتظامی طور پر اتنا بڑا ہوجائے کہ حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھنے لگے تو چھوٹے انتظامی یونٹس کا تصور قابلِ غور کیوں نہیں ہوسکتا؟ یہاں ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ نئے صوبے صرف حکومتوں کی تعداد نہیں بڑھا سکتے، بلکہ مقابلے کی فضا بھی پیدا کرسکتے ہیں۔
تصور کیجیے کہ مختلف صوبائی حکومتیں اپنے اپنے علاقوں میں بہتر تعلیم، صحت، روزگار، سرمایہ کاری اور انفرا اسٹرکچر کے لیے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کریں۔ کوئی صوبہ اپنی صنعت کی وجہ سے مثال بنے، کوئی تعلیم میں، کوئی زراعت میں اور کوئی ٹیکنالوجی میں۔ یہ مقابلہ عوام کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ کیونکہ جب حکومت کے سامنے یہ سوال موجود ہو کہ دوسرے صوبے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں تو اس پر بھی کارکردگی بہتر بنانے کا دباؤ بڑھتا ہے۔ اس لیے نئے صوبوں کو صرف سیاسی تقسیم کے چشمے سے دیکھنا درست نہیں۔ یہ انتظامی مقابلے کا ماڈل بھی بن سکتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی آبادی کئی دہائیوں میں بہت بڑھ چکی ہے۔ وہ انتظامی ڈھانچے جو ماضی میں قابلِ انتظام تھے، ضروری نہیں کہ آج بھی اسی رفتار سے عوامی ضروریات پوری کرسکیں۔ شہر پھیل گئے، نئی بستیاں بن گئیں، صنعتی مراکز وجود میں آئے، آبادی کا دباؤ بڑھ گیا اور شہریوں کی توقعات بھی تبدیل ہوگئیں۔ لیکن اگر انتظامی نظام اسی پرانے انداز میں قائم رہے تو مسائل بڑھنا فطری بات ہے۔
ایک جدید ریاست میں حکومت کا مقصد صرف حکمرانی کرنا نہیں ہوتا بلکہ خدمات فراہم کرنا بھی ہوتا ہے۔ اور خدمات جتنی عوام کے قریب ہوں، اتنی ہی مؤثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ نئے صوبوں کے حامیوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ صرف صوبہ بنا دینے سے مسائل خودبخود حل نہیں ہوجائیں گے۔ اگر نیا صوبہ بننے کے بعد بھی کرپشن، نااہلی، سیاسی اقرباپروری اور ناقص منصوبہ بندی جاری رہی تو نقشہ بدلنے کا فائدہ محدود ہوگا۔ اس لیے نئے صوبوں کے ساتھ ایک جامع انتظامی اصلاحات کا پیکیج بھی ضروری ہے۔ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں۔ بلدیاتی ادارے مضبوط ہوں۔ تعلیم اور صحت کے محکموں کو جواب دہ بنایا جائے۔ ترقیاتی بجٹ کا شفاف نظام بنایا جائے۔ سرکاری افسران کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عام شہری کو یہ احساس ہو کہ اس کی شکایت سننے والا نظام اس کے قریب موجود ہے۔ تب نیا صوبہ واقعی ایک تبدیلی بن سکتا ہے۔
ورنہ صرف نام، نقشہ اور دارالحکومت تبدیل کرنے سے عوام کی زندگی نہیں بدلتی۔ ایک اور غلط فہمی بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ نئے صوبے کا مطلب لازماً قومی کمزوری نہیں۔ اگر انتظامی بنیاد پر نئے صوبے آئینی طریقہ کار، عوامی رضامندی اور قومی اتفاقِ رائے سے تشکیل پائیں تو وہ ریاست کو کمزور کرنے کے بجائے مزید منظم کرسکتے ہیں۔
