نئے انتظامی یونٹس اور عوام

رفاقت علی

پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس بحث کو عموماً سیاسی مفادات، لسانی حساسیت اور صوبائی تعصب کے چشمے سے دیکھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک اہم انتظامی مسئلہ بھی سیاسی نعرے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے تصور کو جذبات کے بجائے حکمرانی، عوامی سہولت، معاشی منصوبہ بندی اور انتظامی کارکردگی کے تناظر میں دیکھا جائے۔ پاکستان کا بنیادی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ صوبے بڑے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ بعض علاقوں میں ریاستی ادارے عوام کی دہلیز سے اتنے دُور ہیں کہ ایک معمولی سرکاری کام کے لیے بھی شہری کو طویل سفر، اضافی اخراجات اور کئی دنوں کی مشقت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں آبادی مسلسل بڑھ رہی ہو، شہری مراکز پھیل رہے ہوں اور معاشی سرگرمیوں کا نقشہ تبدیل ہورہا ہو، وہاں کئی دہائیوں پرانے انتظامی ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے مقدس سمجھ لینا دانش مندی نہیں۔ نئے انتظامی یونٹس کا بنیادی مقصد کسی صوبے کی شناخت ختم کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ حکومت کا نظام چھوٹا، تیز، جواب دہ اور عوام دوست بنایا جائے۔ اگر ایک شہری کو اپنے بنیادی انتظامی مسئلے کے حل کے لیے سیکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑے تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ انتظامیہ عوام کے لیے ہے یا عوام انتظامیہ کے لیے؟
دنیا کے کئی ممالک نے انتظامی اکائیوں کی تشکیل میں وقت کے ساتھ تبدیلیاں کی ہیں۔ آبادی، جغرافیہ، معاشی سرگرمیوں اور شہری ضروریات میں تبدیلی کے ساتھ انتظامی حدود بھی تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر کسی علاقے کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، بڑے شہر نئے معاشی مراکز بن چکے ہیں اور دور دراز اضلاع کی ضروریات بدل چکی ہیں تو انتظامی نقشے پر نظرثانی ایک سنجیدہ قومی بحث ہونی چاہیے۔ یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ نیا انتظامی یونٹ بنانا اور نیا صوبہ بنانا ایک ہی چیز نہیں۔ انتظامی اصلاحات کا دائرہ صوبوں کے اندر نئے ڈویژن، اضلاع، ڈویژنل ہیڈکوارٹرز یا دیگر مؤثر یونٹس قائم کرنے تک بھی پھیل سکتا ہے۔ اگر سیاسی اتفاق رائے فوری طور پر نئے صوبوں کے قیام پر ممکن نہیں تو انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے آغاز کیا جاسکتا ہے۔
اس بحث کا سب سے اہم پہلو وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔ بڑے صوبوں میں اکثر یہ شکایت سامنے آتی ہے کہ ترقیاتی بجٹ اور سرکاری سہولتیں مخصوص بڑے شہروں تک محدود رہ جاتی ہیں جب کہ دور دراز علاقوں کو بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم، روزگار اور مواصلات کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل شفاف مالیاتی فارمولے کے ساتھ کی جائے تو وسائل کی منصوبہ بندی مقامی ضروریات کے مطابق بہتر انداز میں ہوسکتی ہے۔ لیکن صرف نئی حدود کھینچ دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اگر نئے یونٹ کے ساتھ وہی پرانا بیوروکریٹک کلچر، وہی کمزور احتساب، وہی سیاسی مداخلت اور وہی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جاری رہی تو نئے نام اور نئے نقشے عوام کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں دیں گے۔ انتظامی اصلاحات کے ساتھ اختیارات، وسائل اور احتساب تینوں کو مقامی سطح تک منتقل کرنا ہوگا۔
