کراچی: شہر قائد کے علاقے تھانہ سچل کی حدود میں صفورا چورنگی کے قریب جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین عارف ساقی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
سچل تھانے کے علاقے صفوراچورنگی کے قریب معمولی تنازع پر جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو بااثر افراد کی جانب سے بدترین تشدد کا نشانہ بنا کرلہولہان کردیا گیا۔
ویڈیو بیان میں انہوں نے بتایا کہ ہم آئن لائن بائیک رائیڈ بک کرانے کے بعد گھر سے جامعہ کراچی جارہے تھے، جسے ہی رم جھم ٹاؤر سے صفورا چورنگی پر واقع سندھ گرین ریسٹورنٹ پر پہنچے تو سندھ گرین ریسٹورنٹ سے ایک ڈالا سڑک پر سیدھا ہونے کے لیے باہر نکل رہا تھا۔
اسی دوران ایک سیکیورٹی گارڈ باہر آیا اور اس نے ہمیں رُکنے کا اشارہ کیا ہم رک گئے، اسی دوران ڈالا ریورس کرتے ہوئے تیزی سے آیا اور موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔
ڈالے والا جانے لگا تو میں نے اسے کہا کہ آن لائن بائیک رائیڈر غریب انسان ہے، کسی کی موٹر سائیکل لے کر آن لائن بائیک چلارہا اور اپنی روزی کمارہا ہے، یہ موٹر سائیکل کا نقصان برداشت نہیں کرسکتا، لہٰذا اس کا جو بھی نقصان ہو، وہ پورا کیا جائے۔
اسی دوران سندھ گرین ریسٹورنٹ کے مالک کا بیٹا باہر نکلا اور پہلے ہوا میں فائر کیے اور مجھے پستول کے بٹ مار کر لہولہان کردیا اورہم دونوں کو گھسیٹ کر سندھ گرین ہوٹل میں لے گئے اور ہم سے موبائل فونز بھی چھین لیے جو انہوں نے بعد میں ہمیں واپس کردیے۔
انہوں نے بتایا کہ بدترین تشدد کرتے ہوئے انہیں سندھ گرین ریسٹورنٹ میں لے جایا گیا، جہاں انہیں حبس بے جا میں رکھا گیا اوروہاں بھی ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اورسروں پر بٹ مارے گئے۔
اس دوران ملیر سے پولیس کے سپاہی آئے اور انہیں سچل تھانے پہنچایا گیا، رابطہ کرنے پر ایس ایچ اوسچل اعجاز پٹھان نے دعویٰ کیا کہ جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کا گاڑیاں ٹکرانے پر جھگڑا ہوا تھا اور جھگڑے کے دوران سندھ گرین ہوٹل کے مالک کے بیٹے کے گن مینوں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے سندھ گرین ریسٹورنٹ کے مالک کے بیٹے کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے واقعے کی تصدیق سے گریز بھی کیا۔
ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ چیئرمین ڈاکٹر پروفیسرعارف خان ساقی تھانے میں موجود ہیں اور اس کی مدعیت میں واقعہ کا مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹر شیخ محمد ذیشان اقبال جوائنٹ سیکریٹری انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کا کہنا ہے کہ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی شعبۂ اسلامک لرننگ کے استاد عارف خان ساقی کو زدوکوب کرنے اورغیر قانونی طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے کی پُرزور مذمت کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں اساتذہ کا وقار، احترام اور تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جاتا ہے، بدقسمتی سے مملکت خداداد پاکستان میں اساتذہ سب سے مظلوم اقلیت بنتی جارہی ہے، ہم مقتدر حلقوں سے گزارش کرتے ہیں کہ اس واقعے کا نوٹس لیا جائے اور جو لوگ بھی اس میں ملوث ہیں، ان کو قرار واقعی سزا دے کر معاشرے میں استاد کی عزت کو مقدم بنایا جائے۔ بعد ازاں سچل پولیس نے سینئر پروفیسر پر تشدد میں ملوث تین افراد کو حراست میں لے لیا۔
پولیس نے کہا کہ ہوٹل مالک کا بیٹا فرار ہوگیا، زیر حراست افراد ہوٹل ملازم ہیں، مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