غلام مصطفیٰ
جمعۃ المبارک ہفتے کا صرف ایک دن نہیں بلکہ مسلمان کے لیے اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے، اپنی کوتاہیوں پر غور کرنے اور دل کی دنیا کو سنوارنے کا ایک خوبصورت موقع ہے۔ زندگی کی تیز رفتاری میں انسان بہت کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اکثر وہ چیز بھول جاتا ہے جس کے بغیر دنیا کی ہر کامیابی بے معنی ہوجاتی ہے اور وہ ہے دل کا سکون۔ ہم اپنے گھروں، لباس، کاروبار اور ظاہری شخصیت کو سنوارنے میں بہت وقت صرف کرتے ہیں، لیکن اپنے دل کی صفائی کے لیے کتنا وقت نکالتے ہیں؟ دل میں کسی کے لیے نفرت، حسد، تکبر، بدگمانی اور انتقام کا جذبہ موجود ہو تو انسان بظاہر کتنا ہی خوش حال کیوں نہ ہو، اندر سے بے سکون رہتا ہے۔ جمعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل خوبصورتی انسان کے چہرے میں نہیں، اس کے کردار میں ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ’’یاد رکھو! دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر ہی سے ہوتا ہے۔‘‘ یہ مختصر مگر عظیم حقیقت ہماری پوری زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔ انسان سکون کبھی دولت میں، کبھی شہرت میں اور کبھی دنیاوی تعلقات میں تلاش کرتا ہے، مگر حقیقی اطمینان اپنے رب کی یاد میں ملتا ہے۔ جمعہ کا دن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ نیکی ہمیشہ بڑی شکل میں نہیں آتی۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلا دینا، کسی پریشان شخص کی بات سن لینا، کسی ضرورت مند کی خاموشی سے مدد کردینا، کسی کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا یا کسی ناراض انسان کو معاف کردینا بھی نیکی ہے۔ بعض اوقات انسان کی ایک چھوٹی سی نیکی اللہ کے ہاں اس کی زندگی کا سب سے قیمتی عمل بن جاتی ہے۔
ہمیں اپنے معاشرے پر نظر ڈالنی چاہیے۔ ہمارے آس پاس ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو اپنی مشکلات کسی کو بتائے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ کوئی مالی پریشانی میں مبتلا ہے، کوئی بیماری سے لڑ رہا ہے، کوئی اولاد کے مستقبل کے لیے پریشان ہے، کوئی تنہائی کا شکار ہے اور کوئی اپنے ہی لوگوں کی بے اعتنائی کا دکھ سہہ رہا ہے۔ ایسے میں اگر ہم کسی کے لیے آسانی پیدا کرسکیں تو ہمیں ضرور کرنی چاہیے۔ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ انسانیت کے ساتھ حسنِ سلوک بھی دین کا بنیادی حصہ ہے۔ نماز ہمیں اللہ سے جوڑتی ہے اور اچھا اخلاق ہمیں اللہ کی مخلوق کے قریب کرتا ہے۔
جمعہ ہمیں معافی کا درس بھی دیتا ہے۔ بعض رشتے صرف اس لیے ٹوٹ جاتے ہیں کہ ہم اپنی انا کو اپنی محبت سے بڑا سمجھ لیتے ہیں۔ ایک جملہ، ایک غلط فہمی یا ایک معمولی اختلاف برسوں کی محبت ختم کردیتا ہے۔ اگر آج ہم کسی سے ناراض ہیں تو کیوں نہ اپنے دل سے یہ بوجھ اتار دیں؟ معاف کرنا کمزوری نہیں، بڑے دل کی علامت ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جن لوگوں کو ہم تکلیف پہنچاتے ہیں، شاید وہ خاموش رہیں، مگر ان کے دل کی آہ اللہ تک ضرور پہنچتی ہے۔ زبان سے نکلا ہوا ایک سخت جملہ کبھی کبھی ایسا زخم دے جاتا ہے جو برسوں نہیں بھرتا۔ اس لیے گفتگو میں نرمی اختیار کرنا بھی عبادت بن سکتا ہے۔ جمعہ کے دن درود و سلام کی کثرت ہمیں محبتِ رسول ﷺ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے تکلیف دینے والوں کے لیے بھی رحمت کا رویہ اختیار کیا، کمزوروں کا سہارا بنے، یتیموں سے شفقت فرمائی، غلاموں اور محتاجوں کے حقوق کی حفاظت کی اور انسان کو انسان کی عزت کرنا سکھایا۔ آج ہمیں اسی تعلیم کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ہمارے گھروں میں محبت کم اور غصہ زیادہ، معاشرے میں برداشت کم اور الزام زیادہ، تعلقات میں اخلاص کم اور مفاد زیادہ ہوتا جارہا ہے۔ اگر ہم واقعی سیرتِ نبوی ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اپنے کردار میں اس محبت کا عکس بھی دکھانا ہوگا۔
جمعہ کا دن ایک اور سوال بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے۔ اگر آج ہماری زندگی کا آخری جمعہ ہو تو کیا ہم مطمئن ہوں گے؟ کیا ہم نے اپنے والدین کا حق ادا کیا؟ کیا ہم نے کسی کا دل تو نہیں توڑا؟ کیا کسی کا حق ہمارے ذمے تو نہیں؟ کیا ہم نے کسی ضرورت مند کو نظرانداز تو نہیں کیا؟ کیا ہماری زبان سے کسی کی عزت مجروح تو نہیں ہوئی؟ یہ سوالات ہمیں خوف زدہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ بیدار کرنے کے لیے ہیں۔ زندگی بہت مختصر ہے۔ انسان کل کی منصوبہ بندی کرتے کرتے آج کو کھو دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ نیکی کے لیے ابھی بہت وقت ہے، معافی مانگنے کے لیے بعد میں موقع مل جائے گا، والدین کے ساتھ بیٹھنے کے لیے فرصت پھر مل جائے گی، کسی ضرورت مند کی مدد کل کرلیں گے۔ مگر کسی کو معلوم نہیں کہ اس کا ’’کل‘‘ کب ختم ہوجائے گا۔
اس لیے آج کا جمعہ ایک عہد کے ساتھ گزاریں۔ اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں، نماز کی پابندی کریں، قرآن کی تلاوت کریں، درود و سلام پڑھیں، والدین کے لیے دعا کریں، اپنے مرحومین کو یاد کریں، کسی ضرورت مند کی مدد کریں اور اپنے دل سے نفرت کا بوجھ کم کریں۔ یاد رکھیں، اللہ کے ہاں ہماری دولت، عہدہ اور شہرت نہیں بلکہ ہمارا ایمان، اخلاص اور اعمال اہم ہیں۔ ممکن ہے دنیا ہمیں معمولی انسان سمجھے، مگر ہماری کوئی خاموش نیکی اللہ کے ہاں ہمیں بہت بڑا مقام دے دے۔ آج جمعہ ہے۔ شاید کسی کے لیے یہ صرف کیلنڈر کا ایک دن ہو، مگر ایک مومن کے لیے یہ اپنے رب کی طرف دوبارہ لوٹنے کا موقع ہے۔ دل صاف کرلیجیے، نیت درست کرلیجیے، رشتے سنبھال لیجیے اور اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرلیجیے۔ کیونکہ دنیا کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ لوگ ہمیں کتنا جانتے ہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اللہ ہمیں کتنا پسند کرتا ہے۔