نئے صوبے، نئی سمت کا سوال

وقاص بیگ

پاکستان کی سیاست میں بعض سوال ایسے ہوتے ہیں جو بار بار اٹھتے ہیں، دب جاتے ہیں، پھر کسی نئے واقعے کے بعد دوبارہ سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ نئے صوبوں کا سوال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ محض انتظامی تقسیم کا مسئلہ نہیں، بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے کا سوال ہے۔ ایک ایسا سوال جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا حکومت کا سایہ ہر شہری تک یکساں پہنچ رہا ہے، کیا وسائل کی خوشبو ہر علاقے تک پہنچ رہی ہے اور کیا ایک عام آدمی اپنے ہی صوبے کے نظام میں خود کو واقعی شریک سمجھتا ہے؟
ہم نے برسوں سے صوبوں کو نقشے پر دیکھا ہے۔ سرحدیں کھینچی ہوئی ہیں، دارالحکومت مقرر ہیں، اسمبلیاں موجود ہیں، وزارتیں قائم ہیں مگر نقشہ ہمیشہ حقیقت نہیں بتاتا۔ نقشہ یہ نہیں بتاتا کہ کسی دُور افتادہ بستی کا نوجوان ایک معمولی سرکاری کام کے لیے کتنے گھنٹے سفر کرتا ہے۔ نقشہ یہ نہیں بتاتا کہ ایک بیمار ماں کو علاج کے لیے کتنی دُور لے جانا پڑتا ہے۔ نقشہ یہ بھی نہیں بتاتا کہ کسی علاقے کے بچوں کو معیاری تعلیم کے لیے اپنے شہر سے باہر کیوں دیکھنا پڑتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نئے صوبوں کی بحث محض سیاست نہیں رہتی، ایک انسانی ضرورت بن جاتی ہے۔
1970 میں جب ون یونٹ کا خاتمہ ہوا اور ملک میں چار صوبائی اکائیوں کا موجودہ ڈھانچہ سامنے آیا، اُس وقت پاکستان کی آبادی آج کے مقابلے میں کئی گنا کم تھی۔ آبادی بڑھی، شہر پھیل گئے، نئی بستیاں آباد ہوئیں، معیشت کے مراکز تبدیل ہوئے، مواصلات کا نظام بدل گیا اور شہری توقعات بھی بدل گئیں۔ لیکن انتظامی نقشہ بڑی حد تک وہیں کھڑا رہا۔ سوال یہ نہیں کہ پرانا نقشہ غلط تھا، سوال یہ ہے کہ کیا ہر زمانے کے لیے ایک ہی نقشہ کافی ہوتا ہے؟
دنیا کے کئی ممالک نے وقت کے ساتھ اپنے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں کیں۔ کہیں نئے صوبے بنے، کہیں اضلاع تقسیم ہوئے، کہیں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے گئے۔ مقصد یہ تھا کہ ریاست شہری کے قریب ہو۔ پاکستان میں بھی اس اصول کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی بڑے صوبے کے ایک حصے کے شہری یہ محسوس کرتے ہیں کہ فیصلہ سازی ان سے بہت دُور ہے، ترقیاتی ترجیحات ان کی ضرورتوں کے مطابق نہیں اور سرکاری مشینری تک رسائی مشکل ہے، تو ان کے مطالبے کو صرف سیاسی نعرہ کہہ کر مسترد کرنا مسئلے کا حل نہیں۔
نیا صوبہ کسی جادو کی چھڑی کا نام بھی نہیں۔ صرف نیا نام، نئی اسمبلی اور نئی وزارتیں بنادینے سے عوام کی تقدیر نہیں بدلتی۔ اگر یہی کرنا ہے تو تقسیم کا کوئی فائدہ نہیں۔ نئے صوبے کی اصل روح یہ ہونی چاہیے کہ اختیار کے مراکز عوام کے قریب آئیں، وسائل کی تقسیم شفاف ہو، ادارے مضبوط ہوں، روزگار کے مواقع پیدا ہوں، تعلیم اور صحت کے معیار میں بہتری آئے اور انتظامیہ جواب دہ ہو۔ یعنی صوبہ نیا ہو تو صرف نقشہ نہ بدلے، شہری کی زندگی بھی بدلے۔
یہاں ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے۔ نئے صوبوں کا مطالبہ لسانی، نسلی یا تعصبی بنیادوں پر نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی خوبصورتی اس کی مختلف ثقافتوں، زبانوں اور علاقوں کا باہمی احترام ہے۔ انتظامی تقسیم اگر نفرت کی دیوار بن جائے تو فائدے کے بجائے نقصان ہوگا۔ لیکن اگر تقسیم کا مقصد بہتر حکمرانی، مساوی مواقع اور انتظامی آسانی ہو تو اسے قومی وحدت کے خلاف سمجھنا بھی درست نہیں۔ مضبوط وفاق وہ ہوتا ہے جس میں مختلف اکائیاں اپنے حقوق کے ساتھ خود کو ایک بڑے قومی گھر کا حصہ محسوس کریں۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ بڑے شہروں پر غیر معمولی دباؤ صرف ان شہروں کا مسئلہ نہیں۔ جب روزگار، تعلیم، علاج، تجارت اور سرکاری سہولتیں چند مراکز میں جمع ہوجائیں تو پورے ملک کا توازن متاثر ہوتا ہے۔ لوگ اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت کرتے ہیں، بڑے شہروں کی آبادی بے قابو ہوتی ہے، ٹریفک بڑھتا ہے، رہائش مہنگی ہوتی ہے اور بنیادی سہولتوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اگر انتظامی مراکز زیادہ قریب ہوں، مقامی معیشتوں کو اختیار اور وسائل ملیں اور نئے شہری مراکز ترقی کریں تو یہ دباؤ کم کیا جاسکتا ہے۔
نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والوں کے پاس بھی سوالات ہیں اور ان سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اخراجات کتنے بڑھیں گے؟ نئی اسمبلیوں، سیکریٹریٹس اور اداروں کا بوجھ کون اٹھائے گا؟ وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی؟ ملازمین اور اثاثوں کی تقسیم کس اصول پر ہوگی؟ یہ سب حقیقی سوالات ہیں۔ مگر کسی مسئلے کے پیچیدہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ہمیشہ کے لیے مؤخر کردیا جائے۔ مشکل فیصلوں سے فرار انتظامی دانش مندی نہیں، سیاسی سہل پسندی ہے۔ اس معاملے پر جذبات کے بجائے ایک قومی مکالمہ ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیاں، ماہرین، ماہرین معیشت، انتظامی افسران، مقامی نمائندے اور سب سے بڑھ کر متاثرہ علاقوں کے شہری اس بحث کا حصہ بنیں۔ آبادی، رقبے، آمدن، وسائل، فاصلے، انفرا اسٹرکچر اور انتظامی ضرورت کی بنیاد پر واضح معیار طے کیے جائیں۔ اگر کسی علاقے کے لیے نیا صوبہ مناسب ثابت ہوتا ہے تو آئینی طریقہ اختیار کرتے ہوئے راستہ کھولا جائے اور اگر کسی تجویز میں خامیاں ہیں تو دلیل کے ساتھ انہیں سامنے لایا جائے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر بڑے قومی سوال کو سیاسی مفاد کی عینک سے دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ نئے صوبوں کی بحث کو بھی انتخابی وعدے، جماعتی مفاد یا نشستوں کی گنتی تک محدود کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ آنے والی نسلوں کے انتظامی مستقبل کا سوال ہے۔ سیاست دان آج اقتدار میں ہیں، کل کوئی اور ہوگا مگر ایک درست یا غلط انتظامی فیصلہ کئی دہائیوں تک قوم کے ساتھ چلتا ہے۔
وقت آگیا ہے کہ ہم صوبے کو صرف ایک جغرافیائی لکیر نہ سمجھیں۔ صوبہ دراصل ریاست کا وہ چہرہ ہے جو شہری کے سامنے آتا ہے۔ اگر یہ چہرہ دور، بے حس اور ناقابل رسائی ہو تو شہری کا ریاست پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ اگر یہی چہرہ قریب، جواب دہ اور خدمت گزار ہو تو ایک عام آدمی بھی اپنے ملک کو اپنا سمجھتا ہے۔ نئے صوبوں کا مطالبہ اسی لیے ایک سنجیدہ قومی بحث کا مستحق ہے۔ نہ اسے مقدس نعرہ بنایا جائے، نہ خطرناک خیال قرار دے کر دفن کیا جائے۔ اسے اعدادوشمار، آئین، معیشت اور عوامی ضرورت کی روشنی میں پرکھا جائے۔ اگر نتیجہ نئے صوبوں کے حق میں نکلتا ہے تو سیاسی مصلحتوں سے بلند ہوکر فیصلہ کیا جائے۔
اب سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نیا صوبہ کیوں بنایا جائے؟ سوال یہ ہونا چاہیے کہ ایسا انتظامی نظام کیسے بنایا جائے جس میں کسی شہری کو اپنے حق، علاج، اپنی تعلیم اور اپنے روزگار کے لیے ریاست سے بہت دور نہ جانا پڑے۔ یہی نئے صوبوں کی بحث کا اصل مقصد، اصل امتحان اور شاید آنے والے پاکستان کی نئی سمت بھی ہے۔