محنت، توکل اور کامیابی

بلال ظفر سولنگی

شہر کے ایک خاموش سے محلے میں زریاب نام کا نوجوان رہتا تھا۔ عمر زیادہ نہیں تھی، مگر زندگی نے اسے وقت سے پہلے بڑا کردیا تھا۔ والد کا انتقال ہوچکا تھا، گھر میں بیمار ماں اور دو چھوٹی بہنیں تھیں۔ زریاب صبح ایک چھوٹی سی دکان پر کام کرتا اور رات کو تھکے ہوئے جسم کے ساتھ گھر لوٹتا۔ اس کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ وہ اپنا کاروبار شروع کرے تاکہ گھر کے حالات بدل سکے۔
کئی سال کی معمولی معمولی بچت کے بعد اس نے کچھ رقم جمع کی اور محلے میں موبائل ایکسیسریز کی چھوٹی سی دکان کھول لی۔ پہلے دن اس نے دکان کا شٹر اٹھایا تو اس کی آنکھوں میں خواب تھے۔ وہ دل ہی دل میں بولا: "یااللہ! میرے اس چھوٹے سے کام میں برکت عطا فرما۔”
مگر شاید آزمائش ابھی باقی تھی۔ دکان کھلنے کے چند ہی ہفتے بعد بازار میں آگ لگ گئی۔ کئی دکانیں جل گئیں اور زریاب کی دکان بھی خاکستر ہوگئی۔ اس کی جمع پونجی، سامان، خواب، سب کچھ ایک رات میں ختم ہوگیا۔ زریاب کئی گھنٹے جلی ہوئی دکان کے سامنے بیٹھا رہا۔ ایک دوست نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: "اب کیا کرو گے؟” زریاب نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اس رات وہ گھر آیا تو ماں جاگ رہی تھی۔ اس نے بیٹے کا چہرہ دیکھا اور سمجھ گئی کہ کچھ بہت برا ہوا ہے۔ زریاب نے آہستہ سے کہا: "امی… سب ختم ہوگیا۔” ماں نے قرآن مجید ایک طرف رکھا اور بیٹے کے پاس بیٹھ گئی۔ "بیٹا، سب ختم نہیں ہوا۔”
زریاب نے حیرت سے دیکھا۔ ماں بولی: "دکان گئی ہے، تم نہیں گئے۔ پیسہ گیا ہے، تمہاری محنت نہیں گئی۔ سامان جل گیا ہے، تمہاری ہمت ابھی زندہ ہے۔” زریاب خاموش رہا۔
ماں نے کہا: "اور یاد رکھو، اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔” یہ الفاظ زریاب کے دل میں اتر گئے۔
اگلی صبح وہ دوبارہ جلی ہوئی دکان کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کے پاس سرمایہ نہیں تھا، مگر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ شکست کو اپنی آخری منزل نہیں بنائے گا۔ اس نے ایک پرانی سائیکل نکالی اور موبائل ایکسیسریز کے چند سامان کا چھوٹا سا بیگ خریدا۔ اب وہ دکان کے بجائے گلی گلی جاکر سامان فروخت کرنے لگا۔ لوگ ہنستے تھے۔ کوئی کہتا: "دکان جل گئی تو اب سائیکل پر کاروبار کرو گے؟” کوئی مذاق اڑاتا: "یہ بھی کوئی کاروبار ہے؟”
زریاب مسکراکر جواب دیتا: "کاروبار چھوٹا ہوسکتا ہے، محنت نہیں۔” دن گزرتے گئے۔
کبھی اسے پورے دن میں صرف دو سو روپے کا فائدہ ہوتا، کبھی کچھ بھی نہیں ملتا۔ کئی مرتبہ وہ خالی ہاتھ گھر لوٹتا، مگر نماز کے بعد اللہ سے ایک ہی دعا کرتا: "یااللہ! مجھے حلال رزق دے اور میری محنت میں برکت دے۔”
