رحمتِ مصطفیٰ ﷺ سے روشن دنیا

اسد احمد

ربیع الاول وہ مبارک مہینہ ہے، جس سے وابستہ سب سے عظیم یاد دنیا کی اس ہستی کی تشریف آوری ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کے بارے میں فرمایا (ترجمہ): ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔
12 ربیع الاول مسلمانوں کے لیے محض تاریخ کا ایک دن نہیں، بلکہ اس عظیم انقلاب کی یاد ہے جس نے انسانی تہذیب، اخلاق، معاشرت اور فکر کو نئی سمت عطا کی۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی آمد ایسے دور میں ہوئی جب عرب معاشرہ جہالت، قبائلی عصبیت، ظلم، ناانصافی اور اخلاقی پستی میں گھرا ہوا تھا۔ طاقتور کمزور کو دبا دیتا تھا، بیٹی کی پیدائش کو باعثِ عار سمجھا جاتا تھا، غلاموں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک نہیں کیا جاتا تھا اور معاشرے میں طبقاتی تفریق گہری تھی۔ ایسے ماحول میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا اور انسانیت کو وہ پیغام عطا کیا جس کی بنیاد توحید، عدل، رحمت، مساوات، امانت، صداقت اور حسنِ اخلاق پر تھی۔
حضور اکرم ﷺ کی آمد نے انسان کو سب سے پہلے اس کی اصل پہچان عطا کی۔ آپ ﷺ نے انسان کو بتلایا کہ عزت دولت، رنگ، نسل، قبیلے یا طاقت سے نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار سے ہے۔ آپ ﷺ نے ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی، جہاں غلام بھی عزت کا مستحق تھا، یتیم بھی معاشرے کی ذمے داری تھا، عورت بھی حقوق رکھتی تھی اور کمزور بھی انصاف کی امید رکھ سکتا تھا۔
رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا سب سے نمایاں پہلو رحمت ہے۔ آپ ﷺ نے صرف اپنے ماننے والوں کے ساتھ نہیں بلکہ تمام انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا درس دیا۔ دشمنوں کے لیے بھی عفو و درگزر کا مظاہرہ کیا، یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھنے کی تلقین فرمائی، پڑوسی کے حقوق بیان کیے اور تجارت سے لے کر خاندانی زندگی تک ہر شعبے میں دیانت و انصاف کو بنیادی اصول قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی تعلیمات نے صرف عرب کے ایک خطے کو نہیں بدلا بلکہ پوری دنیا کی تاریخ پر اثر ڈالا۔ ایک ایسا معاشرہ جو قبائلی عصبیت میں بٹا ہوا تھا، چند ہی برسوں میں اخوت، مساوات اور اجتماعی ذمے داری کی مثال بن گیا۔ نبی کریم ﷺ نے انسان کو یہ بھی سمجھایا کہ عبادت صرف چند مذہبی اعمال کا نام نہیں بلکہ انسان کے کردار کی اصلاح بھی دین کا بنیادی مقصد ہے۔ نماز انسان کو برائی سے روکتی ہے، روزہ تقویٰ پیدا کرتا ہے، زکوٰۃ معاشرے کے محروم طبقات کا سہارا بنتی ہے اور حج پوری امت کے درمیان مساوات اور اتحاد کا منظر پیش کرتا ہے۔
آپ ﷺ نے علم کی اہمیت اجاگر کی۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں تعلیم عام نہ تھی، اسلام نے علم کو غیر معمولی مقام عطا کیا۔ قرآنِ کریم کی پہلی وحی ہی اقْرَأْ یعنی پڑھنے کے حکم سے شروع ہوئی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ انسان کی حقیقی ترقی جہالت میں نہیں بلکہ علم، شعور اور ہدایت میں ہے۔ حضور ﷺ کی تشریف آوری نے عورت کے مقام کو بھی نئی بلندی عطا کی۔ بیٹی کو رحمت قرار دیا گیا، ماں کے مقام کو عظیم مرتبہ دیا گیا، بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی گئی اور عورت کے مالی و معاشرتی حقوق واضح کیے گئے۔ یہ انسانی معاشرے میں ایک بنیادی اخلاقی انقلاب تھا۔