نئے انتظامی یونٹس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مقامی مسائل کی نشان دہی اور ان کے حل کا عمل تیز ہوجائے۔ ایک دور دراز ضلع میں بیٹھا افسر اگر اپنے علاقے کے مسائل کے حوالے سے براہ راست فیصلہ سازی کرسکے تو اسے ہر معاملے کے لیے صوبائی دارالحکومت کی طرف دیکھنے کی ضرورت کم ہوگی۔ اس سے وقت بھی بچے گا اور انتظامی اخراجات بھی کم ہوسکتے ہیں۔ زراعت، آب پاشی، صنعت، معدنیات اور تجارت کے حوالے سے بھی چھوٹے انتظامی یونٹس زیادہ مؤثر معاشی منصوبہ بندی کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔ ہر علاقے کی معاشی خصوصیات مختلف ہوتی ہیں۔ کہیں زراعت بنیادی طاقت ہے، کہیں صنعت، کہیں معدنی وسائل، کہیں ساحلی معیشت اور کہیں سیاحت۔ ایک ہی پالیسی پورے صوبے پر لاگو کرنے کے بجائے مقامی معاشی صلاحیت کے مطابق منصوبہ بندی زیادہ نتیجہ خیز ہوسکتی ہے۔ تاہم اس پورے عمل میں سب سے زیادہ احتیاط سیاسی تقسیم کے حوالے سے ضروری ہے۔ پاکستان پہلے ہی لسانی، علاقائی اور سیاسی حساسیتوں کا شکار رہا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس کو کسی قوم، زبان یا برادری کے خلاف منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا تو یہ اصلاحی عمل تنازع کا شکار ہوجائے گا۔ اس لیے اصول واضح ہونا چاہیے کہ انتظامی اکائی کی بنیاد عوامی ضرورت، جغرافیائی حقیقت، آبادی، معاشی صلاحیت اور انتظامی سہولت ہو، نہ کہ کسی مخصوص گروہ کو فائدہ یا نقصان پہنچانا۔
اس مقصد کے لیے ایک غیر جانب دار قومی کمیشن بھی تشکیل دیا جاسکتا ہے جو آبادی، رقبے، فاصلے، معاشی سرگرمیوں، سرکاری سہولتوں اور انتظامی اخراجات کی بنیاد پر ملک کے انتظامی ڈھانچے کا جائزہ لے۔ کمیشن اپنی سفارشات پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے سامنے رکھے اور عوامی مشاورت کے بعد حتمی فیصلے کیے جائیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہے۔ حقیقی اصلاح اس وقت ہوگی جب دُوردراز دیہی علاقوں کا شہری بھی محسوس کرے کہ ریاست اس کے قریب آگئی ہے۔ ضلعی اسپتال بہتر ہوں، اسکول فعال ہوں، زمینوں کا ریکارڈ شفاف ہو، پولیس تک رسائی آسان ہو، عدالتوں میں مقدمات تیزی سے چلیں اور سرکاری دفاتر شہریوں کے مسائل حل کرنے کے لیے جواب دہ ہوں۔
آج پاکستان کو محض نئے نقشوں کی نہیں بلکہ نئے طرز حکمرانی کی ضرورت ہے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس اس تبدیلی کا ذریعہ بنتے ہیں تو انہیں قومی ترقی کے منصوبے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اگر وہ صرف سیاسی طاقت کے نئے مراکز بنانے کا ذریعہ بنیں تو پھر عوام کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوگا۔ وقت آگیا ہے کہ اس بحث کو ’’صوبہ بنے گا یا نہیں‘‘ کے محدود سوال سے نکال کر ’’عوام کو بہتر حکومت کیسے ملے گی‘‘ کے بڑے سوال میں تبدیل کیا جائے۔ پاکستان کی اصل ضرورت ایسی ریاست ہے جہاں حکومت کا فاصلہ کم ہو، فیصلوں کی رفتار تیز ہو، وسائل کی تقسیم منصفانہ ہو اور حکمران ہر سطح پر عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔ نئے انتظامی یونٹس اگر اسی مقصد کے لیے بنائے جائیں تو یہ تقسیم نہیں، ریاست کو عوام کے قریب لانے کی ایک اہم اصلاح ثابت ہوسکتے ہیں۔