ایک دن ایک بزرگ اس کے پاس آئے۔ انہوں نے اس کے بیگ سے سامان خریدا اور پوچھا: "بیٹا، دکان کیوں نہیں کھولتے؟” زریاب نے مسکرا کر کہا: "پہلے دکان تھی، اب سائیکل ہے۔”
بزرگ نے پوچھا: "اور کل؟” زریاب نے آسمان کی طرف دیکھا: "کل اللہ بہتر کرے گا۔”
بزرگ نے اسے غور سے دیکھا اور کہا: "تمہیں معلوم ہے، رزق صرف پیسے کا نام نہیں۔ کبھی اللہ پہلے انسان کو حوصلہ دیتا ہے، پھر راستہ دیتا ہے، پھر رزق دیتا ہے۔” زریاب نے یہ بات دل میں بٹھالی۔
کچھ عرصے بعد اس کی محنت کی خبر ایک بڑے موبائل ڈیلر تک پہنچی۔ اس نے زریاب کو اپنے ساتھ کام کی پیشکش کی۔ زریاب نے دن رات محنت کی اور چند سال میں وہی نوجوان، جس کی دکان ایک رات میں جل گئی تھی، شہر کا ایک کامیاب کاروباری بن گیا۔ لیکن کامیابی نے اسے بدلنے کے بجائے اور عاجز کردیا۔
اس نے سب سے پہلے اپنی ماں کے لیے ایک آرام دہ گھر خریدا، بہنوں کی تعلیم مکمل کروائی اور پھر اپنے محلے کے ان نوجوانوں کے لیے ایک چھوٹا سا مرکز قائم کیا جو کاروبار شروع کرنا چاہتے تھے مگر سرمایہ نہیں رکھتے تھے۔ ایک دن اس مرکز میں ایک نوجوان آیا۔ اس نے کہا: "میرے پاس پیسے نہیں، میں کیا کرسکتا ہوں؟”
زریاب کچھ لمحے خاموش رہا، پھر مسکرایا۔ "میرے پاس بھی کبھی کچھ نہیں تھا۔” نوجوان نے حیرت سے پوچھا: "پھر آپ یہاں تک کیسے پہنچے؟”
زریاب نے جواب دیا: "میں نے اپنی ناکامی کو فیصلہ نہیں بننے دیا۔” پھر اس نے قرآن کی ایک آیت کا مفہوم بیان کیا: "اللہ کسی جان کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔”
نوجوان خاموش ہوگیا۔ زریاب نے کہا: "بیٹا، زندگی میں دروازے بند ہوں تو ہر بار یہ مت سمجھنا کہ اللہ نے تمہیں چھوڑ دیا ہے۔ کبھی کبھی ایک دروازہ اس لیے بند ہوتا ہے کہ تمہیں اس راستے پر لے جایا جائے جہاں تمہاری منزل لکھی ہے۔”
وہ نوجوان چلا گیا، مگر زریاب دیر تک اسے دیکھتا رہا۔ اسے اپنی جلی ہوئی دکان یاد آگئی۔ وہی دکان جسے کبھی وہ اپنی زندگی کا اختتام سمجھ بیٹھا تھا۔ آج اسے احساس تھا کہ وہ اختتام نہیں تھا۔ وہ اس کی نئی زندگی کا پہلا صفحہ تھا۔
زندگی میں مشکلات ضرور آئیں گی۔ کبھی پیسہ ختم ہوگا، کبھی راستے بند ہوں گے، کبھی لوگ مذاق اڑائیں گے اور کبھی انسان خود اپنے آپ سے ہارنے لگے گا۔ مگر یاد رکھیے: اللہ پر بھروسہ، حلال محنت اور صبر، یہ تین چیزیں انسان کو وہاں پہنچاسکتی ہیں جہاں صرف خواب بھی نہیں پہنچ پاتے۔ اس لیے اگر آج آپ کی زندگی میں کوئی دروازہ بند ہے تو مایوس نہ ہوں۔ ممکن ہے… اللہ آپ کے لیے اس سے کہیں بہتر دروازہ کھولنے والا ہو۔