آپ ﷺ نے حکمرانی اور قیادت کے لیے بھی ایک عظیم اصول دیا کہ اقتدار خدمت ہے، مراعات نہیں، ذمے داری ہے، برتری نہیں۔ مدینہ کی ریاست میں مختلف مذاہب اور قبائل کے لوگوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا اور باہمی ذمے داریوں کا ایک منظم تصور سامنے آیا۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اسلامی معاشرت انصاف اور ذمے داری کے اصولوں پر قائم ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا ایک اور روشن پہلو معاف کرنا ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر وہ لوگ آپ ﷺ کے سامنے تھے جنہوں نے آپ ﷺ اور صحابہ کرامؓ پر ظلم کیا، وطن سے نکالا، جنگیں مسلط کیں اور بے شمار تکالیف پہنچائیں۔ لیکن فتح کے وقت انتقام کے بجائے عفو و درگزر کا راستہ اختیار کیا گیا۔ یہ دنیا کو پیغام تھا کہ حقیقی طاقت دشمن کو کچلنے میں نہیں بلکہ معاف کرنے کی استطاعت میں بھی ہوتی ہے۔
آج جب دنیا ایک مرتبہ پھر جنگ، نفرت، تعصب، معاشی ناہمواری، اخلاقی بحران اور ذہنی بے سکونی کا شکار ہے، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اگر انسانیت آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے رہنمائی حاصل کرے تو نفرت کی جگہ محبت، ظلم کی جگہ انصاف، تکبر کی جگہ عاجزی اور خود غرضی کی جگہ ایثار پیدا ہوسکتا ہے۔ 12 ربیع الاول ہمیں صرف چراغاں، محافل اور نعت خوانی کی یاد نہیں دلاتا بلکہ یہ سوال بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ کیا ہماری زندگیوں میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا کوئی حقیقی عکس موجود ہے؟ اگر ہم حضور ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں اپنے معاملات میں سچائی پیدا کرنا ہوگی، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا ہوگا، پڑوسی کے حقوق ادا کرنے ہوں گے، کمزور کا سہارا بننا ہوگا، یتیم اور محتاج کا خیال رکھنا ہوگا اور اپنے دل کو نفرت، تکبر اور حسد سے پاک کرنا ہوگا۔ عید میلاد النبی ﷺ کی خوشی کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ ہم حضور اکرم ﷺ کی آمد کو اپنی زندگیوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔ گھروں کو چراغوں سے روشن کرنے کے ساتھ دلوں کو بھی اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ سے روشن کریں۔ زبان پر درود ہو تو کردار میں بھی رحمت ہو، محفل میں ذکرِ رسول ﷺ ہو تو معاملات میں بھی سنتِ رسول ﷺ نظر آئے۔
رسول اللہ ﷺ کی آمد دراصل انسانیت کے لیے امید کی آمد تھی۔ آپ ﷺ نے بھٹکتی ہوئی دنیا کو ہدایت کا راستہ دکھایا، مظلوم کو آواز دی، کمزور کو حق دیا، انسان کو انسان کی عزت سکھائی اور زندگی کو مقصد عطا کیا۔ آج بھی اگر دنیا امن چاہتی ہے، معاشرہ انصاف چاہتا ہے، خاندان سکون چاہتے ہیں اور انسان اپنی حقیقی عزت بحال کرنا چاہتا ہے تو اسے سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ 12 ربیع الاول ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ رحمتِ عالم ﷺ کی آمد صرف تاریخ کا واقعہ نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے ایک دائمی روشنی ہے۔ اس روشنی سے جو دل اور معاشرہ جتنا فیض پائے گا، اتنا ہی بہتر، پُرامن اور انسان دوست بنتا جائے گا۔