پاکستان کی مضبوطی اس بات میں نہیں کہ اس کے انتظامی یونٹس کم ہوں۔ پاکستان کی مضبوطی اس بات میں ہے کہ اس کا ہر انتظامی یونٹ مضبوط، فعال اور جواب دہ ہو۔ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پاکستان میں بہت سے علاقے اپنی جغرافیائی وسعت، آبادی اور معاشی صلاحیت کے باوجود فیصلہ سازی کے مراکز سے دور ہیں۔ اگر کسی علاقے کے عوام مسلسل یہ محسوس کریں کہ ان کے مسائل ترجیحات میں شامل نہیں، تو محرومی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اور محرومی کا علاج خاموشی نہیں، موثر نمائندگی ہے۔ نئے صوبے اس نمائندگی کو زیادہ مؤثر بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ایک چھوٹا انتظامی یونٹ اپنے مقامی مسائل کو زیادہ واضح انداز میں ترجیح دے سکتا ہے۔ اسے معلوم ہوگا کہ اس کے سامنے کون سا شہر پسماندہ ہے، کہاں ہسپتال چاہیے، کس علاقے میں یونیورسٹی درکار ہے، کہاں صنعتی زون بنایا جاسکتا ہے اور کس سڑک کی فوری ضرورت ہے۔ یہ قربت فیصلہ سازی کو بہتر بناسکتی ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں۔ مسئلہ وسائل کے درست استعمال کا بھی ہے۔ اگر ایک روپیہ خرچ کرنے کا فیصلہ اسی علاقے کے قریب بیٹھ کر ہو جہاں وہ روپیہ خرچ ہونا ہے تو اس کے مؤثر استعمال کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ یہی نئے صوبوں کے تصور کا ایک بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔ فیصلہ وہاں ہو جہاں مسئلہ موجود ہے۔ ہمیں نئے صوبوں کی بحث کو نفرت، تعصب اور سیاسی دشمنی سے نکال کر قومی اصلاحات کے دائرے میں لانا ہوگا۔
کسی علاقے کے عوام اگر انتظامی سہولت چاہتے ہیں تو ان کی بات سننی چاہیے۔ کسی علاقے کے لوگ بہتر نمائندگی چاہتے ہیں تو ان کے مطالبے پر دلیل سے بات ہونی چاہیے۔ کسی علاقے میں یہ احساس موجود ہے کہ حکومت ان سے بہت دور ہے تو اس احساس کو نظرانداز کرنے کے بجائے اس کی وجوہ تلاش کرنی چاہئیں۔ کیونکہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ جمہوریت کا مطلب یہ بھی ہے کہ عوام کی آواز ریاستی فیصلوں میں سنائی دے۔ اور اگر نئے صوبے اس آواز کو زیادہ مؤثر بنانے میں مددگار ہوسکتے ہیں تو اس تصور کو محض سیاسی نعرہ سمجھ کر مسترد نہیں کرنا چاہیے۔
پاکستان کو آج ایک ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جو مستقبل کی آبادی، معیشت اور شہری ضروریات کو سامنے رکھ کر بنایا جائے۔ ہم اپنے بچوں کے لیے ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں انہیں اپنے جائز حق کے لیے دور دراز دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں، جہاں تعلیم ان کے علاقے میں موجود ہو، صحت کی سہولت ان کے قریب ہو، روزگار کے مواقع ان کے شہر میں پیدا ہوں اور حکومت ان کی آواز سننے کے لیے ان کے قریب ہو۔ یہی وہ پاکستان ہے جس کی بنیاد مضبوط انتظامی نظام پر رکھی جاسکتی ہے۔ نئے صوبے اگر آئین، عوامی رضامندی، شفافیت اور قومی مفاد کے اصولوں کے تحت بنائے جائیں تو یہ پاکستان کو تقسیم کرنے کا نہیں بلکہ پاکستان کو بہتر انداز میں چلانے کا منصوبہ بن سکتے ہیں۔
آخر میں ہمیں ایک سوال خود سے ضرور پوچھنا چاہیے: اگر انتظامی تبدیلی سے کروڑوں لوگوں کو بہتر سہولت، زیادہ نمائندگی اور تیز تر ترقی مل سکتی ہے تو صرف اس خوف سے تبدیلی سے کیوں ڈرا جائے کہ نقشے کی لکیریں بدل جائیں گی؟ نقشے انسانوں کے لیے ہوتے ہیں، انسان نقشوں کے لیے نہیں۔ اگر نئی انتظامی تقسیم عوام کی زندگی آسان بناتی ہے، محرومی کم کرتی ہے، حکومت کو عوام کے قریب لاتی ہے اور ترقی کے نئے دروازے کھولتی ہے تو پھر نئے صوبوں کی بحث کو روکنے کے بجائے سمجھنے، پرکھنے اور سنجیدگی سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان مضبوط انتظام، مضبوط اداروں اور مطمئن عوام سے بنتا ہے۔