نئے صوبے: مضبوط پاکستان کی طرف ضروری قدم

دانیال جیلانی

عوام پاکستان کے 79 ویں یومِ آزادی کی خوشیاں جوش و خروش سے منارہے ہیں۔ یہ دن ہمیں اپنے بزرگوں کی قربانیوں، قیامِ پاکستان کے مقاصد اور ایک ایسے وطن کے خواب کی یاد دلاتا ہے، جہاں ہر شہری کو عزت، مساوات، انصاف اور بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔ آج پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، شہروں کا پھیلاؤ، معاشی ضروریات کی تبدیلی اور عوامی مسائل کی بڑھتی ہوئی نوعیت نے ریاستی نظم و نسق کے سامنے نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ انہی سوالات میں ایک اہم سوال نئے صوبوں کے قیام کا بھی ہے۔
گزشتہ چند دنوں سے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بحث ایک بار پھر زور پکڑرہی ہے۔ بعض حلقے اسے ملکی وحدت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں جب کہ دوسرے اسے انتظامی ضرورت، عوامی سہولت اور متوازن ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی تجویز کو محض سیاسی نعروں یا جذبات کی عینک سے دیکھنے کے بجائے زمینی حقائق، عوامی ضروریات اور مستقبل کے تقاضوں کی روشنی میں پرکھا جانا چاہیے۔
پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے اور وفاق کی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ اس کی تمام اکائیاں اپنی شناخت کے ساتھ قومی دھارے میں شریک ہوں۔ صوبے محض نقشے پر کھینچی ہوئی لکیریں نہیں ہوتے بلکہ وہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، ثقافت، زبان، معیشت اور اجتماعی احساسات کے امین ہوتے ہیں۔ جب کسی صوبے کا رقبہ بہت وسیع ہو، آبادی بہت زیادہ ہو اور دُوردراز علاقوں کے شہریوں کو اپنے صوبائی دارالحکومت تک رسائی میں مشکلات پیش آئیں تو انتظامی ڈھانچے کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے پر غور کرنا وقت کی ضرورت بن جاتا ہے۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اچھا نظام وہ نہیں جو صرف کاغذ پر خوبصورت نظر آئے، بلکہ اچھا نظام وہ ہے جو عام آدمی کی زندگی آسان بنائے۔ اگر کسی دور افتادہ علاقے کا شہری معمولی سرکاری کام کے لیے سیکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنے پر مجبور ہو، اگر کسی طالب علم کو اعلیٰ تعلیمی ادارے تک پہنچنے کے لیے اپنا شہر چھوڑنا پڑے، اگر مریض کو بہتر علاج کے لیے بڑے شہر کا رخ کرنا پڑے اور اگر کسی علاقے کے نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث مسلسل ہجرت پر مجبور ہوں تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ انتظامی نظام میں کہاں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
نئے صوبوں کی بحث دراصل وسائل اور اختیار کو عوام کے قریب لانے کی بحث بھی ہے۔ جب حکومت عوام کے قریب ہوگی تو شکایات سننے، مسائل سمجھنے اور ان کے حل کے امکانات بھی بڑھیں گے۔ ایک نسبتاً چھوٹا انتظامی یونٹ اپنے علاقوں کی ضروریات کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے اور ترقیاتی ترجیحات بھی مقامی حالات کے مطابق طے کرسکتا ہے۔
پاکستان میں کئی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں لوگوں کو یہ احساس رہتا ہے کہ فیصلہ سازی کے مراکز ان سے بہت دُور ہیں۔ یہ احساس اگر طویل عرصے تک برقرار رہے تو محرومی جنم لیتی ہے اور محرومی آگے چل کر بے اعتمادی کو جنم دیتی ہے۔ ریاست کی ذمے داری ہے کہ شہریوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اپنے ملک کے برابر کے مالک ہیں اور ان کے مسائل بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جتنی بڑے شہروں کے مسائل کو حاصل ہے۔
