پاکستان کیلئے عالمی اعزاز: ڈاکٹر عمیر ہارون ایشین اکیڈمی کری ایٹو ایوارڈز کے جیوری ممبر مقرر

کراچی: پاکستان کی تخلیقی صلاحیتوں کے عالمی سطح پر اعتراف میں ایک اور اہم سنگ میل اس وقت عبور ہوا جب معروف پروڈیوسر، ہدایت کار، میڈیا ایگزیکٹو اور صدر میٹرو وَن نیوز ڈاکٹر عمیر ہارون کو ایشین اکیڈمی آف کری ایٹو آرٹس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے باوقار ایشین اکیڈمی کری ایٹو ایوارڈز کی جیوری کا رکن مقرر کردیا گیا۔
ایشین اکیڈمی آف کری ایٹو آرٹس کے صدر مائیکل میکے کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ خط میں ڈاکٹر عمیر ہارون کی بطور جیوری رکن شمولیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی رجسٹریشن کی تصدیق کی گئی ہے۔
ڈاکٹر عمیر ہارون رواں برس ایوارڈز کے نیشنل راؤنڈ (اگست کے وسط سے 7 ستمبر تک) اور انٹرنیشنل راؤنڈ (ستمبر کے آخر سے 23 اکتوبر تک) میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے فیصلوں میں حصہ لیں گے۔ ایشین اکیڈمی کری ایٹو ایوارڈز ایشیا پیسیفک خطے کے معتبر ترین اعزازات میں شمار ہوتے ہیں، جہاں 17 ممالک میں ٹیلی ویژن، فلم، ڈیجیٹل اور ابھرتے ہوئے میڈیا کے شعبوں میں غیر معمولی تخلیقی کام، کہانی نویسی اور میڈیا پروڈکشن کو سراہا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عمیر ہارون کی یہ تقرری عالمی میڈیا انڈسٹری میں ان کے بڑھتے ہوئے وقار کا ایک اور ثبوت ہے۔ وہ اس وقت انٹرنیشنل اکیڈمی آف ٹیلی ویژن آرٹس اینڈ سائنسز (IATAS) کے واحد پاکستانی رکن ہیں اور 2026 کے انٹرنیشنل ایمی ایوارڈز کی جیوری میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ رواں سال نومبر میں نیویارک میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل ایمی ایوارڈز کی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔
طب اور فارنزک سائنس کا پس منظر رکھنے والے ڈاکٹر عمیر ہارون اب تک 200 سے زائد نمایاں میڈیا منصوبے پروڈیوس اور ڈائریکٹ کرچکے ہیں۔ انہیں پاکستان کی پہلی فارنزک سائنس پر مبنی ٹیلی ویژن سیریز متعارف کرانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ وہ اس وقت میٹرو وَن نیوز کے صدر اور وائس آف سندھ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
میڈیا اور تخلیقی شعبے میں ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد قومی اعزازات سے نوازا جاچکا ہے، جن میں ستارۂ پاکستان ایوارڈ برائے بہترین پروڈیوسر بھی شامل ہے۔
ڈاکٹر عمیر ہارون کی مسلسل عالمی سطح پر اہم ذمے داریوں پر تقرری نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی کا مظہر ہے، بلکہ یہ پاکستان کی تخلیقی صلاحیتوں، معیاری کہانی نویسی اور میڈیا پروڈکشن کے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے وقار کی بھی عکاسی کرتی ہے۔