کوشش ہی کامیابی ہے

وقاص بیگ

بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں برس رہی تھیں۔ شہر کی ایک تنگ گلی میں واقع چھوٹے سے کرائے کے کمرے میں ارسلان خاموش بیٹھا چھت کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے سامنے نوکریوں کے مسترد شدہ خطوط کا ڈھیر پڑا تھا۔ گزشتہ تین برسوں میں وہ درجنوں امتحانات دے چکا تھا، سیکڑوں درخواستیں بھیج چکا تھا، مگر ہر بار جواب ایک ہی آتا تھا: "آپ منتخب نہیں ہوئے۔” گھر والوں نے امید لگائی ہوئی تھی کہ ارسلان ایک دن کامیاب ہوگا، مگر مسلسل ناکامیوں نے اس کے اندر کا اعتماد توڑ دیا تھا۔ اس کے دوست اچھی ملازمتوں پر لگ چکے تھے، کچھ نے کاروبار شروع کرلیا تھا اور کچھ بیرونِ ملک جاچکے تھے۔ سوشل میڈیا پر سب کی کامیابیاں دیکھ کر وہ خود کو ناکام ترین انسان سمجھنے لگا۔
ایک رات اس نے فیصلہ کیا کہ اب مزید کوشش نہیں کرے گا۔ اس نے اپنی تمام فائلیں بند کیں، کتابیں الماری میں رکھ دیں اور دل ہی دل میں ہار مان لی۔ اسی رات بجلی چلی گئی۔ گرمی سے بے حال ہوکر وہ کمرے سے باہر نکل آیا۔ سامنے والی مسجد کے صحن میں ایک بزرگ جھاڑو لگا رہے تھے۔ ارسلان نے حیرت سے پوچھا، "بابا جی، آپ اس عمر میں بھی یہ سب کام کیوں کرتے ہیں؟”
بزرگ مسکرائے اور بولے، "بیٹا، جب تک سانس چل رہی ہے، کوشش بھی چلنی چاہیے۔” یہ ایک سادہ سا جملہ تھا، مگر ارسلان کے دل میں اتر گیا۔
بزرگ نے اسے اپنے پاس بٹھایا اور کہا، "میں جوانی میں درزی تھا۔ میری دکان تین بار جل گئی۔ ہر بار لوگوں نے کہا کہ اب ختم ہوگیا، مگر میں نے دوبارہ آغاز کیا۔ آج میرے بیٹے کامیاب ہیں، لیکن اگر میں پہلی یا دوسری ناکامی پر ہار مان لیتا تو شاید آج کچھ بھی نہ ہوتا۔”
ارسلان خاموشی سے سنتا رہا۔ بزرگ نے جیب سے ایک بیج نکالا اور اس کی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے کہا، "اسے دیکھو۔ اگر یہ بیج مٹی میں دفن ہونے سے ڈر جائے تو کبھی درخت نہیں بن سکتا۔ اندھیرا، مٹی اور بارش اس کی آزمائش ہیں، سزا نہیں۔” یہ الفاظ ارسلان کی زندگی بدلنے لگے۔
اگلے دن اس نے دوبارہ اپنی کتابیں نکالیں۔ اس بار اس نے صرف نوکری تلاش کرنے کے بجائے نئی مہارتیں سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ صبح جلدی اٹھتا، ورزش کرتا، قرآن کی چند آیات پڑھتا، پھر پورے انہماک سے مطالعہ کرتا۔ شام کو انٹرنیٹ سے نئی چیزیں سیکھتا اور اپنی کمزوریوں پر کام کرتا۔ پہلے مہینے بھی کوئی کامیابی نہ ملی۔ دوسرے مہینے بھی حالات ویسے ہی رہے۔ تیسرے مہینے بھی کئی جگہوں سے انکار آیا۔ مگر اس بار فرق یہ تھا کہ وہ ٹوٹا نہیں۔
وہ ہر ناکامی کے بعد خود سے کہتا، "یہ صرف ایک جواب ہے، میری قسمت کا آخری فیصلہ نہیں۔” 6 ماہ بعد اسے ایک انٹرویو کال آئی۔ انٹرویو اچھا ہوا، مگر پھر بھی انتخاب نہ ہوسکا۔ گھر آکر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے، مگر اس نے ہار نہیں مانی۔
اسی کمپنی کے ایک افسر نے اسے فون کیا اور کہا، "ہم نے آپ کو منتخب نہیں کیا، لیکن آپ میں سیکھنے کا جذبہ دیکھا ہے۔ اپنی مہارت مزید بہتر کریں، پھر ضرور آئیں۔”
یہ پہلا موقع تھا جب کسی نے اس کی خامی کے ساتھ اس کی خوبی بھی بتائی تھی۔ اس نے مزید محنت شروع کردی۔ ایک سال مکمل ہونے کے بعد اسے ایک معروف ادارے سے انٹرویو کی کال آئی۔ اس بار اس نے اعتماد سے سوالات کے جواب دیے۔ انٹرویو لینے والے اس کی دیانت داری، محنت اور مسلسل سیکھنے کے جذبے سے متاثر ہوئے۔ چند دن بعد جب فون آیا تو دوسری طرف سے آواز سنائی دی: "مبارک ہو، آپ منتخب ہوگئے ہیں۔”
ارسلان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ اس نے سب سے پہلے سجدۂ شکر ادا کیا، پھر اسی مسجد پہنچا جہاں وہ بزرگ ملا کرتے تھے۔ لیکن وہاں معلوم ہوا کہ بزرگ چند ماہ پہلے اس دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔ ارسلان دیر تک مسجد کے صحن میں بیٹھا رہا۔ اسے محسوس ہوا جیسے وہ آواز آج بھی گونج رہی ہو: "جب تک سانس چل رہی ہے، کوشش بھی چلنی چاہیے۔”
چند سال بعد ارسلان خود ایک کامیاب افسر بن چکا تھا۔ وہ ہر سال نوجوانوں سے ملاقات کرتا اور اپنی کہانی سناتا۔ وہ ہمیشہ اپنی تقریر کے آخر میں ایک بیج جیب سے نکال کر سب کو دکھاتا اور کہتا: "یہ صرف بیج نہیں، امید کی علامت ہے۔ یاد رکھو، اللہ تعالیٰ کسی محنت کرنے والے کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ کامیابی اکثر اُس شخص کے دروازے پر دستک دیتی ہے جو آخری لمحے تک ہار ماننے سے انکار کرتا ہے۔”
اس کی بات سن کر کئی نوجوان دوبارہ اپنے خوابوں کی طرف لوٹے۔ کسی نے تعلیم مکمل کی، کسی نے کاروبار شروع کیا اور کسی نے زندگی کی نئی شروعات کی۔
سبق: زندگی میں ناکامی اختتام نہیں بلکہ کامیابی کی تیاری ہوتی ہے۔ اگر انسان اللہ پر بھروسہ، اپنے مقصد پر یقین اور مسلسل محنت کو اپنا ساتھی بنا لے تو ناممکن راستے بھی آسان ہوجاتے ہیں۔ ہار صرف اسی شخص کی ہوتی ہے جو کوشش چھوڑ دیتا ہے جبکہ ڈٹے رہنے والا ایک دن ضرور کامیاب ہوتا ہے۔