نئے صوبوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ ہم موجودہ صوبوں کی اہمیت یا شناخت کو کم کریں۔ اس کے برعکس نئے انتظامی یونٹس کا مقصد عوامی خدمت کے دائرے کو وسیع کرنا، ترقی کو متوازن بنانا اور ریاستی وسائل تک رسائی آسان بنانا ہونا چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں مختلف زبانیں، ثقافتیں اور علاقائی شناختیں ہمیشہ قومی شناخت کے ساتھ ساتھ چلتی رہی ہیں۔ سندھی، پنجابی، بلوچی، پشتون، سرائیکی، کشمیری، گلگتی، بلتی اور دیگر ثقافتی شناختیں پاکستان کے قومی گلدستے کے مختلف پھول ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کی خوشبو دوسرے پھول کی خوشبو کو ختم نہیں کرتی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو لسانی یا نسلی تعصب سے بالاتر رکھا جائے۔ اگر کوئی نیا صوبہ صرف سیاسی مفادات کے حصول کے لیے بنایا جائے تو یہ مسئلے کا حل نہیں، بلکہ ایک نیا مسئلہ پیدا کرسکتا ہے۔ لیکن اگر کسی نئے صوبے کا قیام عوامی خواہش، انتظامی ضرورت، معاشی امکانات، جغرافیائی حقیقت اور آئینی طریقہ کار کو سامنے رکھ کر کیا جائے تو یہ ملکی استحکام میں مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ نئے صوبوں کی تعداد یا حدود کے تعین سے پہلے جامع مطالعات کیے جائیں۔ ماہرینِ معیشت، انتظامی امور، قانون، جغرافیہ اور سماجی علوم کے ماہرین کو شامل کیا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ مجوزہ صوبہ اپنے انتظامی اخراجات کس طرح پورے کرے گا، اس کے وسائل کیا ہوں گے، روزگار کے مواقع کیسے پیدا ہوں گے، تعلیم اور صحت کا نظام کس طرح بہتر بنایا جائے گا اور اس کے قیام سے وفاق اور دیگر صوبوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
دنیا کے کئی ممالک نے وقت کے ساتھ اپنے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں کیں اور نئے صوبے، ریاستیں یا انتظامی یونٹس قائم کیے۔ مقصد یہی تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق حکومتی نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جائے۔ پاکستان بھی اگر اپنی آبادی، جغرافیہ اور معاشی حالات کے تناظر میں انتظامی اصلاحات کی ضرورت محسوس کرتا ہے تو اسے اس بحث سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اسے سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہیے۔
آج جب ہم جشن آزادی منارہے ہیں تو ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ آزادی کا اصل ثمر عام شہری تک کس طرح پہنچ سکتا ہے۔ آزادی صرف سبز ہلالی پرچم لہرانے، ملی نغمے سننے اور تقریبات منعقد کرنے کا نام نہیں۔ آزادی کا حقیقی مفہوم اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب ایک غریب بچے کو معیاری تعلیم ملے، ایک بیمار شخص کو بروقت علاج میسر ہو، نوجوان کو روزگار ملے، کسان کو اس کی محنت کا مناسب صلہ ملے، شہری کو صاف پانی اور بہتر صفائی کی سہولت حاصل ہو اور ایک عام آدمی کو سرکاری دفتر میں عزت کے ساتھ سنا جائے۔
اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ ان تمام ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرسکتا ہے تو اسے مضبوط بنایا جائے، لیکن جہاں بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت محسوس ہو وہاں اس امکان پر کھلے دل سے غور کیا جانا چاہیے۔ نئے صوبے پاکستان کو تقسیم کرنے کا نہیں بلکہ پاکستان کو بہتر طریقے سے منظم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا قیام نفرت، تعصب اور سیاسی مفاد کے بجائے عوامی خدمت کی بنیاد پر ہو۔ ہمیں نقشے نہیں، نظام بہتر کرنا ہے، فاصلے نہیں، محرومیاں کم کرنی ہیں، شناختیں نہیں مٹانی بلکہ انہیں قومی وحدت کے مضبوط رشتے میں پرو دینا ہے۔
پاکستان کا مستقبل ایک ایسے نظام کا تقاضا کرتا ہے جو 25 کروڑ سے زائد انسانوں کی ضروریات کو سمجھ سکے۔ وقت بدل رہا ہے، آبادی بڑھ رہی ہے، مسائل کی نوعیت تبدیل ہورہی ہے اور دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں انتظامی ڈھانچے کو بھی جامد نہیں رہنا چاہیے۔ 79ویں یوم آزادی کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ پاکستان کو صرف رقبے کے اعتبار سے نہیں بلکہ سہولت، انصاف، ترقی اور خوش حالی کے اعتبار سے بھی بڑا بنائیں گے۔ نئے صوبوں کی بحث اسی بڑے مقصد کی طرف ایک سنجیدہ قدم ہوسکتی ہے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان وہی ہوگا جہاں اقتدار عوام سے دُور نہ ہو، جہاں ترقی چند بڑے شہروں تک محدود نہ رہے اور جہاں ریاست کے ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کا وطن اس کی آواز بھی سنتا ہے اور اس کے مسائل کا حل بھی تلاش کرتا ہے۔