ماہ صفر سے متعلق غلط فہمیاں اور توہمات

اسد احمد

اسلام ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو ہر قسم کی توہم پرستی، بے بنیاد عقائد اور جھوٹے خوف سے آزاد کرتا ہے۔ اسلامی سال کے بارہ مہینوں میں سے ایک اہم مہینہ صفر بھی ہے، جس کے بارے میں معاشرے میں مختلف قسم کی غلط فہمیاں اور توہمات پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ اسے نحوست، بدقسمتی اور مصیبتوں کا مہینہ سمجھتے ہیں، حالانکہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس تصور کی کوئی حقیقت نہیں۔ ایک مسلمان کا ایمان اس بات پر ہوتا ہے کہ نفع و نقصان، خوشی و غم، صحت و بیماری اور کامیابی و ناکامی سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتی ہے، کسی مہینے، دن یا تاریخ کے اثر سے نہیں۔
رسول اکرم ﷺ نے زمانۂ جاہلیت کے ان تمام باطل عقائد کی نفی فرمائی جو لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ اسلام میں کسی مہینے کو بذاتِ خود منحوس قرار نہیں دیا گیا۔ اس تعلیم کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھے، اسباب اختیار کرے، نیک اعمال کرے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے امید وابستہ رکھے۔
صفر کا مہینہ دراصل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی آزمائشوں کا نام ہے۔ کبھی خوش حالی آتی ہے تو کبھی مشکلات، کبھی آسانیاں نصیب ہوتی ہیں تو کبھی سختیاں سامنے آتی ہیں۔ مگر ایک مومن کا امتیاز یہی ہے کہ وہ ہر حالت میں صبر اور شکر کا دامن تھامے رکھتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ انسانوں کو خوف، بھوک، مال، جان اور پھلوں کی کمی کے ذریعے آزماتا ہے اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنائی گئی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو انسان کو مضبوط بناتی اور مایوسی سے بچاتی ہے۔
بدقسمتی سے آج بھی بہت سے لوگ صفر کا چاند دیکھتے ہی پریشان ہوجاتے ہیں۔ کچھ لوگ نئے کاروبار، شادی بیاہ، سفر یا گھر کی تعمیر جیسے کام مؤخر کردیتے ہیں۔ بعض افراد مختلف عملیات، تعویذ یا غیر شرعی رسوم کا سہارا لیتے ہیں تاکہ کسی فرضی نحوست سے بچ سکیں۔ ایک سچا مسلمان جانتا ہے کہ حفاظت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر بندہ اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھے، نماز قائم کرے، دعا کرے، صدقہ دے اور حلال رزق کمائے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے خیر کے راستے کھول دیتا ہے۔
صفر ہمیں ایک اور اہم سبق بھی دیتا ہے کہ زندگی مختصر ہے اور ہر آنے والا دن ہمیں اپنی آخرت کی تیاری کی یاد دلاتا ہے۔ ہم اکثر دنیاوی مصروفیات میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ اپنی اصل منزل کو بھول جاتے ہیں۔ یہ مہینہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اپنی غلطیوں پر توبہ کریں، دوسروں کے حقوق ادا کریں، والدین کی خدمت کریں، رشتہ داروں سے تعلقات بہتر بنائیں اور معاشرے میں محبت، اخوت اور خیرخواہی کو فروغ دیں۔
اگر ہم اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مہینوں میں خوشی اور غم دونوں طرح کے واقعات پیش آئے، لیکن کسی بھی مہینے کو مستقل طور پر منحوس قرار نہیں دیا گیا۔ اسلام انسان کو مثبت سوچ، امید اور عمل کا درس دیتا ہے۔ مایوسی، خوف اور وہم شیطان کے ہتھیار ہیں جب کہ امید، توکل اور دعا مومن کی طاقت ہیں۔
صفر کے مہینے میں ہمیں اپنی عبادات میں اضافہ کرنا چاہیے۔ پانچ وقت نماز کی پابندی، قرآن کریم کی تلاوت، درود شریف کی کثرت، استغفار، صدقہ و خیرات اور محتاجوں کی مدد انسان کے دل کو سکون عطا کرتی ہے۔ جب انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے تو اس کے دل سے ہر قسم کا خوف نکل جاتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ جو فیصلہ اللہ تعالیٰ کرے گا، اسی میں اس کی بھلائی ہے، چاہے وہ اس کی حکمت کو فوراً سمجھ نہ سکے۔
آج کے دور میں نوجوان خاص طور پر ذہنی دباؤ، بے روزگاری، مہنگائی اور مختلف مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ ایسے حالات میں صفر کا مہینہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، امید کا دامن کبھی نہ چھوڑو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ اللہ کی رحمت سے صرف گمراہ لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر مشکل کے بعد آسانی کا یقین رکھنا مومن کی شان ہے۔ ناکامی اگر آج ملی ہے تو ممکن ہے کل کامیابی آپ کے دروازے پر دستک دے رہی ہو۔ شرط صرف یہ ہے کہ انسان محنت، دعا اور صبر کو اپنا شعار بنائے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تقدیر پر ایمان کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں بلکہ بھرپور کوشش کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ پہلے اونٹ کو باندھو، پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔ یعنی اسباب اختیار کرنا بھی ایمان کا حصہ ہے۔ اگر ہم اپنی ذمے داریاں پوری کریں، دیانت داری سے محنت کریں، حلال ذرائع اختیار کریں اور اللہ سے مدد مانگتے رہیں تو ان شاء اللہ کامیابی ضرور ملے گی۔
صفر کا اصل پیغام یہی ہے کہ انسان اپنے دل سے ہر قسم کی توہم پرستی نکال دے، اپنے ایمان کو مضبوط کرے، اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرے اور مثبت انداز میں زندگی گزارے۔ یہ خوف کا نہیں بلکہ ایمان کی تجدید کا مہینہ ہے۔ اگر ہم اپنے کردار کو بہتر بنالیں، سچائی، امانت، عدل اور رحم دلی کو اپنا شعار بنالیں تو ہماری زندگی کے ہر دن میں برکت پیدا ہو سکتی ہے۔
آئیے اس صفر میں عہد کریں کہ ہم کسی بھی بے بنیاد عقیدے کو اپنی زندگی پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔ ہم اپنے بچوں کو بھی یہی تعلیم دیں گے کہ کامیابی یا ناکامی کسی مہینے کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت، ہماری نیت، محنت اور اعمال سے وابستہ ہے۔ ہم اپنے گھروں میں قرآن کی روشنی، نماز کی پابندی، دعا، استغفار اور اخلاقِ حسنہ کو فروغ دیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ہماری زندگیوں میں سکون، برکت اور رحمت نازل فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ، مضبوط ایمان، نیک اعمال اور ہر حال میں اپنی ذات پر کامل بھروسہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)۔